جرمنی کوسوو امن مشن کے لیے مزید فوجی بھیجے گا
22 اپریل 2012
جرمنی کی وزارت دفاع نے ہفتے کو کہا کہ نیٹو کی KFOR (کوسوو آپریشنل ریزرو فورس) امن فورس کی درخواست پر ساڑھے پانچ سو فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ آسٹریا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس فورس کے لیے ڈیڑھ سو فوجی بھیجے جائیں گے۔
جرمن وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا: ’’نیٹو اور یورپی یونین کے جائزے کے مطابق انتخابات کے دوران کوسوو بھر میں ممکنہ سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے وہاں اس وقت موجود امن فوج ناکافی ہو سکتی ہے۔
کوسوو کے لیے یورپی یونین کے امن مشن EULEX کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ ہفتوں میں کوسوو کے شمال میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور نیٹو کی سربراہی میں قائم امن مشن کی جانب سے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
کوسوو آپریشنل ریزرو فورس کے تحت وہاں انتیس ملکوں کے چھ ہزار دو سو فوجی تعینات ہیں۔ اس مشن کی کمانڈ جرمنی کے پاس ہے۔ کوسوو امن مشن میں جرمنی کے پہلے ہی تیرہ سو فوی شامل ہیں۔
جرمنی اور آسٹریا کے ان اضافی فوجیوں کی تعیناتی یکم مئی سے شروع ہو جائے گی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے جرمن ہفت روزہ شپیگل کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمنی اور آسٹریا کے اضافی فوجیوں کی تعیناتی عارضی طور پر ہو گی۔
سربیا نے حال ہی عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنے سابق صوبے کو آئندہ ماہ کے بلدیاتی، پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں شامل کرے گا۔ بلغراد کی جانب سے اس اعلان پر کوسوو کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
کوسوو کے شمال میں آباد سرب اقلیت سربیا کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن کوسوو حکام اس عمل کو ناقابلِ قبول خیال کرتے ہیں اور اس کے خلاف ’ہر طرح کی قانونی فورس‘ کے استعمال کے لیے خبردار کر چکے ہیں۔
کوسوو نے 2008ء میں سربیا سے آزادی کا اعلان کیا تھا، تاہم بلغراد حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔ تاہم کوسوو پر اپنی رویے میں نرمی پر سربیا مارچ میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے امیدوار بن گیا تھا۔ اس پر کوسوو کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یورپی یونین کا دباؤ ہے۔
ng/ia (Reuters, AFP)