جرمن نوجوان چمنی میں پھنسا کیسے؟
2 جنوری 2020
مقامی میڈیا کے مطابق نئے سال کا جشن مناتے ہوئے یہ نوجوان ایک مکان کے آتش دان کی چمنی میں پھنس گیا تھا۔ وسطی جرمنی میں اس نوجوان کو چمنی سے نکالنے کے لیے فائر بریگیڈ کو بلانا پڑ گیا۔
اٹلی پناہ نہیں دیتا تو ہمارے دروازے کھلے ہیں، اسپین
امدادی ادارے یا مہاجرین کو یورپ لانے کی ’ٹیکسی سروس‘؟
بتایا گیا ہے کہ یہ اٹھارہ سالہ نوجوان، جس نے بہت عمومی سے کپڑے پہن رکھے تھے، تین گھنٹوں تک اس چمنی میں پھنسا رہا۔ اس کے دوستوں نے نئے سال کی صبح جرمن وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے حکام کو مطلع کیا۔
نوجوانوں کا یہ گروپ وسطی جرمنی کے علاقے ہارٹس کی جنوبی پہاڑیوں میں چھٹیاں گزارنے والوں کے لیے کرایے پر دستیاب ایک گھر میں نئے سال کا جشن منا رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس نوجوان نے رات کے کسی پہر غالباﹰ اس گروپ سے الگ ہو کر پندرہ میٹر اونچی چمنی پھلانگنے کی کوشش کی اور اس میں پھنس گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نوجوان کے باقی ساتھیوں کو معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ کہاں چلا گیا تھا۔ پھر جب انہیں اپنے اس دوست کے چمنی میں پھنس جانے کا علم ہوا، تو انہوں نے فوری طور پر ایمرجنسی سروس سے مدد کی درخواست کر دی۔ حکام کے مطابق جب امدادی کارکن اس مکان کے اندر پہنچے تو یہ نوجوان چیخ چیخ کر مدد طلب کر رہا تھا۔ ایمرجنسی حکام کے مطابق اس نوجوان کے جسم کا بالائی حصہ تو چمنی سے باہر تھا مگر بازوؤں سے لے کر نیچے تک کا دھڑ چمنی میں پھنسا ہوا تھا۔
جرمن اخبار مِٹل ڈوئچے سائٹنگ کے مطابق اس نوجوان کو چمنی سے بہ حفاظت نکالنے کے لیے چالیس سے زائد امدادی کارکن جائے واقعہ پر پہنچے۔ حکام کے مطابق بالآخر اس نوجوان کے چمنی میں پھنسے بازوؤں کو آزاد کرایا گیا۔ تاہم مقامی پولیس ترجمان کے مطابق اب تک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ یہ نوجوان اس چمنی میں پھنسا کیسے؟
یہ بات اہم ہے کہ رات کے وقت اس مقام پر درجہ حرارت منفی چار ڈگری سیٹی گریڈ تھا جب کہ اس نوجوان نے موسم سرما کا کوئی گرم لباس بھی نہیں پہنا ہوا تھا۔ اس نوجوان کو ریسکیو کے بعد 'ہائپوتھرمیا‘ یا جسمانی درجہ حرارت کافی حد تک گر چکے ہونے کی حالت میں ایک قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