جرمنی کے لیے امریکا کی پہلی خاتون سفیر
9 فروری 2022
امریکی سینیٹ نے منگل کے روز جرمنی کے لیے نئی امریکی سفیر ایمی گٹمین کے نام کی تصدیق کر دی۔ صدر جو بائیڈن نے جرمنی میں سفیر کے لیے انہیں تقریباً چھ ماہ قبل نامزد کیا تھا۔ اس معاملے پر ووٹنگ میں بیشتر ارکان نے پارٹی کے موقف کی بنیاد پر ووٹ کیا۔ 54 سینیٹرز نے جہاں ان کی حمایت کی وہیں 42 نے مخالفت بھی کی۔ چار ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
تقریباً ہر ریپبلکن سینیٹر نے گٹمین کے خلاف ووٹ کیا، جو 2004 سے یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ جرمن اور یہودی جڑوں والی 72 سالہ ایمی گٹمین کو اب اپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے حلف اٹھانا ہے۔ وہ برلن میں امریکا کی جانب سے پہلی خاتون سفیر ہوں گی۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ رچرڈ گرینل نے مئی 2018 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا تاہم دو برس بعد ہی وہ مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد سے سفارت خانے کی اعلیٰ سطح کی تمام تر ذمہ داریاں ناظم الامور نے سنبھال رکھی ہیں۔
ریپبلکن کی جانب سے نامزدگی کی مخالفت
صدر جو بائیڈن نے گٹمین کو گزشتہ موسم گرما میں برلن میں سفیر کے لیے نامزد کیا تھا، لیکن سینیٹ میں ریپبلکنز کی جانب سے اس کی سخت مخالف ہوئی جس کی وجہ سے اب تک ان کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
کچھ ریپبلکنز نے ان کی نامزدگی پر اس لیے اعتراضات کیا کیونکہ یونیورسٹی آف پنسلوینیا نے جو بائیڈن کے آٹھ برس بطور نائب صدر مکمل ہونے کے بعد انہیں یونیورسٹی کے پروفیسر کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی دلیل تھی کہ سیاسی فلسفے میں مہارت کی وجہ سے گٹمین نمایاں طور پر اس عہدے کی اہل ہیں۔
بعض دیگر کو اس بات پر تشویش تھی کہ ان کی یونیورسٹی کو چین کی جانب سے بھی چندہ فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن ایمی گٹمین نے اس کی یہ کہہ کر تردید کی کہ اسکول کے عطیات میں ایک فیصد سے بھی کم چین کے عطیہ دہندگان ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی کوئی ایسا فنڈ قبول نہیں کرتی جس سے اسے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنا پڑے۔
یورپ میں کشیدگی
سفیر کے عہدے کے لیے گٹمین کی تصدیق ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور جرمنی یوکرائن پر ممکنہ روسی حملے کے خطرے سے نمٹنے کی کوشش میں ہیں۔
اس ہفتے کئی سینیٹرز، بشمول ان ریپبلکن کے جنہوں نے گٹمین کی نامزدگی کے خلاف ووٹ کیا، نے جرمنی کے چانسلر اولاف شولس کے ساتھ عشائیہ میں شرکت کی تھی۔
دورہ واشنگٹن کے دوران شولس اور بائیڈن نے یورپ میں جنگ کو روکنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
ص ز/ ج ا (ڈی پی اے، روئٹرز)