جرمن ہائی وے پر مسافر بس کے حادثے میں متعدد افراد ہلاک
27 مارچ 2024
جرمنی کے مشرقی شہر لائپزگ کے قریب ایک مسافر بس کو پیش آنے والے ایک بڑے حادثے میں بدھ ستائیس مارچ کو کم از کم پانچ افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ بس جرمن دارالحکومت برلن سے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ جا رہی تھی۔
حادثے کے وقت اس بس میں 55 افراد سوار تھے، جن میں سے 53 مسافر تھے اور باقی دو ڈرائیورتصویر: Jan Woitas/dpa/picture alliance
اشتہار
لائپزگ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یورپ کے بیسیوں شہروں میں خاص طور پر نوجوانوں اور سیاحوں کو کم قیمت پر زمینی سفر کی سہولت مہیا کرنے والے فلکس بس نیٹ ورک کی اس بس کو یہ حادثہ جرمنی میں آٹوبان کہلانے والی ہائی ویز کے نیٹ ورک کی ایک شاہراہ اے نائن پر پیش آیا۔
پولیس کے مطابق آج بدھ کی صبح یہ مسافر بس نامعلوم وجوہات کی بنا پر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر ہائی وے سے اتر کر الٹ گئی۔
حادثے کے فوری بعد کئی امدادی ہیلی کاپٹر اور ایمبولنسیں جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے اور ہلاک شدگان کی لاشیں ہٹانے اور زخمیوں کی طبی دیکھ بھال کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔
یہ مسافر بس جرمن دارالحکومت برلن سے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ جا رہی تھیتصویر: Jan Woitas/dpa/picture alliance
اس دوران ریسکیو کارروائیوں کے باعث متاثرہ آٹوبان پر دوطرفہ ٹریفک بھی پوری طرح بند کر دی گئی تھی۔ جرمنی میں اے نائن کہلانے والی آٹوبان ملک کے شمال اور جنوب میں قومی شاہراہوں کو جوڑنے والی ایک مرکزی ہائی وے ہے۔
فلکس بس کمپنی کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ''یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ یہ حادثہ کن حالات میں پیش آیا۔ ہم پولیس، مقامی حکام اور امدادی کارکنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، زخمیوں کا علاج جاری ہے اور اس حادثے کے اسباب کا تعین بھی جلد ہی ہو جائے گا۔‘‘
اس سے قبل 2019ء میں بھی اسی شاہراہ پر وفاقی صوبے سیکسنی انہالٹ میں باڈ ڈیورین برگ کے قریب ایک بس کو حادثہ پیش آیا تھا، جس میں ایک خاتون ہلاک اور کئی دیگر مسافر زخمی ہو گئے تھے۔
آج پیش آنے والا حادثہ اس جرمن شاہراہ پر گزشتہ کئی برسوں کے دوران رونما ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حادثہ ہے۔
م م / ع ا (اے ایف پی، ڈی پی اے)
جرمن شاہراہیں، کیا حقیقت اور کیا افسانہ
جرمن موٹر وے کا پیچیدہ مگر پُرکشش نیٹ ورک اس پر سفر کرنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے رکھتا ہے۔ جانیے کہ جرمن شاہراہوں کے حوالے سے داستانیں کیا ہیں اور حقائق کیا بتاتے ہیں۔
تصویر: Universum Film
سب سے قدیم شاہراہ
جرمن دارالحکومت برلن میں اندرونِ شہر شاہراہ ’اے وی یو ایس‘ کو ملک کی سب سے قدیم موٹر وے تصور کیا جاتا ہے۔ اسے سن 1913 اور سن 1921 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اُس وقت یہ محض دس کلومیٹر طویل تھی۔ اس کے اتنا مختصر ہونے کے سبب اسے جرمنی میں شاہراہوں کا نقشِ اول بھی کہا جاتا ہے۔
تصویر: Getty Images/S. Gallup
صرف گاڑیوں کے لیے سڑک
جرمنی میں پہلی ’باقاعدہ‘ موٹر وے کولون اور بون کے شہروں کے درمیان 6 اگست سن 1932 کو گاڑیوں کی آمد ورفت کے لیے کھولی گئی۔ اس ہائی وے کو سرکاری طور پر بھی ’ وہیکلز، اونلی روڈ‘ یعنی ’صرف گاڑیوں کے لیے سٹرک‘ ہی کہا گیا۔ آج یہ سڑک آٹو بان ’اے 555‘ کا ایک حصہ ہے۔
تصویر: DW/M. Nelioubin
موٹر وے کی تعمیر ہٹلر کی تجویز نہیں تھی
مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ جرمنی میں پہلی موٹر وے کی تعمیر کی ہدایت ایڈولف ہٹلر نے نہیں دی تھی۔ گزشتہ سلائیڈ میں دکھائی گئی سڑک بنانے کا منصوبہ، کلون کے اس وقت کے لارڈ مئیر کونراڈ آڈے ناؤر کا تھا۔
تصویر: picture-alliance/ dpa/dpaweb
’ہائی وے ون‘، شاہراہوں کی چیمپئین
دنیا بھر کی شاہراہوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آسٹریلیا کی ’ہائی وے ون‘ نامی سڑک دنیا کی سب سے طویل شاہراہ ہے۔ یہ سڑک قریب تمام برِاعظم آسٹریلیا کا احاطہ کرتی ہے اور اس کی طوالت 14،000 کلو میٹر سے زائد ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa
حیرت انگیز نیٹ ورک
جرمنی کو ’گنجان ترین شاہراہوں کا ملک‘ کہا جاتا ہے۔ جرمن ’آٹوبان‘ یا موٹر وے کے اِس نیٹ ورک کی لمبائی تقریباﹰ 13،000 کلو میٹر ہے۔ اگرچہ آٹوبان ملکی شاہراہوں کا صرف چھ فیصد ہے لیکن جرمنی کی ایک تہائی مجموعی ٹریفک اسی موٹر وے پر انحصار کرتی ہے۔
تصویر: Universum Film
موٹر وے کے بڑھتے ٹول ٹیکس
جرمن وزیرِ ٹرانسپورٹ الیگزینڈر ڈوبرینڈٹ کو توقع ہے کہ ہائی وے پر مسافر بردار گاڑیوں کے لیے ٹول ٹیکس متعارف کرانے سے ملک کو سالانہ 500 ملین یورو کی آمدنی ہو گی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹول جمع کرنے کی غرض سے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے کثیر اخراجات کرنے ہوں گے۔