جرمن مرد کتنے ’زہریلے‘ ہیں؟
15 جولائی 2023
جرمنی میں ایک تازہ عوامی جائزے میں بہت سے نوجوانوں کی رائے ناقابل یقین حد تک پریشان کن ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد نے خواتین پر تشدد کو 'قابل قبول‘ قرار دیا اور کہا کہ خواتین کی جگہ 'باورچی خانے‘ میں ہے، جب کہ متعدد نے ہم جنس پسندی کو عوامی مقامات پر مکمل طور پر رد کرنے تک کے حق میں رائے دی۔
شدید گرمی بھی گھریلو تشدد میں بدترین اضافے کا سبب
چین میں گھریلو تشدد کے واقعات، حکومت کی شادی مہم پر تنقید
ایک غیرسرکاری تنظیم پلان انٹرنیشنل کے مطابق اس سروے میں شامل 34 فیصد افراد (یعنی ہر تین میں سے ایک) نے اعتراف کیا کہ وہ خواتین کے خلاف سخت رویہ استعمال کرتے ہیں تا کہ وہ ان کی عزت کریں۔ یہ سروے رواں برس مارچ میں کرایا گیا تھا، جس میں ایک ہزار مردوں اور ایک ہزار خواتین کی رائے لی گئی۔ رائے میں شامل افراد کی عمریں اٹھارہ تا پینتیس برسوں کے درمیان تھیں اور یہ سروے آن لائن طور پر تحریری شکل میں منعقد کیا گیا۔ اس سروے کا مرکزی موضوع 'مردانہ شناخت‘ تھا۔
سروے میں 'مردانگی‘ کے تصور سے متعلق بھی سوالات پوچھے گئے۔ اس سروے میں شامل اڑتالیس فیصد افراد نے کہا کہ گے مردوں کو کھلے عام دیکھ کر انہیں اچھا نہیں لگتا۔ اپنے رول ماڈلز کے نام جو انہوں نے بتائے ان میں امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک اور ٹک ٹک پر خود کو ‘زن بیزار‘ کے طور پر پیش کرنے والے اینڈریو ٹیٹ ہیں جو 'عورتیں اصل اسٹیٹ سیمبلز ہیں‘ اور 'مردانگی زندگی کی جنگ ہے‘ جیسے بیانات دیتے رہے ہیں۔
اس سروے کی وجہ سے میڈیا پر زبردست بحث ہوئی تھی اور اس پر تنقید بھی کی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس سروے کی درستی پر بھی سوالات اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ اس سروے میں جان بوجھ کر کچھ خاص گروپوں ہی سے سوال جواب کیے گئے اور یوں یہ جرمن عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ بعض افراد نے اس سروے میں کچھ ٹھوس سوالوں کی عدم موجودگی پر بھی تنقید کی تھی۔
ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ یقیناﹰ اس سروے میں خاصے سقم موجد ہیں۔ لڑکوں اور مردوں کے حوالے سے ایک ایڈوکیسی گروپ سے وابستہ ڈاگ شؤلپر کے مطابق، ''میں یہ دیکھنا چاہوں گا کہ یہ مطالعہ ڈیزائن کیسے کیا گیا۔‘‘
ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ اس سروے میں نوجوانوں سے سوالات پوچھے کس طرح گئے۔
تاہم ان کا مزید کہا تھا، ''حتیٰ کہ اگر ایک ہزار میں سے ایک تہائی افراد اس انداز کے جوابات دیں اور اس سوال کے جواب پر کہ کیا اپنے پارٹنر کو پیٹا جانا ٹھیک ہے، وہ جواب دیتے ہوئے سنجیدہ نہ ہوں، تو بھی انہوں نے ہاں کہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جرمنی میں گھریلو تشدد سے جڑے اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ جرمنی میں خواتین پر تشدد ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
جرمنی نے وفاقی دفتر برائے انسداد جرائم کے تجزیہ برائے کریمنل شماریات کے مطابق سن 2021 میں جرمنی میں ایک لاکھ تینتالیس ہزار افراد نے اپنے پارٹنرز کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کیا۔
ع ت، ا ا (ڈاگمار بائیٹنباخ)