1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتجرمنی

جرمن حکومت کا انرجی سکیورٹی کے لیے ہنگامی گیس ذخائر کا پلان

مقبول ملک روئٹرز کے ساتھ
7 جولائی 2026

جرمن حکومت نے ملک میں انرجی سکیورٹی کے لیے ریاستی ملکیت میں گیس کے ہنگامی ذخائر کے قیام کا ایک نیا منصوبہ بنایا ہے۔ ان ذخائر کا مجموعی حجم تقریباﹰ 24 ٹیرا واٹ گھنٹے ہو گا اور انہیں صرف ایمرجنسی میں استعمال کیا جائے گا۔

بحیرہ بالٹک سے ہو کر آنے والی گیس پائپ لائن نارتھ اسٹریم ٹو کا جرمنی میں خشکی پر پہنچنے کے بعد لُوبمِن کے مقام سے گزرنے والا حصہ، ستمبر 2022ء میں لی گئی ایک تصویر
بحیرہ بالٹک سے ہو کر آنے والی گیس پائپ لائن نارتھ اسٹریم ٹو کا جرمنی میں خشکی پر پہنچنے کے بعد لُوبمِن کے مقام سے گزرنے والا حصہ، ستمبر 2022ء میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Fabrizio Bensch/REUTERS

وفاقی دارالحکومت برلن سے منگل سات جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق جرمن وزارت اقتصادیات نے کہا کہ وہ ملک میں ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے گیس کے نئے محفوظ ذخائر جمع کرنے کے جس منصوبے کو حتمی شکل دی رہی ہے، وہ ماضی میں پیش آنے والے حالات کے تناظر میں اسٹریٹیجک نوعیت کا ایک فیصلہ ہے۔

یوکرین نے روسی توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ کر دیا

نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ ان نئے ایمرجنسی گیس ریزروز کا مجموعی حجم تقریباﹰ 24 ٹیرا واٹ گھنٹے (TWh) ہو گا، جو جرمنی میں گیس کی اسٹوریج کی مجموعی صلاحیت کے تقریباﹰ 10 فیصد کے برابر بنتا ہے۔

وزارت اقتصادیات کے مطابق ان گیس ریزروز کے لیے مالی وسائل ملک میں گیس کے صارفین پر لگائی گئی ایک ڈیوٹی کے ذریعے جمع کیے جائیں گے۔

جرمنی کو ایک نئے کاروباری ماڈل کی ضرورت کیوں؟

جرمنی میں درآمدی مائع قدرتی گیس لے کر آنے والا ایک ٹبنکر فلیسنگن کی بندرگاہ کی طرف بڑھتا ہواتصویر: Oliver Kaelke/DeFodi Images/picture alliance

ممکنہ استعمال کن حالات میں؟

جرمن وزارت اقتصادیات کے مطابق گیس کے ان اسٹریٹیجک ذخائر کو مستقبل میں صرف ایسے ہنگامی حالات میں استعمال میں لایا جائے گا کہ جیسے اگر توانائی کے انتہائی اہم بنیادی ڈھانچے پر کوئی حملہ ہو جائے اور اس کے باعث سپلائی معطل ہو جائے، یا پھر عالمی سطح پر گیس کی شدید قلت پیدا ہو جائے۔

یورپی یونین: بچت ہدف سے زیادہ، گیس کا استعمال انیس فیصد کم

ان ذخائر کے لیے گیس دو سے تین سال تک کے عرصے میں مختلف ادوار میں خریدی جائے گی، تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مالیاتی اثرات سے زیادہ سے زیادہ حد تک بچا جا سکے۔

اس سلسلے میں گیس کی خریداری کے لیے اولین آرڈر رواں سال موسم سرما میں دیے جائیں گے اور گیس ریزروز کو بھرنے کا عمل 2027ء کے موسم گرما میں شروع کر دیا جائے گا۔

ولادیمیر پوٹن کی جنگ نے روس کا بزنس ماڈل تباہ کر دیا

شمالی جرمن صوبے شلیسوگ ہولشٹائن میں دریائے ایلبے کے کنارے برونزبیوٹل کے پاس سے گزرنے والی ایک زمینی گیس پائپ لائنتصویر: Dirk Jacobs/IMAGO

یوکرین کے خلاف روسی جنگ سے سیکھا گیا سبق

یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت جرمنی نے اپنے ہاں انرجی سکیورٹی کی صورت حال کو زیادہ مضبوط بنانے پر اس وقت خصوصی توجہ دینا شروع کی تھی، جب تقریباﹰ ساڑھے چار سال قبل روس نے یوکرین پر فوجی حملہ کر کے روسی یوکرینی جنگ شروع کر دی تھی۔

پابندیاں ہٹنے تک یورپ کو گیس کی ترسیل بحال نہیں کی جائے گی، روس

اس جنگ کے آغاز کے بعد تقریباﹰ پوری یورپی یونین کو گیس کی ترسیل کے ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا اور رکن ممالک کے ساتھ ساتھ برسلز میں یورپی یونین کی قیادت نے بھی اس بلاک کے لیے روس کے بجائے دیگر ممالک سے گیس کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔

قبل ازیں برلن میں وزارت اقتصادیات کے اس منصوبے کی تفصیلات سے باخبر ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اس پلان کے تحت 2027ء اور 2028ء میں گیس کی نئی ذخیرہ گاہوں کی تیاری، گیس خریدنے اور اسے اسٹوریج تنصیبات میں منتقل کرنے پر 1.2 بلین یورو سے لے کر 1.5 بلین یورو (1.4 بلین ڈالر سے لے کر 1.7 بلین ڈالر) تک کی لاگت آئے گی۔

گیس پائپ لائن کی بندش کا ذمہ دار یورپ خود ہے، روس

جرمنی میں قدرتی گیس کی ترسیل: جنوبی صوبے باویریا سے گزرنے والی ایک زمینی گیس پائپ لائن کے ایک حصے کی تصویرتصویر: A. Hartl/blickwinkel/picture alliance

یورپی یونین کا ہنگامی گیس منصوبے کے معاہدے پر اتفاق

اس منصوبے پر عمل درآمد کی سالانہ آپریشنل لاگت کا تخینہ 150 ملین یورو سے لے کر 180 ملین یورو تک لگایا جا رہا ہے۔

توقع ہے کہ وفاقی جرمن کابینہ اس منصوبے پر عمل درآمد کی اس سال اگست کے وسط میں منظوری دے دے گی۔

ادارت: شکور رحیم

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں