1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی کے لاکھوں کم خواندہ شہری

9 مئی 2019

یورپ کی دوسری بڑی اقتصاد جرمنی ہے اور یہ ایک ترقی یافتہ قوم بھی تصور کی جاتی ہے۔ اسی ترقی یافتہ ملک میں قریب باسٹھ لاکھ افراد کم خواندہ ہیں۔

Deutschland Student Tim Schwarz mit dem syrischen Flüchtling Renas Ottmann
تصویر: picture alliance/dpa/C. Schmidt

جرمنی کے کم خواندہ افراد آسان جرمن زبان کی تحریر کو جہاں پڑھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں وہیں انہیں لکھنے میں بھی مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ تفصیلات ایک نئے تحقیقی جائزے میں سامنے آئے ہیں۔ اس رپورٹ کو سماجی حلقوں نے انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جرمن حکومت اپنے ملک کے کم خواندہ افراد میں کم سے کم سطح پر پڑھنے اور لکھنے کی موجودہ سمجھ بوجھ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک معاشرتی کامیابی قرار دیتی ہے۔ ماہرین کی فکر اس سے مختلف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ خواندگی کی کم شرح کے منفی اقتصادی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس تناظر میں اہم ہے کہ تازہ اعداد و شمار سن 2011 کی ایسی ہی ریسرچ کے نتائج سے بہتر ہیں۔ آٹھ برس قبل سماجی ماہرین اور اساتذہ نے مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں خواندگی کی شرح کو بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ خواندگی کو بڑھانے کی ضرورت ملکی اقتصاد کا پیشہ ورانہ قرار دیا گیا ہے۔

سینتالیس فیصد سے زائد غیرملکی تارکین وطن جرمن زبان پر مکمل عبور نہیں رکھتے ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

تازہ ریسرچ کے مطابق باسٹھ لاکھ افرا جرمن زبان نہ مناسب انداز میں بڑھنے کے اہل ہیں اور نہ ہی وہ لکھ سکتے ہیں۔ اس ریسرچ کے مطابق وہ بولتے وقت جملے تو بنا سکتے ہیں لیکن انہیں ایک پیرا گراف لکھنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ اس بڑی تعداد میں تقریباً 53 فیصد جرمنی کے مقامی شہری ہیں۔ سینتالیس فیصد سے زائد غیرملکی تارکین وطن ہیں۔

ریسرچ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سات فیصد سے زائد وہ بالغ جرمن افراد ہیں جن کی مادری زبان جرمن ہے لیکن ان کی لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت انتہائی کمزور ہے۔ باسٹھ لاکھ جرمن شہریوں میں بارہ فیصد وہ شامل ہیں جو اس وقت بھی جرمنی کی لیبر مارکیٹ میں باقااعدہ طور پر روزگار حاصل کر رہے ہیں۔

 اس ریسرچ کو مکمل کرنے کے لیے بہتر سو افراد کے انٹرویوز لیے گئے اور ان کی عمریں اٹھارہ سے چونسٹھ برس کے درمیان تھیں۔ یہ سن 2018 میں مکمل کی گئی تھی۔ اس کو جرمنی میں ’لیو (LEO) اسٹڈی کا نام دیا گیا ہے۔

’جرمن زبان بھی سیکھی پھر بھی ڈی پورٹ کر دیا جاؤں گا‘

02:42

This browser does not support the video element.

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں