جرمنی کی بليو کارڈ اسکيم: غير ملکی آنا چاہيں گے؟
3 اگست 2012
اس طرح جرمنی کی صنعت اور معيشت ميں تعليم يافتہ افراد کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ليکن کيا يہ غير ملکی جرمنی آنا بھی چاہتے ہيں؟
جب بھارتی طلبا سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ تعليم مکمل کرنے کے بعد دنيا کے کس ملک ميں ملازمت کرنا پسند کريں گے تو وہ بہت سے ممالک کے نام گنوانے لگتے ہيں۔ ايک طالبعلم نے کہا:’’ميں امريکہ، آسٹريليا يا لندن جانا چاہوں گا۔‘‘
نئی دہلی ميں طلبا کے منہ سے جرمنی کا نام بہت کم ہی سننے ميں آتا ہے۔ يورپی معيشت کی گاڑی کو کھينچنے والے انجن جرمنی کی بھارتی ذہن ميں کوئی خاص اہميت نظر نہيں آتی:’’مجھے جرمنی کے بارے میں کچھ زيادہ معلوم نہيں ہے۔‘‘
اس سلسلے ميں ايک رکاوٹ تو زبان کی وجہ سے ہے۔ جن ممالک ميں انگلش کا رواج ہے وہاں کے نوجوان ان ممالک ميں خود کو اچھا محسوس کرتے ہيں جہاں انگلش بولی جاتی ہے۔ ليکن بھارت ميں بہت سے لوگ جرمنی ميں غير ملکيوں سے پائی جانے والی نفرت کو بھی ايک رکاوٹ سمجھتے ہيں۔ اس کے علاوہ خاص طور پر بھارت کے متوسط طبقے ميں اپنے ملک کی اقتصادی قوت پر بھرپور اعتماد پايا جاتا ہے:’’ميں بھارت ہی ميں رہنا چاہتا ہوں۔ يہاں کافی امکانات ہيں۔ اگر ميں کسی دوسرے ملک جاؤں تو ميں اپنے ملک کی نہيں بلکہ اُس ملک کی خدمت کروں گا۔‘‘
بہت سے دوسرے بھارتی نوجوانوں کی سوچ بھی يہی ہے۔ پريا حيدر آباد کی ايک کمپيوٹر فرم ميں اچھی تنخواہ پر ملازمت کرتی ہيں۔ وہ اس قسم کے افراد ميں شامل ہيں جن کی جرمنی کے تجارتی صنعتی اداروں کو ضرورت ہے۔ ليکن پريا نے کہا کہ ان کے ليے بھارت ہی بہتر ہے کيونکہ اپنے وطن میں انہيں تمام امکانات مہيا ہيں اور اس کے علاوہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہ سکتی ہيں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہميشہ اُن کا پہلا انتخاب رہے گا۔
اس ليے يہ سوچنا غلط ہو گا کہ کمپيوٹر کے بھارتی ماہرين جن کی جرمنی کو سخت ضرورت ہے، بليو کارڈ اسکيم شروع ہوتے ہی جرمنی ميں موج در موج امڈ آئيں گے۔ ليکن ايسا بھی نہيں ہے کہ بھارت ميں جرمنی آنے کی بالکل ہی کوئی خواہش نہ پائی جاتی ہو۔ انجينئرنگ کے ايک طالبعلم نے کہا کہ وہ اس لیے جرمنی جانا چاہتا ہے کیونکہ جرمن ٹيکنالوجی کے میدان میں انگریزوں يا فرانسيسيوں سے بہتر ہیں۔ بہت سے لوگ جرمنی کے سرد اور مسلسل ابر آلود موسم کی وجہ سے بھی جرمنی کا رخ کرنے اور یہاں مستقل قیام سے کتراتے ہيں۔
K.Küstner,sas/J.Scmeller,aa