دو برس کی کمی کے بعد سال 2018ء میں جرمنی کی سڑکوں پر ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ سائیکل سواروں کی موت کی تعداد میں ہوا۔
جرمنی میں گزشتہ برس یعنی 2018ء کے دوران سڑکوں پر ہونے والے حادثات کے نتیجے میں 3,275 افراد ہلاک ہوئے۔ جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے شماریات کے مطابق یہ تعداد اس سے ایک برس قبل کے مقابلے میں تین فیصد زائد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس سے قبل کے دو برس کے دوران ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی تھی۔
اسی طرح سال 2018ء کے دوران ایسے حادثات کے نتیجے میں 396,000 افراد زخمی بھی ہوئے اور یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں 5,706 افراد زائد ہے۔
جرمنی میں سال 2010ء کے بعد سے سال 2017ء تک ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں سالانہ 10.2 فیصد کی کمی واقع ہو رہی تھی اور سال 2017ء کے دوران گزشتہ 60 برس کی ریکارڈ کم ترین تعداد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوئی۔
جرمنی میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی تہہ خانوں میں رکھی سائیکلیں نکال کر انہیں کی صفائی ستھرائی بھی شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن اس سے قبل کہ آپ سائیکل نکال کر چلانا شروع کر دیں، یہ چند اصول ضرور پڑھ لیجیے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
سائیکل کا لائسنس
جرمنی میں بچے بہت چھوٹی عمر میں ہی سائیکل چلانا سیکھ لیتے ہیں، کئی مرتبہ تو چلنا سیکھنے سے بھی پہلے۔ بچے جب آٹھ یا نو برس کی عمر کو پہنچتے ہیں تو پولیس اہلکار اسکولوں میں آ کر ’سائیکل لائسنس‘ نامی پروگرام کے تحت انہیں سائیکل چلانے کے لیے ٹریفک کے اصول سکھاتے ہیں۔
تصویر: Fotolia
’سائیکل دوست‘ شہر ڈھونڈیں
جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر میونسٹر (تصویر میں) کو سن 2015 میں سب سے بہتر ’سائیکل دوست‘ شہر قرار دیا گیا تھا۔ کارلسروہے اور فرائبرگ جیسے جرمن شہر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر آئے تھے۔ تاہم جرمنی کے بڑے شہر اس فہرست میں بہت نیچے رہے۔ بے تحاشا کاروں اور زیر تعمیر عمارتوں کے سبب برلن کا نمبر تیسواں رہا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Gentsch
اپنا روٹ بھی دیکھیے
جرمنی بھر میں سائیکلوں کے لیے مختص راستوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ باویریا کے جنگلوں سے لے کر شہروں کے نواح میں ’اربن جنگلوں‘ تک میں سائیکل چلانے کے لیے راستے ہیں۔ تصویر میں وادی احر دکھائی دے رہی ہے جہاں سائیکل سوار انگور کے کھیتوں کے درمیان سے گزرتے راستوں پر سائیکل چلا رہے ہیں۔ پیڈل چلاتے پاؤں تھک گئے، تو رک جائیے اور مقامی وائن سے لطف اندوز ہویے۔
تصویر: Foto: Ahrtal-Tourismus Bad Neuenahr-Ahrweiler e.V.
