ڈی ڈبلیو کے اعداد و شمار کے مطابق افریقی باشندوں کے لیے جرمنی کا وزٹ ویزا حاصل کرنا دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے شہریوں کے مقابلے میں نہایت مشکل ہے۔
تصویر: Sergei Supinsky/AFP/Getty Images
اشتہار
اعداد و شمار کے مطابق براعظم افریقہ سے جرمنی کا وزٹ ویزا حاصل کرنے کے لیے جمع کرائی جانے والی درخواستوں میں ہر پانچ میں سے ایک درخواست مسترد کی گئی اور یہ تعداد دیگر براعظموں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
تین برس قبل گھانا کی 26 سالہ شہری گریس بوئٹنگ (غیر حقیقی نام) نے جرمنی آنے کے لیے پہلی مرتبہ ویزا کی درخواست جمع کرائی تھی، مگر اس نے نہیں سوچا تھا کہ ویزا کا حصول اتنا مشکل ہو گا۔ ’’آخر میں وہ کہتے ہیں کہ معذرت ہم آپ کو ویزا جاری نہیں کر سکتے۔ ہمیں اعتماد نہیں ہے کہ آپ جرمنی جانے کے بعد واپس گھانا لوٹیں گے۔‘‘
ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے گھانا کی اس شہری نے دعویٰ کیا کہ اس نے ویزا کے لیے تمام تر ضروری کوائف جمع کرائے تھے۔ ’’میں نے اپنی بینک اسٹیٹمنٹ دی، اکرا میں اپنے اپارٹمنٹ کے کاغذات کی نقل دی، میرا خاندان یہاں پر ہے۔ ان کو اور کیا چاہیے؟‘‘
گریس بوئٹنگ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس کی جانب سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل جمع کرائی گئی اور وہ بھی مسترد ہو گئی۔ بوئٹنگ نے بتایا کہ یہی کچھ دیگر دو درخواستوں کے ساتھ بھی ہوا اور چوتھی مرتبہ درخواست دائر کرنے پر انہیں ویزا دیا گیا۔ بوئٹنگ کو یقین ہے کہ اس کی ویزا درخواست کے مسترد ہونے کی وجہ اس کا آبائی ملک تھا۔
’’دیگر ملکوں کے لوگوں کے لیے جرمنی آنا کیوں آسان ہے؟ افریقی شہریوں کے لیے یہاں آنا کیوں مشکل ہے؟ چین یا آسٹریلیا سے جرمنی آنے والوں میں کیا فرق ہے؟ ہم تمام انسان ہیں۔ سب ایک جتنی فیس جمع کراتے ہیں۔ سب کو ایک جیسے کاغذات جمع کرانا پڑتے ہیں۔‘‘
گریس بوئٹنگ وہ واحد افریقی نہیں، جو ان خیالات کا اظہار کر رہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس تصور کے درپردہ سچائی کتنی ہے؟ ڈی ڈبلیو کے صحافیوں نے سن 2014 تا 2017 دنیا کے مختلف علاقوں اور خطوں میں قائم جرمن سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ویزا درخواستوں سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ اس جائزے میں طویل المدتی ویزوں مثلاﹰ تعلیم، کام اور فیملی ری یونین ویزوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جب کہ قلیل المدتی ’شینگن ویزا‘ کو مطالعے میں شامل نہیں کیا گیا۔
ایشیائی شہریوں کے لیے آسانی
پاکستانی پاسپورٹ پر ویزا کے بغیر کن ممالک کا سفر ممکن ہے؟
پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ ہے، جس کے ذریعے ان تیس سے کم ممالک کا بغیر ویزہ سفر ممکن ہے۔
تصویر: picture alliance / blickwinkel/M
ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک: 1۔ قطر
قطر نے گزشتہ برس پاکستان سمیت اسی سے زائد ممالک کے شہریوں کو پیشگی ویزا حاصل کیے بغیر تیس دن تک کی مدت کے لیے ’آمد پر ویزا‘ جاری کرنا شروع کیا ہے۔
تصویر: imago/imagebroker
2۔ کمبوڈیا
سیاحت کی غرض سے جنوب مشرقی ایشیائی ملک کمبوڈیا کا سفر کرنے کے لیے پاکستانی شہری آن لائن ای ویزا حاصل کر سکتے ہیں یا پھر وہ کمبوڈیا پہنچ کر ویزا بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/AP
3۔ مالدیپ
ہوٹل کی بکنگ، یومیہ اخراجات کے لیے درکار پیسے اور پاسپورٹ موجود ہو تو مالدیپ کی سیاحت کے لیے بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: AP
4۔ نیپال
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے نیپال کا 30 دن کا ویزا مفت ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے زیادہ وقت وہاں قیام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو فیس دے کر ویزا کا دورانیہ بڑھوانا پڑے گا۔
تصویر: picture-alliance/SOPA Images via ZUMA Wire/S. Pradhan
5۔ مشرقی تیمور
مشرقی تیمور انڈونیشا کا پڑوسی ملک ہے اور پاکستانی شہری یہاں پہنچ کر ایئرپورٹ پر ہی تیس روز کے لیے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Jewel Samad/AFP/Getty Images
