جرمنی کو کس طرح غیر یورپی ممالک کے تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے لیے پرکشش بنایا جا سکتا ہے؟ برلن حکومت ملکی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے دو قانونی مسودوں کے ذریعے اسی منزل تک پہنچنا چاہتی ہے۔
اشتہار
ابتدائی طور پر وفاقی مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں ان مسودوں میں درج تفصیلات پر منقسم رائے رکھتی تھیں۔ تاہم منگل کو یونین جماعتوں اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے مابین امیگریشن کے حوالے سے نئے قوانین کے مسودوں پر اتفاق رائے ہو گیا۔
اب جرمن کابینہ نے بھی انہیں منظور کر لیا ہے۔ ان مسودوں یعنی ماہرین کے لیے مجوزہ امیگریشن قوانین میں یورپ سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اور ہنر مند افراد کے لیے مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ غیر ملکی پیشہ ور افراد جرمنی کا رخ کریں۔
اس سے قبل جرمنی میں امیگریشن سے متعلق پالیسیوں میں صرف تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد یعنی پروفیشنلز پر ہی توجہ دی گئی تھی۔ اس پیش رفت سے ’امپلائمنٹ ٹولیریشن‘ قانون ایک طرح سے ختم ہو گیا ہے۔
اس طرح اب ایسے عبوری رہائشی اجازت ناموں کے حامل تارکین وطن کو بھی کم از کم تیس ماہ کا ویزا دیا جائے گا، جو برسر روزگار ہوں، حکومت پر مالیاتی حوالے سے بوجھ نہ ہوں اور معاشرے میں ضم ہو چکے ہوں۔ اس کے لیے ایک شرط رکھی گئی ہے کہ کوئی بھی تارک وطن کم از کم اٹھارہ ماہ سے قانونی طور پر برسر روزگار ہو۔
تارکین وطن کی سماجی قبولیت، کن ممالک میں زیادہ؟
’اپسوس پبلک افیئرز‘ نامی ادارے نے اپنے ایک تازہ انڈیکس میں ستائیس ممالک کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ کن ممالک میں غیر ملکیوں کو مرکزی سماجی دھارے میں قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔
تصویر: picture-alliance/ dpa
۱۔ کینیڈا
پچپن کے مجموعی اسکور کے ساتھ تارکین وطن کو معاشرتی سطح پر ملک کا ’حقیقی‘ شہری تسلیم کرنے میں کینیڈا سب سے نمایاں ہے۔ کینیڈا میں مختلف مذاہب، جنسی رجحانات اور سیاسی نظریات کے حامل غیر ملکیوں کو مرکزی سماجی دھارے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ترک وطن پس منظر کے حامل ایسے افراد کو، جو کینیڈا میں پیدا ہوئے، حقیقی کینیڈین شہری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Images/N. Denette
۲۔ امریکا
انڈیکس میں امریکا دوسرے نمبر پر ہے جس کا مجموعی اسکور 54 رہا۔ امریکی پاسپورٹ حاصل کرنے والے افراد اور ترک وطن پس منظر رکھنے والوں کو حقیقی امریکی شہری کے طور پر ہی سماجی سطح پر قبول کیا جاتا ہے۔
تصویر: Picture-Alliance/AP Photo/S. Senne
۳۔ جنوبی افریقہ
تارکین وطن کی سماجی قبولیت کے انڈیکس میں 52 کے مجموعی اسکور کے ساتھ جنوبی افریقہ تیسرے نمبر پر ہے۔ مختلف مذاہب کے پیروکار غیر ملکیوں کی سماجی قبولیت کی صورت حال جنوبی افریقہ میں کافی بہتر ہے۔ تاہم 33 کے اسکور کے ساتھ معاشرتی سطح پر شہریت کے حصول کے بعد بھی غیر ملکیوں کو بطور ’حقیقی‘ شہری تسلیم کرنے کا رجحان کم ہے۔
تصویر: Getty Images/AFP/S. Khan
۴۔ فرانس
چوتھے نمبر پر فرانس ہے جہاں سماجی سطح پر غیر ملکی ہم جنس پرست تارکین وطن کی سماجی قبولیت دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ کی طرح فرانس میں بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کے باوجود تارکین وطن کو سماجی طور پر حقیقی فرانسیسی شہری قبول کرنے کے حوالے سے فرانس کا اسکور 27 رہا۔
تصویر: Reuters/Platiau
۵۔ آسٹریلیا
پانچویں نمبر پر آسٹریلیا ہے جس کا مجموعی اسکور 44 ہے۔ سماجی سطح پر اس ملک میں شہریت حاصل کر لینے والے غیر ملکیوں کی بطور آسٹریلین شہری شناخت تسلیم کر لی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں غیر ملکی افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی معاشرہ حقیقی آسٹریلوی شہری قبول کرتا ہے۔
