اقوام متحدہ کے ادارہء برائے مہاجرین اور جرمن حکومت کے تعاون سے نوشہرہ کے ’ داگ بھسود گرلز پرائمری اسکول‘ کی تعمیر نو کی گئی ہے۔ اس اسکول میں پاکستانی طالبات کے ساتھ 120 افغان مہاجرین طالبات بھی زیر تعلیم ہیں۔
جرمن حکومت پاکستان میں کئی ترقیاتی کاموں میں حکومت اور غیر سرکاری اداروں کی مالی معاونت کر رہی ہےتصویر: UN
اشتہار
سن 1976 میں قائم کیا گیا یہ سکول چار کلاس رومز اور5 پانچ لیٹرینوں پر مشتمل تھا جس میں سے دو کلاس روم اور تین لیٹرین خستہ حالت میں تھے۔ اس اسکول کا پلے گراؤنڈ برسات میں پانی کا تالاب بنا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ 400 سے زائد طالبات کرسیوں اورمیزوں کی کمی کے باعث زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھیں۔ اسکول میں کلاس رومز اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث اس علاقے کی بہت سی طالبات اسکول میں داخلہ نہیں لے پاتی تھیں۔
اس اسکول کی تعمیر نو کے منصوبے کے تحت نہ صرف کلاس رومز اور لیٹرینوں کی تعمیر نو کی گئی ہے بلکہ کھیل کے میدان کو بھی بچیوں کے کھیلنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ اب اس اسکول میں کُل 900 طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی 10 سالہ مریم کہتی ہے، ’’تعلیم میرے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ مجھے اپنی کمیونٹی میں، جہاں بہت کم لڑکیاں سکول جاتی ہیں مضبوط بناتی ہے-‘‘
اس اسکول کی تعمیرنو سے پاکستانی طالبات کے ساتھ ساتھ اب افغان مہاجر بچیاں بھی تعلیم حاصل کر سکیں گیتصویر: UN
حال ہی میں ایک تقریب می اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے اسکول کی عمارت کو خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم، محمد عاطف کے حوالے کیا تھا۔ اس اسکول کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے ناظم الامور پیٹر فیلنٹن نے کہا، ’’یہ منصوبہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی پارٹنرز اور پاکستانی انتظامیہ کے مابین تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔‘‘ پیٹر فلٹن نے کہا کہ وہ اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی حالت زار اور پاکستان کی جانب سے ان کی فراخ دلی سے میزبانی کرنے کے اقدام کو بین الاقوامی کمیونٹی نہیں بھولی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کو سراہتے ہیں اور اس اقدام میں جرمن حکومت پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مدد جاری رکھے گی۔‘‘
یہ سکول چار کلاس رومز اور5 پانچ لیٹرینوں پر مشتمل تھا جس میں سے دو کلاس روم اور تین لیٹرین خستہ حالت میں تھےتصویر: UN
پاکستان میں اب بھی 1.5 ملین رجسٹرڈ اور لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ مہاجرین کا ایک طبقہ خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں بھی مقیم ہے اور اس اسکول کی تعمیر نو سے پاکستانی طالبات کے ساتھ ساتھ اب افغان مہاجر بچیاں بھی تعلیم حاصل کر سکیں گی۔
واضح رہے کہ جرمن حکومت پاکستان میں کئی ترقیاتی کاموں میں حکومت اور غیر سرکاری اداروں کی مالی معاونت کر رہی ہے۔ ایک منصوبے کے تحت جرمن حکومت پاکستان کے صوبے پنجاب کی تحصیل عارف والا میں اسکول جانے والی طالبات کو بائیسکل فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ باقاعدگی اور آسانی سے اسکول جا سکیں اور ان کی تعلیم میں خلل پیدا نہ ہو۔ اس جیسے اور بھی کئی تعلیمی منصوبوں کی تکمیل کے لیے جرمن حکومت پاکستان میں سرگرم ہے۔
