جرمنی کے جنگلاتی رقبے میں صرف تین سال میں پانچ فیصد کمی
21 فروری 2022
تازہ ترین سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق جرمنی میں جنگلات کا مجموعی رقبہ دو ہزار اٹھارہ سے لے کر دو ہزار اکیس تک صرف تین سال کے عرصے میں تقریباﹰ پانچ فیصد کم ہو گیا۔ جنگلات سے محروم ہو جانے والا یہ رقبہ پانچ لاکھ ہیکٹر بنتا ہے۔
جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے آئفل نیشنل پارک میں اُرفٹ شٹاؤ جھیل کی فضا سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Stefan Ziese/Zoonar/picture alliance
اشتہار
خلائی سائنس کے جرمن مرکز ڈی ایل آر کی طرف سے پیر اکیس فروری کے روز شہر ایسن میں بتایا گیا کہ جنوری 2018ء سے لے کر اپریل 2021ء تک کے دوران ملک میں تقریباﹰ پانچ فیصد تک جنگلات ختم ہو گئے۔ جرمن ایروسپیس سینٹر کے مطابق سیٹلائٹس کے ذریعے اتاری گئی تازہ ترین تصاویر کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں تقریباﹰ پانچ لاکھ ایک ہزار ہیکٹر رقبے پر موجود جنگلات اب ناپید ہو چکے ہیں۔
اس مرکز کے مطابق، ''ملک میں جنگلاتی رقبے کے اس تیز رفتار خاتمے کی بنیادی وجہ حالیہ برسوں میں مسلسل خشک سالی اور غیر معمولی حد تک شدید گرم موسمی حالات بنے، جن کے نتیجے میں ان جنگلات پر نقصان دہ کیڑوں کے حملوں میں بھی شدت آ گئی تھی۔‘‘
وسطی جرمنی کے جنگلات سب سے زیادہ متاثر
زمین پر آنے والی تبدیلیوں کے مشاہدے کے لیے قائم ارتھ آبزرویشن سینٹر (EOC) سے منسلک جرمن ایروسپیس سینٹر کے شہر اوبر فافن ہوفن میں کام کرنے والے ریسرچ گروپ نے بتایا کہ جرمنی میں جنگلاتی رقبے کے خاتمے کے لیے جن تصاویر سے مدد لی گئی، وہ یورپی کوپرنیکس پروگرام کے سیٹلائٹ سینٹینل ٹو اور امریکی سیٹلائٹ لینڈسیٹ آٹھ کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔
کسی جنگل کا مکمل کاٹ دیا جانا وہ حتمی اقدام ہوتا ہے، جس کا وسیع تر بیماریاں اور کیڑے لگ جانے کے بعد فیصلہ آخری حل کے طور پر کیا جاتا ہےتصویر: picture alliance / blickwinkel/A. Held
اس تحقیقی جائزے سے پتہ چلا کہ جرمنی میں جنگلاتی رقبے کے مسلسل ختم ہوتے جانے کے عمل سے سب سے زیادہ متاثر ملک کے وسطی حصے کے جنگلات ہوئے ہیں۔
یہ جرمن علاقہ مغرب میں بیلجیم کے ساتھ سرحد کے قریب آئفل کے خطے سے لے کر وفاقی صوبے تھیورنگیا اور ہارٹس کے پہاڑوں اور سیکسن سوئٹرزلینڈ کی پہاڑیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مشرق میں یہی جرمن علاقہ چیک جمہوریہ کے ساتھ سرحد کے قریب ایک بڑے نیشنل پارک تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
اشتہار
سب سے زیادہ جنگلاتی نقصان صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں
ڈی ایل آر نے بتایا کہ جنگلاتی رقبے کے خاتمے کے اس عمل میں سب سے زیادہ نقصان صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ہوا، جو جرمنی کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ بھی ہے۔
جرمنی میں زہریلی اور خطرناک سنڈیوں کی بہتات ہو گئی ہے۔ یہ خاص طور پر شاہ بلوط (Oak) کے درختوں پر ڈھیرے ڈالے ہوئی ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/P. Pleul
نارتھ رائن ویسٹ فالیا جنگل اور سنڈیاں
جرمنی کے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فالیا کے شہروں اور قصبوں کے گھنے سرسبز و شاداب اور جنگلاتی علاقوں میں یہ سنڈیاں کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر شاہ بلوط کے درختوں پر ان سنڈیوں کی موجودگی حیران کن طور پر بہت زیادہ ہے۔
تصویر: picture-alliance/blickwinkel/J. Fieber
انسداد سنڈی پروگرام
جرمنی میں ان زہریلی سنڈیوں کے خلاف ایک بہت بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ خصوصی ٹیمیں ان کو جلانے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس کا انسداد سنڈی کا آپریشن بہت بڑا ہے کیونکہ سنڈیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/L. Ducret