تصویر: Reuters
۶۔ چلی
جنوبی افریقی ملک چلی اس فہرست میں بیالیس کے اسکور کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔ ہم جنس پرست غیر ملکی تارکین وطن کی سماجی قبولیت کے حوالے سے چلی فرانس کے بعد دوسرا نمایاں ترین ملک بھی ہے۔ تاہم دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملکی مرکزی سماجی دھارے کا حصہ سمجھنے کے حوالے سے چلی کا اسکور محض 33 رہا۔
تصویر: Reuters/R. Garrido
۷۔ ارجنٹائن
ارجنٹائن چالیس کے مجموعی اسکور کے ساتھ اس درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔ تارکین وطن کی دوسری نسل اور ہم جنس پرست افراد کی سماجی سطح پر قبولیت کے حوالے سے اجنٹائن کا اسکور 65 سے زائد رہا۔
تصویر: Reuters/R. Garrido
۸۔ سویڈن
سویڈن کا مجموعی اسکور 38 رہا۔ ہم جنس پرست تارکین وطن کی قبولیت کے حوالے سے سویڈن کو 69 پوائنٹس ملے جب کہ مقامی پاسپورٹ کے حصول کے بعد بھی تارکین وطن کو بطور حقیقی شہری تسلیم کرنے کے سلسلے میں سویڈن کو 26 پوائنٹس دیے گئے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
۹۔ سپین
تارکین وطن کی سماجی قبولیت کے لحاظ سے اسپین کا مجموعی اسکور 36 رہا اور وہ اس فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ ہسپانوی شہریت کے حصول کے بعد بھی غیر ملکی افراد کی سماجی قبولیت کے ضمن میں اسپین کا اسکور محض 25 جب کہ تارکین وطن کی دوسری نسل کو حقیقی ہسپانوی شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے اسکور 54 رہا۔
تصویر: picture-alliance/Eventpress
۱۰۔ برطانیہ
اس درجہ بندی میں پینتیس کے مجموعی اسکور کے ساتھ برطانیہ دسویں نمبر پر ہے۔ اسپین کی طرح برطانیہ میں بھی تارکین وطن کی دوسری نسل کو برطانوی شہری تصور کرنے کا سماجی رجحان بہتر ہے۔ تاہم برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد بھی تارکین وطن کو حقیقی برطانوی شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے برطانیہ کا اسکور تیس رہا۔
تصویر: Reuters/H. Nicholls
۱۶۔ جرمنی
جرمنی اس درجہ بندی میں سولہویں نمبر پر ہے۔ جرمنی میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی سماجی قبولیت کینیڈا اور امریکا کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس حوالے سے جرمنی کا اسکور محض 11 رہا۔ اسی طرح جرمن پاسپورٹ مل جانے کے بعد بھی غیر ملکیوں کو جرمن شہری تسلیم کرنے کے سماجی رجحان میں بھی جرمنی کا اسکور 20 رہا۔
تصویر: Imago/R. Peters
۲۱۔ ترکی
اکیسویں نمبر پر ترکی ہے جس کا مجموعی اسکور منفی چھ رہا۔ ترکی میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو سماجی سطح پر ترک شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں ترکی کو منفی بارہ پوائنٹس دیے گئے۔ جب کہ پاسپورٹ کے حصول کے بعد بھی تارکین وطن کو حقیقی ترک شہری تسلیم کرنے کے حوالے سے ترکی کا اسکور منفی بائیس رہا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/epa/AFP/A. Altan
12 تصاویر1 | 12
جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کے مطابق اپنی خوشحالی کے تحفظ اور اس کے معیار کو برقرار رکھنے کی خاطر جرمنی کو غیر ملکی ہنر مند افراد کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول اس مقصد کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے کا یہ انتہائی موزوں وقت ہے۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر محنت ہوبرٹس ہائل کے مطابق، ’’بیس سال کے بحث و مباحثے کے بعد جرمنی ایک جدید امیگریشن قانون اپنانے جا رہا ہے۔‘‘
دوسری جانب جرمن ٹریڈ یونینوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر وسیع تر مخلوط حکومت نے اس مسودے پر نظرثانی نہ کی، تو اس کا مطلب سماجی انضمام کے ایک موقع کو ضائع کرنا ہو گا۔ مزید یہ کہ اب تک کی دستاویزی پیش رفت تنخواہوں میں کمی اور استحصال کی وجہ ہی بنی ہے۔