جرمن شہر فرینکفرٹ میں پہلی بار رمضان کے لیے تہنیتی چراغاں
9 مارچ 2024
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے موقع پر شہر کی مرکزی سڑک پر چراغاں کر کے امن و محبت کا پیغام دینا ہے۔ اس سڑک پر ہلال، ستارے اور دیگر ڈیکوریشن سے جڑی چیزیں لٹکائی جا رہی ہیں۔ جرمن میڈیا کے مطابق اس شہر کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے۔
قاہرہ میں مذاکرات جاری، رمضان سے قبل سیز فائر کی کوشش
بتایا گیا ہے کہ دس مارچ سے نو اپریل تک یہ چراغاں فرینکفرٹ کی گروسے بوکنہائمر شٹراسے نامی سڑک پر کیا جائے گا۔ یہ علاقہ پیدل چلنے کے لیے مخصوص ہے اور وہاں مختلف کیفے اور ریستوران ہیں۔ وہاں 'رمضان مبارک‘ کے پیغامکے ساتھ یہ چراغاں کیا جائے گا۔
سٹی کونسل کی چیئرپرسن حلیمہ ارسلانر کے مطابق، ''رمضان ہماری زندگیوں سے جڑے اہم سبق لیے ہوئے ہیں۔ کھانے کے لیے کچھ ہونا، سر پر چھت، امن اور خاندان، دوستوں اور ہمسایوں کے ساتھ راحت۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ''مجھے خوشی ہے کہ ہمارے شہر فرینکفرٹ میں رمضان کے دوران امن کے یہ پیغامات عام کیے جائیں گے۔‘‘
سٹی میئر نرگس اسکندری گرؤنبرگ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ''یہ ملاپ کے چراغ ہیں۔ یہ امتیاز، مسلم مخالف نسل پرستی اور یہودیت دشمنی کے انسداد کی روشنیاں ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ آٹھ لاکھ آبادی کا شہر فرینکفرٹ، برلن، ہیمبرگ، میونخ اور کولون کے بعد جرمنی کا پانچواں سب سے بڑا شہر اور ملک کا مالیاتی مرکز ہے۔ اسے جرمنی کے سب سے زیادہ کثیرالثقافی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جہاں کل آبادی کا قریب پندرہ فیصد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
فرینکفرٹ کی مسلم کمیٹی کے چیئرمین محمد سیدادی کا کہنا ہے، ''ہم اس چراغاں کا خیرمقدم کرتے ہیں کیوں کہ ہم سب ایک ہیں۔‘‘
یہ بات اہم ہے کہ جرمنی میں ثقافتی طور پر مسیحی تہواروں پر ہی سڑکوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، تاہم مغربی ممالک میں مسلمان بھی اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے گھروں پر چراغاں کرتے ہیں اور یہ رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فرینکفرٹ میں اسی لیے چراغاں کے لیے جو عناصر استعمال کیے جا رہے ہیں وہ مسلم کے ساتھ ساتھ مسیحی روایات سے بھی مرصع ہیں۔
فرینکفرٹ میں احمدی برادری کی جانب سے بھی اس اقدام کی تعریف کی گئی ہے۔ اس جماعت کے ایک ترجمان نوید احمد کا کہنا تھا، ''مجھے خوشی ہے کیوں کہ یہ مسلمانوں کو تسلیم کرنے کی ایک علامت ہے۔‘‘
ع ت / م م (کے این اے، ای پی ڈی، ڈی پی اے)