1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن صدر کا ترکی کا دورہ

کشور مصطفیٰ28 اپریل 2014

وفاقی جرمن صدر یوآخم گاؤک نے آج 28 اپریل بروز پیر سے اپنا ترکی کا سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے۔ دارالحکومت انقرہ میں گاؤک نے ترک صدر عبداللہ گُل سے ملاقات کی۔

تصویر: Reuters

بعد ازاں انہوں نے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان سے بھی ملاقات کی۔ آج شام گاؤک ایک ترک یونیورسٹی میں طلبا کے سامنے ترک جرمن تعلقات کے موضوع پر تقریر کر رہے ہیں۔ اس گفتگو میں غالباً جرمن صدر ترکی میں جمہوریت اور قانون کی بالا دستی جیسے معاملات میں پائے جانے والے نقائص پر بھی بات کریں گے۔ جرمن صدر نے گزشتہ روز ترکی کے مشرقی علاقے قہر مان مرعش میں قائم شامی خانہ جنگی کے شکار پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ بھی کیا تھا۔

جرمن صدر یوآخم گاؤک نے آج سے ترکی کا اپنا چار روزہ سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے۔ انقرہ میں انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ ترکی کے یورپ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کو انقرہ حکومت کے میڈیا اور عدلیہ کے خلاف روک تھام کے اقدامات سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گاؤک کا کہنا تھا، " ہم اس ملک کا مستقبل یورپ کے ساتھ تعاون کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں تاہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کب اور کیسے ممکن ہوگا"۔ جرمن صدر کا اشارہ ترکی کی طرف سے 2005 ء سے یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کی کوشش کی طرف تھا۔ تاہم جرمنی سمیت یونین کے دیگر ممالک ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کی آمریت پسندانہ طرز حکومت پر تحفظات رکھتے ہیں۔ جرمن صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا،" کیا ٹوئٹر اور یو ٹیوب پر پابندی لگانا ضروری ہے ایک طاقتور حکومت کو عدلیہ اور میڈیا کے معاملات میں مداخلت کی کیا ضرورت ہے" ۔ گاؤک کا اشارہ ایردوان حکومت کی طرف سے کیے گئے چند حالیہ اقدامات کی طرف تھا۔ گاؤک نے کہا کہ وہ آج ایردوان سے ملاقات کے دوران بھی ان موضوعات پر گفتگو کریں گے۔

جرمن صدر نے ترک حکومت کی طرف سے شامی پناہ گزینوں کے لیے کیے جانے والے امدادی اقدامات کو سراہا ہےتصویر: Reuters

قبل ازیں جرمن صدر نے ترک حکومت کی طرف سے شامی پناہ گزینوں کے لیے کیے جانے والے امدادی اقدامات کو سراہا ہے۔ گاؤک کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی کے شکار شامی پناہ گزینوں کے لیے انقرہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ قابل احترام ہے۔ گزشتہ روز گاؤک نے ترکی کے مشرقی علاقے قہر مان مرعش میں قائم شامی پناہ گزینوں کے کیمپ کا دورہ کیا جہاں 16 ہزار پناہ گزین پناہ لیے ہوئے ہیں۔ یوآخم گاؤک کا اس موقع پر کہنا تھا

" شام کے ہمسائے ممالک ترکی، لبنان اور اُردن کی طرف سے شامی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے جو کچھ کیا گیا ہے، جب ہم اُس پر گہری نظر ڈالیں تو یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ہمارے امیر ملکوں میں شامی پناہ گزینوں کے لیے وہ سب کچھ کیا گیا ہے جو ممکن ہے یا کیا ہماری امدادی صلاحیتیں اس سے زیادہ کرنے کی متحمل نہیں رہی ہیں" ۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں