جرمن فوج نے لڑنا سیکھ لیا ہے: جرمن وزیر دفاع
5 مارچ 2013
جرمن فوج آئندہ چند ہفتوں کے اندر اندر شمالی افغانستان کے علاقے قندوز سے اپنے فوجی اڈے کو سمیٹنے کا عمل شروع کر دینا چاہتی ہے اور یہ عمل آئندہ برس کے اوائل تک مکمل ہو جائے گا۔ اس امر کا انکشاف آج افغانستان کے ایک اچانک دورے پر گئے ہوئے جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر نے ایک بیان میں کیا۔
جرمن وزیر دفاع نے شمالی افغانستان کے صوبے قندوز میں قائم جرمن فوجی اڈے کی اہمیت پر غیر معمولی زور دیا ہے۔ تھوماس ڈے میزیئر کے بقول،’یہ فوجی اڈہ اس بات کی علامت ہے کہ جرمن فوج نے لڑنا سیکھ لیا ہے، اگرچہ اسے وہاں بھاری نقصانات کا سامنا بھی رہا ہے‘۔ جرمن وزیر نے اعلان کیا کہ جرمن فوج آئندہ چند ہفتوں کے اندر اندر شمالی افغانستان میں پل قمری کے قریب واقع اپنی وہ چوکی خالی کر دے گی، جہاں تقریباً پانچ سو جرمن فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرمن فوج اور افغان فوجی مشن کے کردار میں تبدیلی کے حوالے سے افغانستان کے کسی دوسرے علاقے کی اہمیت قندوز جیسی نہیں ہو سکتی ۔ ڈے میزیئر نے کہا کہ جرمن فوج کے انخلاء کے بعد قندوز کا فوجی اڈہ افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تبدیلی کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ وہاں سکیورٹی اقدامات کم کر دیے جائیں گے بلکہ یہ سکیورٹی کی ایک نئی قسم ہو گی۔
جرمن وزیر دفاع آج صبح افغانستان کے اچانک دورے پر سب سے پہلے مزار شریف پہنچے۔ اس وقت افغانستان میں متعین جرمن فوجیوں میں سے زیادہ تر مزار شریف میں ہی تعینات ہیں۔ اسی جگہ شمالی افغانستان کی بین الاقوامی محافظ فورسز آئی سیف کی علاقائی کمانڈ بھی تعینات ہے اور 21 فروری سے اس دستے کی کمان جرمن فوج کے میجر جنرل ’یورگ فولمر‘ کو سونپ دی گئی ہے۔
آج اپنے دورے کے آخر میں ڈے میزیئر صوبے بغلان کے علاقے پل قمری پہنچے۔ یہاں ان کی آمد تاخیر سے ہوئی، جس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے ہیلی کاپٹر میں کچھ تکنیکی خرابی تھی اور انہیں ہیلی کاپٹر بدلنا پڑا۔
وفاقی جرمن پارلیمان نے گزشتہ برس 28 دسمبر کو اپنے افغانستان مینڈیٹ میں 28 فروری 2014ء تک کی توسیع دے دی تھی۔ افغانستان میں آج کل تقریباً 4400 تک جرمن فوجی تعینات ہیں تاہم مینڈیٹ ختم ہونے کی تاریخ تک اس تعداد میں کمی کر کے اسے 3300 کر دیا جائے گا۔ 2014ء کے اواخرتک افغانستان سے بین الاقوامی فوج کا مکمل انخلاء متوقع ہے۔ تب تک افغانستان کی سکیورٹی کی ذمہ داری رفتہ رفتہ افغان فورسز اور اداروں کو منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم فوجی انخلاء کے بعد بھی افغانستان میں جرمن اور دیگر غیر ملکی تربیت دہندگان اور مشیر موجود رہیں گے۔
ابھی گزشتہ روز ہی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور صدر کرزئی کے ساتھ بات چیت میں انہیں مستقبل میں بھی نیٹو اور بین الاقوامی طاقتوں کے تعاون کا یقین دلایا تھا۔
km/aa(AFP)