جرمن امریکی دوستی، اوباما برلن میں
18 جون 2013
شمالی آئر لینڈ میں دنیا کے آٹھ طاقتور صنعتی ممالک جی ایٹ کا اجلاس آج اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اس اجلاس میں شریک امریکی صدر باراک اوباما آج شام ہی جرمنی کے دورے پر دار الحکومت برلن پہنچیں گے۔ جی ایٹ اجلاس میں دیگر امور کے علاوہ شام کے موضوع پر بھی تفصیلی بحث ہوئی، جس کے بعد روسی اور امریکی صدور نے اس امر کا اقرار کیا کہ شام کے بارے میں ان دونوں ممالک کا موقف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ جرمنی نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ وہ شام میں باغیوں کو کسی طور پر ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ اس اعتبار سے امریکا اور جرمنی کے مابین شام سمیت دیگر امور پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے تاہم باراک اوباما کا برلن میں استقبال بھرپور گرم جوشی اور سفارتی لوازمات کے ساتہ متوقع ہے۔
جرمن امریکی تعلقات کی تاریخ سیاسی اعتبار سے تو غیر معمولی ہے ہی مگر قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہ دونوں ملک اقتصادی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات پر بہت حد تک یورپی سیاسی اور معاشی استحکام کا بھی انحصار ہے۔ مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے اور شام کے حالیہ بحران کے بارے میں واشنگٹن اور برلن کے مابین چھوٹے موٹے اختلافات سے قطع نظر تجارتی اور اقتصادی سطح پر جرمن امریکی تعلقات کو مضبوط تر بنانے کی کوششیں دونوں طرف سے جاری ہیں۔ اوباما کے حالیہ دورہء جرمنی سے جرمنی کے اندر اور باہر کام کرنے والے تجارتی اداروں کی وفاقی انجمن بھی بڑی گہری امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔
اوباما آج اپنی اہلیہ مشیل اوباما اور دونوں بیٹیوں مالیا اور ساشا کے ہمراہ برلن پہنچیں گے۔ جرمن دارالحکومت میں سکیورٹی کے اقدامات بہت زیادہ سخت کر دیے گئے ہیں۔ اپنے قریب 24 گھنٹوں کے قیام کے دوران امریکی صدر جرمن چانسلر میرکل سے ملاقات کریں گے۔ کل بُدھ کو اوباما برلن کے تاریخی مقام برانڈن برگر گیٹ پر ایک خطاب کریں گے۔ یورپ اور امریکا کے ثقافتی اور اقتصادی تعلقات پہلے ہی سے دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں بہت قریبی رہے ہیں۔ یورپ کی سب سے مضبوط اقتصادی قوت ’جرمنی‘ ماضی کی طرح اب بھی امریکیوں کے لیے غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں قریب ایک لاکھ امریکی باشندے سرکاری طور پر اندراج شدہ ہیں۔ برلن حکام کے مطابق ان میں سے قریب 15 ہزار دارالحکومت برلن میں آباد ہیں۔ اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یورپ اور امریکا کے ثقافتی اور اقتصادی تعلقات پہلے ہی سے دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں بہت قریبی رہے ہیں۔ یورپ کی سب سے مضبوط اقتصادی قوت ’جرمنی‘ ماضی کی طرح اب بھی امریکیوں کے لیے غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں قریب ایک لاکھ امریکی باشندے سرکاری طور پر اندراج شدہ ہیں۔ برلن حکام کے مطابق ان میں سے قریب 15 ہزار دارالحکومت برلن میں آباد ہیں۔ اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بُدھ کو برانڈن برگر گیٹ پر اوباما کے خطاب کے موقع پر غالباً اُن کی سوتیلی بہن Auma بھی موجود ہوں گی۔ تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
53 سالہ Auma کینیا میں رہتی ہیں۔ انہوں نے اپنے طالبعلمی کے زمانے میں کافی وقت جرمن شہروں ہائیڈل برگ، زار بروکن، بائیروئتھ اور برلن میں گزارا۔ نومبر 1989ء میں دیوار برلن کے انہدام کے تاریخی موقع پر وہ برلن ہی میں تھیں۔ Auma کو جرمن زبان پر عبور حاصل ہے۔ اوباما کی یہ سوتیلی بہن کینیا میں ایک امدادی تنظیم ’ کیئر انٹرنیشنل‘ کے لیے ایک طول عرصے تک کام کرتی رہیں۔ بعد میں انہوں نے Sauti Kuu کے نام سے اپنی ایک فاؤنڈیشن قائم کر لی، جس کا مطلب ہے’مضبوط آوازیں‘۔ ان کی تنظیم نوجوانوں کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔
km/aa(AFP)