1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن اور امریکی خفیہ اداروں کا گٹھ جوڑ

عدنان اسحاق4 اکتوبر 2014

جرمن خفیہ ادارے بی این ڈی یا بنڈس ناخرشٹن ڈینسٹ اور قومی سلامتی کے امریکی ادارے این ایس اے کے مابین تعاون کے ایک نئے اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق بی این ڈی جرمن شہریوں کے کوائف این ایس اے کو مہیا کرتا رہا ہے۔

Bundesnachrichtendienst BND
تصویر: picture-alliance/dpa

ابلاغ کے تین جرمن اداروں NDR، WDR اور اخبار زوڈ ڈوئچے سائٹنگ کی ایک ٹیم کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اُن خفیہ دستاویزات کا جائزہ لیا ہے، جو جرمن حکومت کی ایک کمیٹی نے پارلیمان کو پیش کی تھیں۔ برلن حکومت نے یہ کمیٹی این ایس اے کی جانب سے جرمن حکام اور شہریوں کی خفیہ نگرانی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد تیار کی تھی تاکہ معاملات کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

صحافیوں کی اس ٹیم کی مرتب کردہ دستاویز کے مطابق ’بی این ڈی‘ 2004ء اور 2008ء کے درمیان فرینکفرٹ کے انٹرنیٹ نوڈ ایکسچینج سے ڈیٹا این ایس اے کو فراہم کرتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں معلومات آگے دینے سے قبل بی این ڈی کے تیار کردہ ایک سافٹ ویئر کے ذریعے جرمن شہریوں کے کوائف کی چھان بین کی جاتی تھی۔

تصویر: Sieveking Verlag, Martin Schlüter, 2014

رواں سال جون میں پہلی مرتبہ یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ جرمن خفیہ ادارہ بی این ڈی فرینکفرٹ سے حاصل ہونے والی معلومات این ایس اے کو فراہم کر رہا ہے۔ اس کارروائی کا خفیہ نام ’آئیکونل‘ رکھا گیا ہے، جس میں جرمن شہریوں کی نجی معلومات چھان بین کے بعد آگے مہیا کی جاتی تھیں۔ تاہم جرمن پارلیمان کو پیش کی جانے والی تازہ دستاویز کے مطابق اس دوران کم از کم پانچ فیصد جرمن شہریوں کے مواصلاتی ڈیٹا کی جانچ پڑتال بوجوہ ممکن نہیں تھی۔ اس خفیہ دستاویز میں تحریر ہے کہ جرمنوں اور غیر ملکی شہریوں کی معلومات کو مکمل طور پر اور کسی غلطی کے بغیر الگ الگ کر کے جانچنا ممکن نہیں۔

فرینکفرٹ کی انٹرنیٹ ایکسچینج دنیا میں سب سے بڑی ہے۔ انٹرنیٹ کی مختلف کمپنیوں کا ڈیٹا یہاں سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان تازہ انکشافات سے واضح ہوا ہے کہ بی این ڈی اور این ایس اے کے مابین خفیہ سرگرمیوں کا دائرہ پہلے سے لگائے جانے والے اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں