1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتجرمنی

جرمن چانسلر فریڈرش میرس کا دورہ اسپین

صلاح الدین زین ڈی پی اے، اے ایف پی اور روئٹرز کے ساتھ
19 ستمبر 2025

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے میڈرڈ میں ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز سے ملاقات کی۔ دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان غزہ کے مسئلے پر بات چیت ہوئی۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز اور جرمن چانسلر فریڈرش میرس
جرمن چانسلر کا میڈرڈ کا یہ دورہ اس وقت ہوا ہے، جب یورپی یونین فلسطینی علاقے میں جاری انسانی بحران کے حوالے سے اسرائیل پر ممکنہ پابندیاں نافذ کرنے پر تبادلہ خیال کر رہی ہےتصویر: Kay Nietfeld/dpa/picture alliance

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے جمعرات کی شام کو ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز سے میڈرڈ میں ملاقات کی اور غزہ کے تنازعے پر "اختلاف رائے" کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے "مختلف نتائج" اخذ کیے ہیں۔

جرمن چانسلر کا میڈرڈ کا یہ دورہ اس وقت ہوا ہے، جب یورپی یونین فلسطینی علاقے میں جاری انسانی بحران کے حوالے سے اسرائیل پر ممکنہ پابندیاں نافذ کرنے پر تبادلہ خیال کر رہی ہے۔

یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک نے ایسی پابندیوں کی حمایت کی ہے، تاہم قابل ذکر طور پر جرمنی اس میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

قدامت پسند سیاسی رہنما میرس نے کہا کہ جرمنی اسرائیل کے ساتھ "مضبوطی سے" کھڑا ہے، تاہم انہوں نے غزہ کے معاملے پر اس کے ردعمل کو "غیر متناسب" قرار دیا۔

سانچیز کی بائیں بازو کی حکومت اسرائیل کے وزیر اعظم بنجیمن نیتن یاہو اور غزہ میں ان کی فوجی مہم پر یورپ کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ایک رہے ہیں۔

میرس نے کہا، "اسرائیلی حکومت پر تنقید تو ممکن ہے، تاہم ہمیں اسے کبھی بھی یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور سانچیز نے اس موقف سے اتفاق کیا ہے۔

تاہم، جرمن چانسلر نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا جرمنی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، جو اسپین نے 2024 میں ہی کر لیا تھا۔ سانچیز نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو "نسل کشی" قرار دیا ہے اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں اسرائیلی کھلاڑیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے ساتھ بات کرتے ہوئے میرس نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں اس کے بیان کردہ اہداف کے متناسب نہیں ہیںتصویر: Burak Akbulut/Anadolu/picture alliance

ہسپانوی وزیر اعظم سانچیز نے اسرائیل پر اسلحے کی مکمل پابندی کے ساتھ ہی "غزہ میں نسل کشی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم میں براہ راست ملوث تمام افراد کے لیے سفری پابندی" کا بھی اعلان کیا ہے۔

جرمنی کو اسرائیل پر پابندیوں سے متعلق فیصلہ کرنا ہے

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے میڈرڈ کے دورے کے موقع پر کہا کہ جرمنی اکتوبر میں کوپن ہیگن میں یورپی یونین کے اجلاس سے قبل اسرائیل کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کی حمایت کرنے کے بارے میں فیصلہ کر لے گا۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے ساتھ بات کرتے ہوئے میرس نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں اس کے بیان کردہ اہداف کے متناسب نہیں ہیں، لیکن کہا کہ جرمنی اس نظریے میں شریک نہیں ہے کہ یہ اقدامات نسل کشی کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم ان سوالات پر جرمن حکومت کی حتمی رائے تک پہنچیں گے، جن کے جوابات اب آنے والے دنوں میں یورپی سطح پر دینے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "ہم اگلے ہفتے وفاقی کابینہ کی سطح پر ان مسائل پر دوبارہ بات کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد ہم یکم اکتوبر کو کوپن ہیگن میں ہونے والے غیر رسمی کونسل کے اجلاس میں ایک ایسے موقف کو حاصل کر لیں گے جسے پوری جرمن حکومت کی حمایت بھی حاصل ہو گی۔"

ادارت: جاوید اختر

جرمنی: فلسطین کے حامی مظاہرین کی ملک بدری کا معاملہ

02:28

This browser does not support the video element.

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں