1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن قومی سیاست اور یورپی سیاست کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا: انگیلا میرکل

کشور مصطفیٰ18 دسمبر 2013

میرکل نے کہا کہ یورپی یونین کی سطح پر اقتصادی اصلاحات کے بدلے بجٹ کے خسارے والے ممالک کی امداد کا طریقہ کار مفید ثابت ہوا ہے اور اس طرح یورپی اتحاد یورو زون کو متحد اور مضبوط رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔

تصویر: picture alliance/AP Photo

وفاقی جرمن چانسلر اور کریسچن ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کی سربراہ انگیلا میرکل نے لگاتار تیسری بار چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد آج پہلی بار برلن میں وفاقی پارلیمان سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جرمنی کی مستقبل کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسی کی ترجیحات کا زکر کرتے ہوئے یورپی اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے پر خاص طور سے زور دیا۔

کریسچین ڈیموکریٹک یونین اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کی نو منتخب مخلوط حکومت کی سربراہ انگیلا میرکل نے اپنے پارلیمانی خطاب میں نہایت پُر اعتماد لہجے میں کہا یورپی اتحاد کی مضبوطی جرمنی کے استحکام پر منحصر ہے اور ان کی مخلوط حکومت اپنی ان ذمہ داریوں کو اچھی طرح انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میرکل کا اس بارے میں مزید کہنا تھا،’’ جرمنی اپنی وسیع مخلوط حکومت کے ساتھ یورپ میں زیادہ سے زیادہ استحکام اور انضمام کو فروغ دینے کے لیے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ میرکل نے آج پارلمیان سے خطاب ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب آئندہ روز یعنی جمعرات سے برسلز میں یورپی یونین کا دو روزہ سربراہی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس سے میرکل کا خطاب غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

میرکل نے گزشتہ روز تیسری بار چانسلر منتخب ہونے کے بعد عہدے کا حلف اٹھایا تھاتصویر: Reuters

میرکل کے مطابق رواں سال جرمنی اور یورپ دونوں کے لیے اقتصادی اعتبار سے کامیاب سال ثابت ہوا ہے۔ میرکل نے کہا کہ رواں سال یورو زون کو مضبوط تر بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس کے لیے یورپی سطح پر کی جانے والی محنت کے ابتدائی ثمرات آنے والے سال یعنی 2014 ء میں دیکھنے کو ملیں گے۔ میرکل نے کہا کہ یورپی یونین کی سطح پر اقتصادی اصلاحات کے بدلے بجٹ کے خسارے والے ممالک کی امداد کا طریقہ کار مفید ثابت ہوا ہے اور اس طرح یورپی اتحاد یورو زون کو متحد اور مضبوط رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ زون وسیع تر ہوتا جا رہا ہے ہے۔ میرکل نے اعلان کیا ، ’’یکم جنوری 2014 ء میں شمالی یورپی ریاست لٹویا یورو زون کا اٹھارواں ممبر بن جائے گا۔‘‘

میرکل نے کہا ہے کہ مستقبل میں یورپی سطح پر ایک بلین یورو کی اضافی رقم ترقیاتی پروجیکٹس، روزگار کے نئے مواقع اور ریسرچ کے شعبے میں خرچ کی جائے گی۔ میرکل کے بقول ماضی میں برلن اور پیرس میں یورپی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کے خلاف موثر اقدامات کے بارے میں اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا انعقاد ہو چکا ہے اور فرانس اور جرمنی نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ اس اہم موضوع کو آئندہ کی پالیسی کی ترجیحات سمجھتے ہوئے مرکزی اہمیت دی جائے گی۔

میرکل کی نئی حکو مت میں خاتون وزیر دفاع منتخب ہوئی ہیںتصویر: Reuters

میرکل نے کہا کہ چند یورپی ممالک کو قرضے کے جن سنگین بحران کا سامنا رہا ہے یورپ اُس سے مکمل طور پر نمٹ نہیں سکا ہے۔ تاہم اس ضمن میں واضح پیش رفت ہوئی ہے۔ میرکل نے قرضے کے بحران کے شکار دو ممالک کا زکر کرتے ہوئے کہا، ’’ آئر لینڈ اور اسپین نے اپنے اصلاحاتی پروگرام کی افادیت کو جان لیا ہے۔ اب یہ دونوں ممالک یورپی امداد پروگرام سے نکل سکتے ہیں۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ان دونوں ممالک میں کافی بہتری آئی ہے اور یہ دونوں مبارکباد کے حقدار ہیں‘‘۔

دریں اثناء جرمن چانسلر تیسری بار عہدے کا حلف اٹھانے اور اپنی پارلیمان سے خطاب کے بعد فرانس کے پہلے دورے پر پیرس پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند دونوں ہی 2017 ء تک اپنے عہدے پر فائض رہیں گے اس لیے دونوں پڑوسی ممالک کی یہ کوشش ہوگی کہ یہ دونوں پورپی سطح پر اقتصادی موٹر کی حیثیت سے زیادہ سے زیادہ موثر کردار ادا کریں۔

کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں