جرمن پارلیمانی انتخابات اور یونان کی امداد کا معاملہ
26 اگست 2013
اتوار کے روز جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ووٹرز کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ یونان کے لیے مزید قرضے کی فراہمی کی جگہ مالی امداد کے آپشن کو کھلا رکھا جائے گا۔ چند روز قبل جرمن وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے کہا تھا کہ اگر اگلے برس یونان کو نیا بیل آؤٹ پیکج دیا گیا تو اس کی مالیت کا حجم بہت کم ہو گا۔ دوسری جانب ایسے اشارے سامنے آئے ہیں کہ یونان کو سن 2014 کے دوران 10 ارب یورو سے زائد کے بیل آؤٹ پیکج کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
جرمنی میں سی ڈی یو کی انتخابی کمپین کے دوران یونان کے لیے کسی نئے مالی امدادی پیکج کے حوالے سے وزیر خزانہ شوئبلے کے ایک بیان نے اس معاملے کو گرم کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شوئبلے کا کہنا تھا کہ یونان کے لیے نیا بیل آؤٹ پیکج ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب چانسلر انگیلا میرکل کہتی ہیں کہ یونان کے لیے کسی بھی نئے امدادی پیکج پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ اسی مناسبت سے انہوں نے اتوار کے روز یونان کے لیے اضافی امداد کے حوالے سے ووٹرز کو مزید وضاحت دی۔ اس وضاحت میں بھی انہوں نے نئے بیل آؤٹ پیکج دینے کی کھل کر مخالفت نہیں کی البتہ یہ ضرور کہا کہ یورپی یونین اگلے برس اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ یونان کے لیے کسی امدادی پیکج کا جرمنی کے عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کوئی بات کر کے یورو زون میں بے یقینی کی فضا کو پیدا کرنے کی کوئی تمنا نہیں رکھتیں۔ مختلف اعداد و شمار میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ جرمن عوام یونان کے لیے کسی تیسرے مالی پیکج کی فراہمی کے حوالے سے بےچینی محسوس کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر عوام میں یہ احساس بڑھ گیا کہ میرکل یونان کے لیے نئے امدادی پیکج دینے کا احساس رکھتی ہیں تو اس پر ان کو انتخابات میں نامناسب صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
جرمن اپوزیشن جماعتیں یہ مؤقف رکھتی ہیں کہ میرکل حکومت یورو زون کے لیے رقم مختص کرنے کے حوالے سے حقیقت کو چھپانے کی کوشش میں ہیں۔ اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے چانسلر کے امیدوار پیٹر اشٹائن برُوک کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ہفتوں کے دوران انتخابی مہم کے دوران میرکل حکومت پر اپنا پریشر بڑھائیں گے کہ وہ اس صورت حال کی وضاحت کریں۔ انتخابی مہم کے دوران چانسلر میرکل اور پیٹر اشٹائن برُوک کے درمیان ٹیلی وژن مناظرہ بھی ہو گا۔ انتخابی جائزوں کے مطابق یونان کے لیے مالی امدادی پیکجوں کا معاملہ میرکل کے لیے سخت خطرناک ہو سکتا ہے لیکن اپوزیشن کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہو گا کیونکہ وہ پارلیمنٹ میں بیل آؤٹ بلوں کی حمایت کر چکی ہیں۔