1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن شہری پوٹن کو ٹرمپ سے بہتر سمجھتے ہیں، جائزہ

عاصم سلیم
17 اگست 2017

ايک تازہ عوامی جائزے ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ خارجہ امور کے معاملات ميں امريکا کے کئی اتحادی ملکوں کے شہری روسی صدر ولاديمير پوٹين کو امريکی سربراہ مملکت ڈونلڈ ٹرمپ پر فوقيت ديتے ہيں۔

Deutschland Trump trifft Putin
تصویر: picture alliance/dpa/AP/E. Vucci

جائزے ميں شامل دنيا کے سينتيس ممالک کے ہر چار ميں سے صرف ايک شہری نے اہم بين الاقوامی امور ميں ’صحيح‘ فيصلہ کرنے کے حوالے سے روسی صدر پوٹن کے حق ميں فيصلہ کيا۔ علاوہ ازيں يورپی ملکوں کے 78 فيصد شہريوں نے پوٹن کی قيادت پر عدم اعتماد کا اظہار کيا۔ يہ  جائزہ ’پيو ريسرچ سينٹر‘ کی جانب سے کرايا گيا تھا اور اس کا بنيادی مقصد يہ جاننا تھا کہ عالمی سطح پر لوگ روسی صدر ولادیمير پوٹن کے بارے ميں کيسی رائے رکھتے ہيں۔

دوسری جانب اس سروے ميں يہ بھی سامنے آيا کہ گرچہ اہم بين الاقوامی امور سے نمٹنے کے معاملے ميں پوٹن پر لوگوں کا اعتماد کافی کم ہے تاہم ان پر مقابلتاً امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے زيادہ بھروسہ کيا جاتا ہے۔ روايتی طور پر امريکا کے اتحادی ممالک جاپان اور جنوبی کوريا جبکہ مغربی دفاعی اتحاد نيٹو کی سات رکن رياستوں جرمنی، يونان، ترکی، ہنگری، فرانس، اٹلی اور اسپين کے اس سروے ميں شامل شہریوں نے ٹرمپ کے مقابلے ميں پوٹن پر زيادہ اعتماد کا اظہار کيا۔ يہ تمام ايسے ممالک ہيں، جو عسکری و دفاعی معاملات ميں روايتی طور پر امريکی پر انحصار کرتے آئے ہيں۔ اس عدم اعتماد کی ايک وجہ اہم عالمی امور پر ٹرمپ کے بيانات ہو سکتے ہيں۔ رواں برس جنوری ميں عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ اپنے ايک بيان ميں نيٹو کے کارآمد ہونے پر بھی سوال اٹھا چکے ہيں۔

يہ امر اہم ہے کہ ٹرمپ اور پوٹن پر اعتماد ميں يہ فرق سب سے زيادہ نماياں يونان اور جرمنی ميں ہے۔ دونوں ملکوں ميں پوٹن کو اکتيس پوائنٹس ملے جبکہ ٹرمپ صرف کو صرف چودہ۔ جرمنی ميں سروے ميں شامل ايک چوتھائی لوگوں نے کہا کہ وہ پوٹن پر زيادہ اعتماد کرتے ہيں جبکہ صرف گيارہ فيصد کی رائے ٹرمپ کے حق ميں تھی۔ تاہم مطالعے ميں شامل نيٹو کے تمام رکن ممالک کے شہريوں نے پوٹن کو ٹرمپ پر فوقيت نہيں دی۔ برطانيہ، کينيڈا، ہالينڈ اور پولينڈ ميں امريکی صدر کو زيادہ پوائنٹس ملے۔ اس کے علاوہ نيٹو اتحاد سے باہر کے ملکوں اسرائيل، آسٹريليا اور فلپائن ميں بھی امريکی صدر کو اپنے روسی ہم منصب پر انتيس پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی۔

سروے ميں سامنے آنے والی ايک اور اہم بات يہ ہے کہ گرچہ شرکاء پوٹن کی خارجہ پاليسی پر تحفظات رکھتے ہيں تاہم انہيں سلامتی کے حوالے سے خطرہ تصور نہيں کيا جاتا۔ عالمی سطح پر اکتيس فيصد افراد روسی قوت اور اثرورسوخ کو اپنے اپنے ممالک کے ليے خطرہ مانتے ہيں جبکہ پينتيس فيصد افراد کا ماننا ہے کہ امريکی اثرورسوخ ان کے ملکوں کے ليے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

’پيو ريسرچ سينٹر‘ کے اسی سال فروری اور مئی کے درميان منعقدہ اس ’گلوبل ايٹيٹيوڈز سروے‘ کے ليے سينتيس ممالک ميں مختلف عمروں کے 40,951 افراد سے انٹرويو ليے گئے تھے۔

ٹرمپ اور پوٹن کا مصافحہ

00:10

This browser does not support the video element.

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں