جرمن مصنفہ جینی ایرپن بیک نے انٹرنیشنل بکر پرائز جیت لیا
22 مئی 2024
جرمن مصنفہ ایرپن بیک کے ناول 'کیروس' میں مشرقی جرمنی کے آخری سالوں کی ایک ہنگامہ خیز محبت کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے مترجم مائیکل ہوفمین کو بھی اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
جینی کا ناول 'کیروس' ایک 19 سالہ طالبہ اور 50 کی دہائی کے ایک شادی شدہ شخص کے درمیان ہونے والی تباہ کن محبت کی کہانی پر مبنی ہےتصویر: DAVID CLIFF/EPA
اشتہار
جرمن مصنفہ جینی ایرپن بیک اور ان کی کتاب 'کیروس' کے مترجم مائیکل ہوفمین نے فکشن کے زمرے میں مشترکہ طور پر رواں برس کا انٹرنیشنل بکر پرائز جیتا ہے۔
جینی کا ناول 'کیروس' ایک 19 سالہ طالبہ اور 50 کی دہائی کے ایک شادی شدہ شخص کے درمیان ہونے والی تباہ کن محبت کی کہانی پر مبنی ہے، جن کی ملاقات سن 1986 کے آس پاس مشرقی برلن میں ایک بس میں ہوتی ہے۔
انگریزی زبان میں افسانوی زمرے کے لیے بکر پرائز موسم خزاں میں دیا جائے گا اور مصنفہ جینی اور کتاب کے مترجم ہوفمین کے درمیان پچاس ہزار برطانوی پونڈ کی انعامی رقم نصف نصف تقسیم ہو گی۔
ایوارڈ پینل نے 'کیروس' کے بارے میں کیا کہا؟
ناول 'کیروس' مشرقی برلن میں 1980 کی دہائی کے دوران ایک بوڑھے آدمی کے ساتھ نوجوان عورت کے ''تباہ کن تعلقات'' کی کہانی ہے۔
انعام کا انتخاب کرنے والے پانچ رکنی پینل کی سربراہ کینیڈین براڈکاسٹر ایلینور واشٹیل نے اس ناول کو ''ایک اذیت ناک محبت کی بھرپور ساخت اور ذاتی نیز قومی تبدیلیوں کے الجھاؤ'' پر مبنی قرار دیا۔
ایرپن بیک نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ کتاب قارئین کے سامنے ریاستی نگرانی اور جبر کے علاوہ بھی سابق مشرقی جرمنی کے دیگر پہلوؤں کو سامنے لائے گیتصویر: Axel Kammerer/IMAGO
انہوں نے کہا، ''(سابق مشرقی جرمنی) کی طرح ہی (کتاب) کا آغاز امید اور اعتماد سے ہوتا ہے، پھر بہت بری طرح سے چیزیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔'' انہوں نے مزید کہا، ''محبت کرنے والوں کا خود میں جذب ہونا، ان کا تباہ کن بھنور میں اترنا، یہ سب کچھ اس عرصے کے دوران مشرقی جرمنی کی تاریخ سے اس طرح مربوط ہے کہ اکثر تاریخ کو عجیب و غریب زاویوں سے ملاتا ہے۔''
واشٹیل نے کہا کہ ہوفمین کے ترجمے میں بھی ایرپن بیک کی تحریر کی ''فصاحت اور بلاغت'' پوری طرح سے برقرار ہے۔
اشتہار
مشرقی جرمنی میں سٹاسی کے علاوہ بھی بہت کچھ
اس موقع پر ایرپن بیک نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ کتاب قارئین کے سامنے ریاستی نگرانی اور جبر کے علاوہ بھی سابق مشرقی جرمنی کے دیگر پہلوؤں کو سامنے لائے گی۔
وہ کہتی ہیں، ''صرف ایک چیز جو ہر کوئی جانتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے ہاں ایک دیوار تھی، کہ وہ سٹاسی کے ساتھ سب کو دہشت زدہ کرتے تھے اور بس۔ تاہم یہی سب نہیں، بلکہ کچھ اور بھی تھا۔''
سابق مشرقی جرمنی، جسے جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کہا جاتا تھا، کی کمیونسٹ حکومت کے دوران سٹاسی نام کا ایک ریاستی سیکورٹی ادارہ تھا، جو لوگوں کی نگرانی کرنے اور ان پر جبر کے لیے بدنام تھا۔
مصنفہ نے سن 1989 میں دیوار برلن کے گرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ''مجھے جو چیز دلچسپ لگتی ہے وہ یہ ہے کہ سب کچھ توڑ کر آزادی حاصل کرنا ہی وہ واحد چیز نہیں ہے جو اس طرح کی کہانی میں بیان کی جا سکتی ہے۔''
انہوں نے زور دے کر کہا، ''اس سے پہلے کے برس اور بعد کے بھی سال ہوتے ہیں۔''
جینی ایرپن بیک مشرقی برلن میں پیدا ہوئی تھیں اور وہیں پرورش پائی، جو سن میں 1990میں جرمنی کے دوبارہ اتحاد تک مشرقی جرمنی کا حصہ تھا۔
ص ز/ ج ا (اے پی، اے ایف پی)
بُکر پرائز کو عالمی ادب کا آسکر ایوارڈ قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1997 میں اروندھتی رائے سے سن 2020 میں ڈگلس اسٹوارٹ تک اس پرائز کو جیتنے والوں کا مختصر احوال اس پکچر گیلری میں ملاحظہ کریں:۔
تصویر: Picture-Alliance /dpa/Photoshot
اروندھتی رائے
بھارتی ادیبہ اروندھتی رائے کو بُکر پرائز ان کے ناول The God of Small Things پر سن 1997 میں دیا گیا۔ یہ جنوبی بھارتی ریاست کیرالا میں سن 1960 کی سیاسی افراتفری کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ اس ناول کا پلاٹ بھارت میں ذات پات کے نظام، مذہبی تنوع اور بہت گنجلک سماجی درجہ بندیوں میں گندھا ہوا ہے۔
تصویر: Picture-Alliance /dpa/Photoshot
مائیکل اونڈاچی
سن 1992 کا بُکر پرائز ’دا انگلش پیشنٹ‘ نامی ناول کے مصنف مائیکل اونڈاچی کو دیا گیا۔ اونڈاچی سری لنکن نژاد کینیڈین شاعر اور ادیب ہیں۔ ان کے ناول کا پس منظر دوسری جنگ عظیم کا ہے اور اس میں چار زندگیوں کا احاطہ کیا گیا جو ایک اطالوی مکان کے مکین تھے۔ اس ناول پر ایک فلم بھی بنائی گئی تھی اور اسے سن 1996 میں نو آسکر ایوارڈز ملے تھے۔
تصویر: Imago/ZUMA Press/R. Tang
مارگریٹ ایٹ وُوڈ
سن 2000 میں کینیڈین مصنفہ مارگریٹ ایٹ وُوڈ کو ان کی بہترین تخلیق The Handmaid's Tale پر بکر پرائز سے نوازا گیا۔ یہ کئی پرتوں والی ایک کہانی پر مشتمل ہے، جسے ماضی سے حال کو کہانی اور حقیقت کی روایت سے بُنا گیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D.Calabrese
ہِلیری مینٹل
سن 2012 میں ناول ’وولف ہال‘ کی مصنفہ ہِلیری مینٹل کو ناول Bring up the Bodies کو بکر پرائز دیا گیا۔ برطانوی ادیبہ وہ پہلی خاتون ناول نگار ہیں جو دو مرتبہ بکر پرائز کی حقدار ٹھہرائی گئیں۔ ان کے ایک اور ناول ’وولف ہال‘ کو بھی اس پرائز سے نوازا گیا تھا۔ ناول ’برنگ اپ دی باڈیز‘ میں ٹیوڈر خاندان کے بادشاہ ہنری ہشتم کی بیٹے کی خواہش کو سمویا گیا ہے اور یہ ٹیوڈر دور کا تاریخی تسلسل قرار دیا جاتا ہے۔
تصویر: AP
رچرڈ فلانیگن
سن 2014 میں بکر پرائز آسٹریلین ناول نگار رچرڈ فلانیگن کو ان کے ناول The Narrow Road to the Deep North پر دیا گیا۔ یہ بھی ایک تاریخی واقعات پر مبنی ناول ہے اور اس کا منظر نامہ دوسری عالمی جنگ میں تھائی لینڈ برما ڈیتھ ریلوے پر مبنی ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایک آسٹریلین سرجن کا ہے، جو لوگوں کو بھوک، ہیضہ اور تشدد سے بچانے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔
جارج سانڈرز
سن 2017 میں امریکی کہانی کار جارج سانڈرز کے طویل ناول ’لنکن ان دا بارڈو‘ کو اس معتبر انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ بُکر پرائز کی جیوری نے اس ناول کو تجرباتی اور اختراعی قرار دیا تھا۔ اس ناول میں سابق امریکی صدر ابراہام لنکن کی روح اپنے گیارہ سالہ بیٹے کے جسم کو دیکھنے جاتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/ZUMAPRESS/R. Tang
برنارڈین ایوارسٹو
سن 2019 میں برطانوی ادیبہ برنارڈین ایوارسٹو کو ان کے ناول Girl, Woman, Other کی وجہ سے بکر پرائز دیا گیا۔ وہ پہلی سیاہ فام ادیبہ ہیں جو بکر پرائز کی حقدار ٹھہرائی گئی تھیں۔ اس ناول میں برطانیہ پہنچنے والے بارہ افراد کے مختلف نسلوں اور سماجی طبقات سے متعلق تجربات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان افراد میں زیادہ تر خواتین تھیں۔
تصویر: picture-alliance/Photoshot
ڈگلس اسٹوارٹ
سن 2020 میں اسکاٹش نژاد امریکی ادیب ڈگلس اسٹوارٹ کو ان کے اولین ناول Shuggie Bain پر بُکر پرائز دیا گیا۔ اس ناول کو لکھنے میں اسٹوارٹ نے دس برس صرف کیے اور اس کا مسودہ بتیس مرتبہ مختلف اشاعتی اداروں نے مسترد کیا تھا۔ یہ ناول کسی حد تک ایک خود نوشت ہے اور اس میں اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ایک ہم جنس پسند کی جدوجہد کو سمویا گیا ہے۔
تصویر: Grove/AP/picture alliance
Damon Galgut - 'The Promise' (2021)
ڈیمن گالگوٹ
سن 2021 میں جنوبی افریقی ادیب ڈیمن گالگوٹ کو ناول The Promise پر بکر پرائز سے نوازا گیا۔ وہ قبل ازیں دو مرتبہ شارٹ لسٹ بھی کیے گئے تھے۔ اس ناول میں گالگوٹ نے جنوبی افریقہ میں ایک ایسے سفید فام کسان کے مادر شاہی خاندان کا احوال بیان کیا ہے، جو اپنی والدہ سے اس کی موت کے وقت کیا گیا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے کہ اسے ایک سیاہ فام خاتون کو اپنی ملکیت زمین پر ایک مکان دینا چاہیے۔