ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی میں قریب 54 ہزار طلبا و طالبات کو اسلام سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ابھی اس سلسلے میں مزید دس گنا اضافے کی ضرورت ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D. Shamkin
اشتہار
ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمن معاشرے میں مسلمانوں کے بہتر انضمام اور شدت پسندی کے انسداد کے لیے مزید جرمن اسکولوں میں اسلام سے متعلق تعلیم دی جانا چاہیے۔
مہاجرت اور اسلام مخالف سیاسی پارٹی متبادل برائے جرمنی ملکی سیاست میں ایک نئی قوت قرار دی جا رہی ہے۔ اس پارٹی کے منشور پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Weigel
مہاجرت مخالف
اے ایف ڈی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ غیر قانونی مہاجرین اس بلاک میں داخل نہ ہو سکیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کر دی جائے۔ اس پارٹی کا اصرار ہے کہ ایسے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے، جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
تصویر: Reuters/T. Schmuelgen
یورپی یونین مخالف
متبادل برائے جرمنی کا قیام سن دو ہزار تیرہ میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت اس پارٹی کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ یورپی یونین کے ایسے رکن ریاستوں کی مالیاتی مدد نہیں کی جانا چاہیے، جو قرضوں میں دھنسی ہوئی ہیں۔ تب اس پارٹی کے رہنما بیرنڈ لوکے نے اس پارٹی کو ایک نئی طاقت قرار دیا تھا لیکن سن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں یہ پارٹی جرمن پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔
تصویر: Getty Images/S. Gallup
دائیں بازو کی عوامیت پسندی
’جرمنی پہلے‘ کا نعرہ لگانے والی یہ پارٹی نہ صرف دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے بلکہ یہ ایسے افراد کو بھی اپنی طرف راغب کرنے کی خاطر کوشاں ہے، جو موجودہ سیاسی نظام سے مطمئن نہیں ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق اے ایف ڈی بالخصوص سابق کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں زیادہ مقبول ہے۔ تاہم کچھ جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پارٹی جرمنی بھر میں پھیل چکی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/O. Berg
علاقائی سیاست میں کامیابیاں
اے ایف ڈی جرمنی کی سولہ وفاقی ریاستوں میں سے چودہ صوبوں کے پارلیمانی اداروں میں نمائندگی کی حامل ہے۔ مشرقی جرمنی کے تمام صوبوں میں یہ پارٹی ایوانوں میں موجود ہے۔ ناقدین کے خیال میں اب یہ پارٹی گراس روٹ سطح پر لوگوں میں سرایت کرتی جا رہی ہے اور مستقبل میں اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تصویر: Reuters
نیو نازیوں کے لیے نیا گھر؟
اے ایف ڈی جمہوریت کی حامی ہے لیکن کئی سیاسی ناقدین الزام عائد کرتے ہیں کہ اس پارٹی کے کچھ ممبران نیو نازی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ پارٹی ایک ایسے وقت میں عوامی سطح پر مقبول ہوئی ہے، جب انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی حامل پارٹیاں تاریکی میں گم ہوتی جا رہی ہیں۔ ان میں این پی ڈی جیسی نازی خیالات کی حامل پارٹی بھی شامل ہے۔
تصویر: picture alliance/AA/M. Kaman
طاقت کی جنگ
تقریبا پانچ برس قبل وجود میں آنے والی اس پارٹی کے اندر طاقت کی جنگ جاری ہے۔ ابتدائی طور پر اس پارٹی کی قیادت قدرے اعتدال پسندی کی طرف مائل تھی لیکن اب ایسے ارکان کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اب اس پارٹی کے اہم عہدوں پر کٹر نظریات کے حامل افراد فائز ہوتے جا رہے ہیں۔ ان میں اس پارٹی کی موجودہ رہنما ایلس وائڈل بھی شامل ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/M. Kappeler
پيگيڈا کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات
اے ایف ڈی اور مہاجرت مخالف تحریک پیگیڈا کے باہمی تعلقات بہتر نہیں ہیں۔ پیگیڈا مشرقی جرمن شہر ڈریسڈن میں باقاعدہ بطور پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم اے ایف ڈی نے پیگیڈا کے کئی حامیوں کی حمایت بھی حاصل کی ہے۔ تاہم یہ امر اہم ہے کہ پیگیڈا ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ شہریوں کی ایک تحریک ہے۔
تصویر: picture alliance/dpa/S. Kahnert
میڈیا سے بے نیاز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بریگزٹ رہنما نائیجل فاراژ کی طرح جرمن سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کے رہنما بھی مرکزی میڈیا سے متنفر ہیں۔ اے ایف ڈی مرکزی میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنانے کے لیے کوشش بھی نہیں کرتی بلکہ زیادہ تر میڈیا سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دینا بھی مناسب نہیں سمجھتی۔
میڈیا اطلاعاتی سروس Media Service Integration نامی جرمن ادارے کا کہنا ہے کہ جرمنی میں اسلام کی تعلیم دینے والے ہائی اسکولوں کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے اور اس میں قریب دس گنا اضافے کی ضرورت ہے۔ اس ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی بھر کے آٹھ سو اسکولوں میں قریب 54 ہزار طلبا وطالبات اسلام کی تعلیم پر مبنی اسباق لے رہے ہیں۔ دوبرس قبل یہ تعداد صرف 42 ہزار تھی اور اس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی میں قریب پانچ لاکھ اسی ہزار ایسے طلبہ ہیں، جو اسلام سے متعلق تعلیم میں ممکنہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرین و پناہ گزین نے سن 2008ء کی ایک رپورٹ ’’جرمنی میں مسلمانوں کی زندگی‘ میں بھی مسلم طالب علموں کی بابت اعداد و شمار شائع کیے تھے اور کہا گیا تھا کہ جرمنی میں قریب پانچ لاکھ اسی ہزار مسلم طلبہ موجود ہیں۔
مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کے جرمنی آنے کے بعد اس تعداد میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ یونیورسٹی آف اوسنابروک کے پروفیسر برائے اسلامی علوم رؤف سیلان کے مطابق جرمنی میں چھ برس سے 18 برس تک کی عمروں کے مسلمان طلبہ کی تعداد اب ساڑھے سات لاکھ اور آٹھ لاکھ کے درمیان ہے۔
اس تازہ جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قریب 70 ہزار طلبہ ایسے بھی ہیں، جو علوی اسلامی اسباق سیکھنے میں دلچپسی لیں گے، جب کہ اس وقت علوی اسلامی تعلیم فقط آٹھ سو طلبہ حاصل کر رہے ہیں۔
جرمنی میں اسلام کی مختصر تاریخ
03:47
This browser does not support the video element.
جرمنی میں تمام تعلیمی پالیسیاں صوبے خود بناتے ہیں اور وہیں طے کیا جاتا ہے کہ مذاہب سے متعلق تعلیم کس طرح دی جائے گی۔ بعض ریاستیں اس سلسلے میں چرچ اور مذہبی تنظیموں سے بھی مشورے طلب کرتی ہیں۔ جرمنی میں صرف ہیمبرگ اور بریمن وہ ریاستیں ہیں، جہاں مختلف مذاہب سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ دوسری طرف برلن اور دیگر مشرقی ریاستوں میں یہ سہولت موجود ہی نہیں کہ طلبہ اسلامی تعلیم حاصل کر سکیں۔