پیدل چلنے والوں کا بھی احترام لازم
صرف سائیکلوں کے لیے متعین راستے پر اگر کوئی پیدل چلنا شروع کر دے تو سائیکل سوار بُرا مانتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر آپ اپنی سائیکل تیز نہیں چلا رہے تو بہتر ہے کہ آپ سائیکل پکڑ کر فٹ پاتھ پر پیدل چلنا شروع کر دیں۔ ورنہ پیچھے سے آنے والے سائیکل سوار گھنٹیاں بجا بجا کر آپ پر غصہ نکالتے رہیں گے۔
تصویر: Fotolia/Brilt
بہار، اتوار کا دن، اور جرمنی
جرمنی میں موسم بہار آتے ہی دن لمبے ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ساتھ سڑکوں پر سائیکل سواروں کی تعداد بڑھ جاتے ہے۔ اگر آپ سائیکل چلانے والوں کو ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو ایسا کم از کم ایک معمر جوڑا ضرور دکھائی دے گا، جنہوں نے ایک جیسی شرٹس پہن رکھی ہوں گی اور ایک ساتھ سائیکل چلا رہے ہوں گے۔ ایسا منظر دیکھ کر محبت پر یقین بڑھ جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D. Bockwoldt
موزوں لباس
کرسمس کے تہوار سے لے کر ایسٹر کے تہوار تک سرد موسم سے بچنے کی خاطر جرمن شہری بھاری اور گرم کپڑوں میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔ سائیکل چلانے کے لیے پولیسٹر کے بنے کپڑے (Spandex) سردی سے تو نہیں بچاتے لیکن پسینہ آنے کی صورت میں یہ بہت کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ سائیکل چلانے کے لیے موزوں لباس پہننا بھی اہم ہے۔
تصویر: dapd
اہم اصول
سب سے اہم اصول یہ ہے کہ نشے کی حالت میں گاڑی نہیں چلائی جا سکتی۔ بظاہر تو ایسی حالت میں سائیکل چلانا بہت خطرناک دکھائی نہیں دیتا، لیکن اگر خون میں الکحل کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہو تو سائیکل چلانا نہ صرف آپ کے لیے بلکہ گاڑیاں چلانے والوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بہتر ہے کہ آپ سائیکل کہیں لاک کریں اور ٹیکسی لے لیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa
وقت ہو تو دوسروں کی مدد ضرور کریں
سائیکل چلانے کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ نہ ہی محض ورزش کی خاطر سائیکل چلائی جاتی ہے۔ بلکہ یہ نقل و حرکت کا ایک باقاعدہ ذریعہ ہے، جو ماحول دوست بھی ہے۔ اگر کسی کی سائیکل خراب ہو گئی ہے، اور آپ اسے ٹھیک کرنا جانتے ہیں اور آپ کے پاس وقت بھی ہے تو دوسروں کی تھوڑی سی مدد ضرور کیجیے۔
تصویر: Imago
پبلک ٹرانسپورٹ میں سائیکل
اگر آپ سائیکل چلاتے تھک گئے ہیں تو جرمنی میں آپ اپنی سائیکل ٹرین، ٹرام یا پھر بس میں ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے آپ کو اضافی ٹکٹ چاہیے۔ علاوہ ازیں اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں لوگ زیادہ ہیں اور آپ اپنی سائیکل سمیت اس میں سوار ہو رہے ہیں تو لوگوں کی غصیلی نظروں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ فولڈ ہو جانے والی سائیکلیں اس حوالے سے آپ کے لیے اور دوسرے مسافروں کے لیے زیادہ بہتر رہیں گی۔
تصویر: picture-alliance/dpa
9 تصاویر1 | 9
گزشتہ برس ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 43.5 فیصد تعداد کار سواروں کی تھی جو 1,424 بنتی ہے۔ 697 ہلاکتیں موٹر سائیکل سواروں کی ہوئی۔
جرمنی وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2018ء کے دوران ٹریفک حادثات میں 458 ہلاکتیں پیدل چلنے والوں کی ہوئیں۔
سائیکل سواروں کی ہلاکتوں میں اضافہ
گزشتہ برس ٹریفک حادثات کے نتیجے میں سب سے زیادہ اضافہ سائیکل سواروں کی اموات میں ہوا اور یہ 2017ء کے مقابلے میں 16.8 فیصد اضافے کے ساتھ 445 رہی۔
جرمن سائیکلسٹ ایسوسی ایشن (ADFC) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سائیکل سواروں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ 2019ء میں بھی جاری رہ سکتا ہے جس کی وجہ سائیکل کے لیے مختص راستوں پر بڑھتا رش اور پھر حال ہی میں ای اسکوٹر چلانے کی اجازت دی جانا ہے۔
جرمنی ایک منٹ میں: سائیکل
01:05
This browser does not support the video element.
ADFC کے سربراہ بُرکہارڈ شٹورک کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ''بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں انفراسٹرکچر کو بہتر کیے بغیر سائیکلوں کے لیے مختص لین پر سواریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘‘
جرمن روڈ سیفٹی کونسل نے بھی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات۔