جرمن چینی حکومتی مذاکرات کا تیسرا دور
10 اکتوبر 2014
برلن میں جرمن اور چینی حکومتوں کے مابین مذاکرات شروع ہونے سے قبل چانسلر انگیلا میرکل اور چینی سربراہ حکومت لی کی چیانگ کو چانسلر کے دفتر میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے دو درجن سے زائد وزراء بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اس دوران ایک ایسے فریم ورک پر بھی دستخط کیے جائیں گے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تخلیقی اشتراک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ کی انتظامیہ کے چین نواز سربراہ کے خلاف جاری مظاہروں اور مشرقی یوکرائن کی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔ دونوں ممالک کے سربراہان عراق اور شام میں آئی ایس کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر بھی تبادلہٴ خیال کریں گے۔
آج بات چیت شروع ہونے سے پہلے لی کی چیانگ نے جرمن صدر یوآخیم گاؤک سے بھی ملاقات کی۔ اگرچہ بہت سے معاملات میں چین اور جرمنی کے مابین اتفاق ہے تاہم کئی عالمی مسائل پر دونوں ممالک کی رائے ایک دوسرے سے بہت ہی مختلف بھی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ حکومتی مذاکرات کے ذریعے جرمنی اور چین کے مابین تعلقات مزید پختہ ہوں گے۔
جرمنی میں چینی امور کے ماہر سیباستیان ہائل مان کے بقول حل طلب مسائل اب دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر پہلے کی طرح اثر انداز نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران جرمنی اور چین ایک دوسرے کے کافی قریب آئے ہیں تاہم اب ان تعلقات پر کچھ سیاہ بادل بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ ہائل مان کے بقول اگر امورِ سلامتی کے چینی اداروں نے ہانگ کانگ میں مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اس کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر ضرور پڑے گا۔
ایک روزہ بات چیت کے اختتام پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اس موقع کی مناسبت سے متعدد تنظیموں نے جرمن چانسلر میرکل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دوران ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین اور چین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر لازمی طور پر بات کریں اور بیجنگ حکومت پر زور ڈالیں کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مارچ 2013ء میں لی کی چیانگ کے سربراہ مملکت بننے کے بعد بھی چین میں اس حوالے سے حالات جوں کے توں ہیں۔
ہفتے کے روز چینی سربراہ حکومت لی کی چیانگ ایک اقتصادی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جرمن شہر ہیمبرگ جائیں گے۔ اس کے بعد ان کے دورہ یورپ کی اگلی منزل روس اور اٹلی ہیں۔