کیریبین ممالک: 1۔ ڈومینیکن ریپبلک
کیریبین جزائر میں واقع اس چھوٹے سے جزیرہ نما ملک کے سفر کے لیے پاکستانی شہریوں کو ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی سیاح اور تجارت کی غرض سے جمہوریہ ڈومینیکا کا رخ کرنے والے ویزے کے بغیر وہاں چھ ماہ تک قیام کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/Photoshot/R. Guzman
2۔ ہیٹی
ہیٹی کیریبین جزائر میں واقع ہے اور تین ماہ تک قیام کے لیے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: AP
3۔ سینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز
کیریبین جزائر میں واقع ایک اور چھوٹے سے ملک سینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز کے لیے بھی پاکستانی شہریوں کو ایک ماہ قیام کے لیے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: KUS-Projekt
4۔ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو
بحیرہ کیریبین ہی میں واقع یہ ملک جنوبی امریکی ملک وینیزویلا سے محض گیارہ کلومیٹر دور ہے۔ یہاں سیاحت یا کاروبار کی غرض سے آنے والے پاکستانیوں کو نوے دن تک کے قیام کے لیے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/EPA/A. De Silva
5۔ مونٹسیراٹ
کیریبئن کایہ جزیرہ ویسٹ انڈیز کا حصہ ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو یہاں 180 دن تک کے قیام کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہے۔
تصویر: Montserrat Development Corporation
جنوبی بحرا الکاہل کے جزائر اور ممالک: 1۔ مائکرونیشیا
بحر الکاہل میں یہ جزائر پر مبنی ریاست مائکرونیشیا انڈونیشیا کے قریب واقع ہے۔ پاکستانی شہریوں کے پاس اگر مناسب رقم موجود ہو تو وہ ویزا حاصل کیے بغیر تیس دن تک کے لیے مائکرونیشیا جا سکتے ہیں۔
تصویر: Imago/imagebroker
2۔ جزائر کک
جنوبی بحر الکاہل میں واقع خود مختار ملک اور جزیرے کا کُل رقبہ نوے مربع میل بنتا ہے۔ جزائر کک میں بھی ’آمد پر ویزا‘ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/robertharding/M. Runkel
3۔ نیووے
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق جنوب مغربی بحر الکاہل میں جزیرہ ملک نیووے کا سفر بھی پاکستانی شہری بغیرہ پیشگی ویزا حاصل کیے کر سکتے ہیں۔
تصویر: Imago/imagebroker
4۔ جمہوریہ پلاؤ
بحر الکاہل کے اس چھوٹے سے جزیرہ ملک کا رقبہ ساڑھے چار سو مربع کلومیٹر ہے اور تیس دن تک قیام کے لیے پاکستانی شہریوں کو یہاں بھی پیشگی ویزے کی ضرورت نہیں۔
تصویر: Imago/blickwinkel
5۔ سامووا
جنوبی بحرالکاہل ہی میں واقع جزائر پر مشتمل ملک سامووا کی سیاحت کے لیے بھی ساٹھ روز تک قیام کے لیے ویزا وہاں پہنچ کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تصویر: AP
6۔ تووالو
بحر الکاہل میں آسٹریلیا سے کچھ دور اور فیجی کے قریب واقع جزیرہ تووالو دنیا کا چوتھا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ یہاں بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/robertharding
7۔ وانواتو
جمہوریہ وانواتو بھی جزائر پر مبنی ملک ہے اور یہ آسٹریلیا کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں بھی تیس دن تک کے قیام کے لیے پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد کو ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
افریقی ممالک: 1۔ کیپ ویردی
کیپ ویردی بھی مغربی افریقہ ہی میں واقع ہے اور یہاں بھی پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد ’ویزا آن ارائیول‘ یعنی وہاں پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/R.Harding
2۔ یونین آف دی کوموروز
افریقہ کے شمالی ساحل پر واقع جزیرہ نما اس ملک کو ’جزر القمر‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہاں آمد کے بعد پاکستانی شہری ویزا لے سکتے ہیں۔
3۔ گنی بساؤ
مغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں بھی پاکستانی شہری آمد کے بعد نوے دن تک کا ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: DW/F. Tchuma
4۔ کینیا
