جرمن دستوری عدالت سے یورپی اسٹیبیلٹی میکینزم پر فیصلہ مزید مؤخر کرنے کی استدعا
14 اگست 2012
جرمن ماہر تعلیم کے ایک گروپ نے جرمن دستوری عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ یورپی اسٹیبیلٹی میکینزم کے حوالے سے جو فیصلہ ستمبر کی بارہ تاریخ کو سنانے والی ہے، اس میں مزید التوا پیدا کیا جائے۔ اس التواء کے حوالے سے اپیل کنندگان نے یہ دلیل دی ہے کہ آئر لینڈ نے یورپی عدالت انصاف میں یورپی یونین کے مالیاتی معاہدوں پر دائر اپیل کا فیصلہ دینا ہے۔ جرمن دستوری عدالت نے ستمبر کے دوسرے ہفتے کے دوران یورپی اسٹیبیلٹی میکینزم اور بجٹ کو ڈسپلن کرنے کے معاہدے کی مناسبت سے ان کے قانونی اور غیرقانونی ہونے کو طے کرنا ہے اور اس میں جرمن پہلو مد نظر رکھا جائے گا۔
جرمن ماہرین تعلیم کا گروپ یورو پولِس (Europolis) کے نام سے ہے اور اس کی سربراہی جرمن استاد مارکوس کیربر (Markus Kerber) کر رہے ہیں۔ یورو پولس نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ بھی آئر لینڈ کے ہائی کورٹ کی تقلید کرتے ہوئے اپنا فیصلہ یورپ کی اعلیٰ ترین عدالت کو حتمی فیصلے کے لیے منتقل کر دے۔
یورو پولِس نے جرمن دستوری عدالت میں جو اپیل دائر کی ہے، اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک یورپی عدالت انصاف کا فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا تب تک جرمن اعلیٰ عدالت اور جرمن صدر اس کے مجاز نہیں ہیں کہ وہ یورپی اسٹیبیلٹی میکینزم اور بجٹ کو کنٹرول کرنے کے معاہدے کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر کریں۔ یورو پولِس کی استدعا کے حوالے سے جرمن دستوری عدالت کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
یورپی اسٹیبیلٹی میکینزم اور دیگر مالیاتی معاملات پر یورپی یونین میں پیدا ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے گزشتہ ماہ دستوری عدالت نے یہ حکم سنایا تھا کہ یہ ایک انتہائی غور طلب معاملہ ہے اور عدالت کے ارکان اس مناسبت سے تفصیلی عرق ریزی کے علاوہ اپنی سوچ کو فوکس کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک متوازن فیصلہ سنایا جا سکے۔ یہ امر اہم ہے کہ جرمن آئینی عدالت کی اجازت کے بغیر اب برلن حکومت یورپی یونین کی جون میں سربراہی کانفرنس میں منظور کی جانے والے دو معاہدوں کی توثیق نہیں کر سکتی۔
جرمنی کے دستوری ماہرین کا خیال ہے کہ جرمن آئینی عدالت دونوں معاہدوں کی مناسبت سے میرکل حکومت کو پیش رفت کی سبز جھنڈی تو دکھا سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یورپی انضمام کے عمل پر قدغنیں بھی عائد کر سکتی ہے۔ یورپی اسٹیبیلٹی میکینزم اصل میں پہلی جولائی کو نافذالعمل ہونا تھا اور اب اس کے نفاذ کا عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے دونوں معاہدے جرمنی کی شرکت کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتے اور اس کی وجہ منظوری کے وقت پیش کی گئی بعض شرائط تھیں۔
یورپی اسٹیبیلٹی میکینزم کی منظوری کو عدالت میں چیلنج کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے جرمن اتھارٹی محدود ہو سکتی ہے۔ یورو زون کی سترہ میں سے تیرہ رکن ریاستوں نے اس کی توثیق کر دی ہے۔ اس کے علاوہ یورپی سمٹ کے منظور شدہ مالیاتی معاہدے (Fiscal Compact) کے اگلے سال کے شروع ہونے پر اطلاق ہو جائے گا۔ اس مالیاتی معاہدے کی یورپی یونین کی ستائیس میں سے پچیس رکن ریاستیں منظوری دے چکی ہیں۔
ah/ab (Reuters)