جرمن چانسلر میرس کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ شروع
12 جنوری 2026
فریڈرش میرس کا چانسلر بننے کے بعد بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔ یہ دو روزہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ التوا آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاریاں آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے دورے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا، ''دونوں رہنما بھارت۔ جرمنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے مختلف پہلوؤں میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے، جس نے گزشتہ سال 25 سال مکمل کیے ہیں۔‘‘
جرمن چانسلر فریڈرِش میرس اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان احمدآباد میں ہونے والی وسیع البنیاد بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، اہم ٹیکنالوجیز اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رہنے کی توقع ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق، جرمن چانسلر نے سابرمتی گاندھی آشرم کا دورہ کیا، جو کبھی مہاتما گاندھی کی رہائش گاہ اور برطانوی نوآبادیاتی دور سے آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم مرکز تھا۔ انہوں نے ایک پتنگ میلے میں بھی حصہ لیا۔
منگل کو میرس بنگلورو جائیں گے، جو بھارت کی ہائی ٹیک صنعت کا مرکز ہے۔
بھارت جرمنی کا ایک اہم شراکت دار
جرمن چانسلر کے ساتھ ایک بڑا تجارتی وفد بھی بھارت آیا ہے۔
جرمن چیمبر آف انڈسٹری اینڈ کامرس کے غیر ملکی تجارت کے سربراہ فولکر ٹریئر کے مطابق، تقریباً 2,000 جرمن کمپنیوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جن میں قریب پانچ لاکھ لوگ کام کر رہے ہیں۔
جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹریئر نے کہا، ''اقتصادی حرکیات، نوجوان آبادی اور پھیلتے ہوئے صنعتی بنیاد کو دیکھتے ہوئے، بھارت ہماری کمپنیوں کے لیے تیزی سے اہم بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر سپلائی چین میں تنوع لانے اور بین الاقوامی سطح پر نئے مواقع حاصل کرنے کے نقطۂ نظر سے۔‘‘
تاہم ٹریئر کے مطابق، اپنے بڑے حجم کے باوجود اس وقت بھارت جرمنی کے تجارتی شراکت داروں کی فہرست میں 23ویں نمبر پر ہے، جبکہ یورپی یونین کے اندر بھارت کے لیے جرمنی پہلے نمبر کا تجارتی شراکت دار ہے۔
سال 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان کل تجارت تقریباً 31 ارب یورو رہی، جس میں جرمنی کو معمولی سبقت حاصل رہی۔ لیکن چین سے موازنہ کیا جائے تو یہ اعداد و شمار بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ 2024 میں جرمنی اور چین کے درمیان تقریباً 246 ارب یورو کی تجارت ہوئی۔
ٹریئر کے مطابق، ''بھارت جرمن معیشت کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ جرمن کمپنیوں کی مکینیکل انجینئرنگ، آٹو موبائل انڈسٹری اور کیمیکل جیسے اہم شعبوں میں پہلے ہی مضبوط پوزیشن ہے۔
امیگریشن بھی اہم موضوع
روزنامہ انڈین ایکسپریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھارت میں جرمنی کے سفیر فلپ ایکرمان نے کہا کہ چانسلر میرس کے اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور نسبتاً متوازن کاروبار کے ساتھ ساتھ امیگریشن دوسرا اہم موضوع ہو گا۔
ایکرمان نے کہا، ''جرمنی میں بھارتی کارکن اپنے جرمن کارکنوں کے مقابلے میں اوسطاً 20 فیصد زیادہ کماتے ہیں۔ یہ اس بات کا شاندار ثبوت ہے کہ یہ ہجرت شراکت داری کس قدر مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''یہ حقیقت کہ 25 بڑے سی ای اوز چانسلر کے ساتھ آ رہے ہیں، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جرمن کاروباری برادری میں بھارت کو ایک ممکنہ اور مستقبل کے بڑے مارکیٹ کے طور پر کتنی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔‘‘
جرمنی میں روزگار اور کاروبار کے بارے میں ایکرمان نے کہا، جرمنی میں ہمارے پاس ایسے شعبے ہیں جہاں ہمیں ہنر مند کارکنوں کی فوری ضرورت ہے، جیسے نرسنگ، نگہداشت اور دستکاری کے شعبے۔ وہاں نوجوانوں کی کافی تعداد نہیں ہے، اور ہمیں لگتا ہے کہ جرمنی جانے کے معاملے میں بھارت میں بہت خواہش، تیاری اور کشادہ دلی موجود ہے۔‘‘
ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک مل کر توانائی، ماحولیاتی تبدیلی، صنعتی ڈیجیٹلائزیشن، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ہنرمند کارکنوں کی تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون کو کہیں زیادہ بہتر بنا سکتے ہیں۔
ادارت: صلاح الدین زین