زہریلی سنڈی خطرناک ہے
یہ سنڈی یا کیٹرپلر اگر انسانی جسم پر پھر جائے تو وہاں پر سوزش اور شدید خارش ہوتی ہے۔ شاہ بلوط پر پائی جانے والی سنڈی کے بال کسی بھی انسانی جسم پرچبھنے سے نیم بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے اور بعد میں بخار بھی ہو سکتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/P. Pleul
شاہ بلوط پر سنڈیاں
رواں برس شاہ بلوط کے درختوں پر یہ کیٹرپلر بے شمار ہیں۔ سنڈیاں جلوس کی صورت میں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔ ان کی بہتات کی وجہ سے یہ جنگلاتی ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ اس باعث وہاں جانے والوں کے کپڑوں پر چڑھ جاتی ہیں اور انجام کار پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔
تصویر: picture-alliance/blickwinkel/F. Hecker
سنڈیاں پریشانی کا باعث
جرمن شہر میونسٹر کے ایک جنگلاتی علاقے میں کیمپنگ کرنے والے چھ افراد کے سروں میں سے سنڈی کے بالوں کو نکالا گیا۔ ایک اور شہر ڈورٹمنڈ کا ایک سوئمنگ پول کو بند کرنا پڑا کیونکہ وہاں سنڈیوں کی تعداد قابو سے باہر ہو گئی تھیں۔ اسی طرح میولہائم شہر میں کم از کم نو بچے ان سنڈیوں سے علیل ہوئے اور انہیں ہسپتال داخل کرنا پڑا
تصویر: picture-alliance/dpa
سنڈیوں کے جالے
یہ سنڈیاں شاہ بلوط کے درخت میں جالے بنانے کے بعد اُس کے اندر رہتی ہیں۔ اس مخصوص قسم کے جالے سے بھی بچنا ضروری ہے کیونکہ ان میں کیٹرپلر کے کہیں اور منتقل ہونے کے بعد بھی بال رہ جاتے ہیں۔ گرم موسم میں ان سنڈیوں کی افزائش تیز ہو جاتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/B. Marks
باویریا بھی متاثر
وفاقی جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فالیا کے علاوہ جنوبی ریاست باویریا کے جنگلات میں بھی ان کی بہتات ہو گئی ہے۔ جرمنی کے چوتھے بڑے شہر کولون کے جنگلاتی علاقوں میں موجود شاہ بلوط کے بے شمار درختوں پر ان سنڈیوں کا بسیرا ہے۔
تصویر: picture-alliance/blickwinkel/A. Jagel
انتباہی کھمبے
جرمنی کے جنگلوں میں جانے والوں راستوں پر، کسی مقامات پر عام لوگوں کے لیے انتباہی پیغامات کے کھمبے نصب کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کیمپنگ یا جنگلوں میں پھرنے والے شوقین افراد کو محفوظ رہنے اور احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/P. Pleul
8 تصاویر1 | 8
اس صوبے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران صنوبر کی ایک خاص قسم کے درختوں والے جنگلات کا ایک چوتھائی سے بھی زیادہ حصہ ختم ہو گیا۔ چند علاقوں میں تو ایسے جنگلات کے دو تہائی حصے کا خاتمہ دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کے مطابق جرمنی میں یہ جنگلاتی رقبہ اس لیے ختم ہوا کہ بہت سے واقعات میں تو ان جنگلات کے درخت مرنا شروع ہو گئے۔ اس کے علاوہ کئی جگہوں پر ان درختوں کو ہنگامی بنیادوں پر کاٹنا بھی پڑا۔
ڈی ایل آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ''عام طور پر کسی بھی جنگل کا مکمل طور پر کاٹا جانا وہ حتمی اقدام ہوتا ہے، جس کا وسیع تر بیماریاں اور کیڑے لگ جانے کے بعد فیصلہ آخری حل کے طور پر کیا جاتا ہے، تاکہ ایسی نباتاتی بیماریاں دیگر جنگلات تک نہ پھیلیں۔‘‘
م م / ع س (ڈی پی اے، ڈی ایل آر)
دنیا بھر کے جنگلات کا تصویری البم
جنگلات سے متعلق یہ تصاویر بنیادی طور پر جنگلات کے تحفظ کی مہم کا حصہ ہے۔ زمین کا ایکو سسٹم خطرات کا شکار ہے اور اس تناظر میں معلوماتی ویب سائٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویب ساسٹ کا ایڈرس ہے:www.dw.com/learning-environment
ایتھوپیا کا مقدس درخت