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو افریقی ملک کینیا میں آن ارائیول ویزا دینے کی سہولت موجود ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Gebert
5۔ مڈگاسکر
مڈگاسکر بحر ہند میں افریقہ کے مشرق میں واقع جزائر پر مبنی ملک ہے۔ پاکستانی دنیا کے اس چوتھے سب سے بڑے جزیرہ نما ملک مڈگاسکر پہنچ کر نوے دن تک کے لیے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: DW/J.Pasotti
6۔ موریطانیہ
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق افریقہ کے شمال مغرب میں واقع مسلم اکثریتی ملک موریطانیہ میں بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa
7۔ موزمبیق
جنوب مشرقی افریقی ملک موزمبیق میں بھی پاکستانی شہری ایئرپورٹ پر پہنچ کر تیس روز تک کے لیے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Ismael Miquidade
8۔ روانڈا
روانڈا کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو ایئرپورٹ پر آمد پر ویزا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سفر سے قبل ای ویزا بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Imago/photothek/T. Imo
9۔ سینیگال
پاکستانی شہری افریقی ملک سینیگال جانے کے لیے آن لائن اور ایئرپورٹ پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Imago Images
10۔ سیشلس
بحر ہند میں ڈیڑھ سو سے زائد چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل ملک سیشلس کا سفر پاکستانی شہری ویزا حاصل کیے بغیر کر سکتے ہیں۔
تصویر: picture alliance / blickwinkel/M
11۔ سیرالیون
سیرالیون کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو ایئرپورٹ پہنچنے پر ویزا فراہم کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/M. Longari
12۔ صومالیہ
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد افریقی ملک صومالیہ میں موغادیشو، بوصاصو اور گالکایو کے ہوائی اڈوں پر ’آمد کے بعد ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں صومالین سفارت خانے کی ویب سائٹ سے تاہم ان معلومات کی تصدیق نہیں ہوتی۔
تصویر: Reuters
13۔ تنزانیہ
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق موزمبیق کے پڑوسی ملک تنزانیہ میں بھی پاکستانی شہری ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: DW/A.Rönsberg
14۔ ٹوگو
افریقہ کے مغرب میں واقع پینسٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ملک ٹوگو میں بھی پاکستانی شہری ایئرپورٹ آمد کے بعد ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/I. Sanogo
15۔ یوگنڈا
وسطی افریقی ملک یوگنڈا میں بھی پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد ’آمد پر ویزا‘ حاصل کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں انٹرنیٹ پر پیشگی ’الیکٹرانک ویزا‘ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تصویر: DW/K. Adams
32 تصاویر1 | 32
سن 2014 تا 2017 تمام جرمن سفارت خانوں کی جانب سے ویزا درخواستوں کی وصولی کی سطح میں قریب 58 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ان درخواستوں کو رد کرنے کی سطح میں 131 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس دورانیے میں جن افراد کو ویزا جاری کیا گیا، ان میں سے فقط دس فیصد براعظم افریقہ سے تعلق رکھتے تھے جب کہ ایسے ایشیائی باشندے جنہیں ویزا دیا گیا، ان کی تعداد 60 فیصد تھی۔ جرمن ویزا حاصل کرنے والے یورپی ممالک کے شہریوں کی تعداد جاری کردہ مجموعی ویزوں میں 23 فیصد رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق ویزا درخواست رد کیے جانے کے اعتبار سے افریقہ سب سے آگے تھا۔ دنیا بھر میں جرمن سفارت خانوں کی جانب سے رد کی جانے والی ویزا درخواستوں میں 22 فیصد میں درخواست گزار افریقی تھے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق یورپی ممالک میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص کی ویزا درخواست رد ہوئی جب کہ ایشیا میں درخواست رد کیے جانے کی سطح ہر دس میں سے ایک تھی، یعنی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جن کی ویزا درخواستیں رد کی گئیں وہ ایشیا کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