سائیکلوں نے دیا لڑکیوں کو ایک نیا اعتماد
پاکستان کے صوبے پنجاب کی تحصیل عارف والا میں جرمن حکومت کے تعاون سے ایک مقامی این جی او اسکول جانے والی طالبات کو بائیسکلز فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ پابندی سے اسکول جا سکیں اور ان کی تعلیم میں خلل نہ پیدا ہو۔
تصویر: K. Farooq
لڑکیوں میں خود اعتمادی
اب عارف والا تحصیل کی لڑکیاں ہر روز سائیکل پر اسکول آتی جاتی ہیں۔ سائیکل نے نہ صرف ان کو اعتماد دیا ہے بلکہ گاؤں کی گلیوں، کھیتوں اور سٹرکوں پر سائیکل چلا کر اسکول پہنچنے والی ان بچیوں میں آگے بڑھنے کی امید بھی پیدا کر دی ہے۔
تصویر: Khalid Farooq
لڑکیوں کے والدین بھی خوش
اسکول کی پرنسپل نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ اس اسکول میں آس پاس کے دیہات کی بچیاں آتی ہیں، بہت سی لڑکیاں گرمی میں لمبی مسافت پیدل طے کر کے اسکول پہنچتی ہیں۔ سائیکل ملنے کے بعد اب بہت سی لڑکیاں چھٹیاں کم کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے ڈر تھا کہ والدین اپنی بچیوں کو سائیکل نہیں چلانے دیں گے لیکن جب اسکول کی نہایت غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی بچیوں کو سائیکلیں دی گئیں تو والدین بہت خوش ہوئے۔
تصویر: Khalid Farooq
لڑکیاں تو اب موٹر سائیکل بھی چلاتی ہیں
سائیکل ملنے والی ایک بچی رابعہ کے والد جمال دین کہتے ہیں، ’’میری بیٹی سائیکل ملنے سے پہلے رکشے میں اسکول جاتی تھی، اب میری بچت ہو رہی ہے اور میری بیٹی خوشی سے سائیکل پر اسکول جاتی ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گاؤں میں کچھ افراد اعتراض تو نہیں کرتے کہ لڑکی اکیلے سائیکل چلا کر اسکول جاتی ہے تو جمال دین نے کہا کہ اب تو لڑکیاں موٹر سائیکل چلاتی ہیں، اگر میری بیٹی سائیکل چلائے تو اس میں کیا عیب ہے۔
تصویر: Khalid Farooq
210 لڑکیوں میں سائیکلیں تقسیم
عارف والا میں ’اَرج ڈیویلپمنٹ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘ کے نمائندے خالد فاروق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ تحصیل عارف والا میں کل 210 سائیکلیں بچیوں کو تقسیم کی گئی ہیں۔ سائیکل دینے سے پہلے والدین کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور ان کی مرضی ہو تو ہی لڑکیوں کو سائیکلیں دی جاتی ہیں۔
تصویر: Khalid Farooq
مسجد کے امام کی بیٹی بھی سائیکل پر
اس حوالے سے ڈی ڈبلیو نے مقامی مسجد کے امام قاری محمد افضل سے بھی ان کا موقف جانا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایک لڑکی نہایت گرمی میں روز پیدل چل کر اسکول پہنچتی ہے۔ اگر وہ سائیکل چلا کر اسکول پہنچے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔‘‘ قاری صاحب نے علاقے میں ایک عمدہ مثال ایسے قائم کی ہے کہ ان کی اپنی بیٹی بھی اب سائیکل پر ہی اسکول جاتی ہے۔
تصویر: K. Farooq
روشن مستقبل کی سیٹرھی
ایک بچی کے والد کا کہنا ہے کہ۔’’مجھے احساس ہو گیا ہے کہ غربت سے نکلنے کے لیے مجھے اپنی بیٹی کو پڑھانا ہو گا تاکہ اس کا مستقبل روشن ہو، وہ ہم سے بہتر زندگی گزار سکے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میری بیٹی کو دی جانے والی سائیکل صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں ہے، یہ اسے ایک روشن مستقبل کی طرف لے جانے کی سیٹرھی ہے۔‘‘