جنوب مغربی ایتھوپیا کے شیکا جنگلات کافی وسیع علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی جنگل میں تصویر والا درخت مقدس تصور کیا جاتا ہے۔ ان تصاویر کی بہترین ریزولیوشن دیکھنے کے لیے اوپر دیے گئے ویب ایڈرس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
محفوظ جنگلات
انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں جنگلات کافی حد تک محفوظ ہیں اور یہ لائق تحسین عمل ہے۔
بارانی جنگلات اور کارآمد لکڑی
کولمبیا کے بارانی جنگلات میں ایسی لکڑی کی بہتات ہے جو کمرشل استعمال میں آتی ہے۔ یہ لکڑی کئی ممالک برآمد کی جاتی ہے۔
لکڑی کا ریشہ اور ٹوائلٹ پیپر
کئی ممالک میں لکڑی کے اندرونی گودے کو اتنا ابالا جاتا ہے کہ وہ انتہائی نرم ہو جائے اور اس نٓرم ہونے والے فائبر سے ٹوائلٹ پیپر کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
تنزانیہ کا کیکر والا جنگل
افریقی ملک تنزانیہ کے شمال میں واقع سیرینگیتی نیشنل پارک تقریباً تیس ہزار کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں کانٹے دار کیکر یا ببول کے درختوں کی بہتات ہے۔
دلدلی پانی میں شجرکاری
تھائی لینڈ میں خاص طور پر سدابہار دلدلی جھاڑیوں کو افزائش دینے کے لیے ایک نرسری قائم کی گئی ہے۔
ملے جلے جنگلات
جرمنی میں ملے جلے جنگلات پائے جاتے ہیں۔ ان میں سدا بہار درختوں کے ساتھ ایسے درختوں کی بھی بہتات ہے جو بارش میں افزائش پاتے ہیں اور بعض کے خزاں میں پتے بھی گر جاتے ہیں۔
بانس کا استعمال
ویتنامی جنگلوں میں بانس کے درخت کثرت سے ملتے ہیں۔ بانس کی لکڑی اور گودے کا کثرت سے استعمال بھی ویتنامی معاشرت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان سے سر پر رکھنے والے ہیٹ سے لے کر فرنیچر تک بنایا جاتا ہے۔
مڈغاسکر کا موٹے تنے والا درخت
مڈغاسکر بحر ہند کی ایک بڑی جزیرہ نما ریاست ہے۔ اس جزیرے کے جنگلاتی علاقوں میں پایا جانے والا موٹے تنے کا حامل باؤبابس نامی درخت بہت اہم ہے۔ یہ درخت برس ہا برس زندہ رہتا ہے۔
کاغذ اور کریون
کاغذ کی تیاری میں جہاں درخت کا استعمال کیا جاتا ہے وہاں اب ان سے کریون رنگ بھی تیار کیے جاتے ہیں۔
پہاڑی جنگل کی کٹائی زراعت کے لیے
افریقی ملک روانڈا کے بعض پہاڑی جنگلات کی اتران میں واقع چھوٹے چھوٹے جنگلات کے حصوں کو کاٹ کر زراعت کے لیے قابل کاشت بنایا گیا ہے۔
بارانی جنگل کا خاص حیاتیاتی ماحول
انڈونیشیا کے بارانی جنگل خاص طور پر بندروں کی ایک ناپید ہوتی نسل اورنگ یوٹان کا ماحولیاتی گھر تصور کیا جاتا ہے۔ ملائیشیا کے بارانی جنگل بھی اس بندروں کی قسم کا خاص ماحول ہے۔
ملائیشیا میں پام آئل کے درختوں کی شجرکاری
پام آئل کی طلب میں وسعت پیدا ہونے سے ملائیشیا سمیت کئی دوسرے ممالک میں اس پودے کی شجرکاری زور پکڑ چکی ہے۔
دلدلی جنگل
افریقی ملک جمہوریہ کانگو کے اینگیری علاقے میں دریائے کانگو اور دریائے ابانگی کے سنگم کے پہلو میں پھیلے دلدلی جنگلات جنگلی حیات کا ایک بڑا علاقہ خیال کیا جاتا ہے۔
اخروٹ کی لگڑی جلانے کے استعمال میں
وسطی ایشیائی ریاست کرغیزستان کے جلال آباد ریجن کے پہاڑوں پر جنگلاتی اخروٹ وسیع علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی لکڑی اور چھال مقامی آبادی جلانے کے ليے استعمال کرتی ہے۔
شجرکاری
ایک اور افریقی ملک کینیا میں جنگلات کے پھیلاؤ کی مہم کے حوالے سے شجرکاری مہم کو عوامی سطح پر خاص تقویت حاصل ہو چکی ہے۔
امیزون کے مقامی باشندے
لاطینی امریکی ملک پیرو میں بھی امیزون کا جنگلاتی علاقہ ہے۔ یہ بارانی جنگلات کی قسم ہے۔ ان جنگلوں میں مقامی باشندے برس ہا برس سے آباد ہیں۔
سینڈوج اسپریڈ
ڈارک چاکلیٹ کا اسپریڈ بڑے اور چھوٹے ناشتے میں ڈبل روٹی کے سلائس پر لگا کر بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اِس اسپریڈ کا بنیادی جزو پام آئل خیال کیا جاتا ہے۔
تازہ کاغذ
فائبر پیپر کی تیاری میں بعض درختوں کا گودا ایک خاص کیمیائی طریقے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