لبنان پہنچنے والا سوڈانی مہاجر کسی سیاحتی ساحل پر جائے، تو داخل نہیں ہونے دیا جاتا، کبھی لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ صفائی والا ہے اور اسے کوئی کرایے پر گھر بھی نہیں دیتا۔ ان تمام مسائل کی وجہ صرف اس کی جلد کا رنگ ہے۔
تصویر: WFP/Hussam Al Saleh
اشتہار
لبنان میں مقیم سوڈانی مہاجر عبداللہ آفندی کو زندگی کے قریب ہر ہر شعبے میں جلد کے رنگ کی وجہ سے تفریق اور عدم مساوات کے معاملات کا سامنا ہے اور اب اس نے ان مسائل کا مقابلہ کرنے اور نادرست رویوں سے لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ انہوں نے اسی مقصد کے لیے ایک ریڈیو شو میں حصہ لیا، جس میں سوڈان، ایتھوپیا، صومالیہ اور فلپائن جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو مدعو کیا جاتا ہے۔ لبنان میں اس نوعیت کا یہ پہلا ریڈیو پروگرام ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام میں ان کی شرکت کا مقصد لبنان کے لوگوں کو یہ سمجھانا تھا کہ وہ تارکین وطن کے حوالے سے برداشت، تکریم اور عزت کا رویہ رکھیں۔ تارکین وطن کے حقوق سے متعلق مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لوگوں میں تارکین وطن سے متعلق برداشت اور تکریم کا فقدان ہے۔
تھامس روئٹرز فاؤنڈیشن سے بات چیت میں عبداللہ آفندی نے کہا، ’زیادہ تر لبنانی سمجھتے ہیں کہ سوڈان سے تعلق رکھنے والے لوگ صفائی والے ہیں یا مزدور ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ بدلیں۔‘‘
27 سالہ آفندی سات برس قبل مغربی سوڈان کے دارفور خطے سے لبنان پہنچا تھا۔ سن 2003 میں دارفور کے خطے میں مسلح تنازعے کی وجہ سے لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑتی تھی۔
ایتھوپیا سے فرار ہونے والے انوآک مہاجرین کی حالت زار
ایتھوپیا میں انوآک نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد عشروں سے حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ متعدد انوآک باشندے پڑوسی ملک جنوبی سوڈان کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔ ان مہاجرین کی حالت زار کیا ہے اور یہ کیا محسوس کرتے ہیں؟
تصویر: DW/T. Marima
خاندان سے دوبارہ ملاپ
انتیس سالہ اوکوالہ اوچنگ چام کو اپنے ملک ایتھوپیا سے جنوبی سوڈان پہنچنے کا خطرناک سفر طے کرنے میں دو سال کا عرصہ لگا۔ چام نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ میرے پاس جنوبی سوڈان جانے کے لیے بس کا کرایہ نہیں تھا اس لیے میں نے پیدل ہی یہ سفر اختیار کیا۔‘‘ رواں برس اپریل میں چام بالآخر جنوبی سوڈان میں قائم گوروم مہاجر کیمپ پہنچا جہاں اس کی بیوی اور تین بچے پہلے سے موجود تھے۔
تصویر: DW/T. Marima
ٹھہر جائیں یا واپس چلے جائیں؟
اس تصویر میں انوآک اقلیت کے بچے مہاجر کیمپ کے باہر بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔ چام نے بغاوت کے الزام میں ایتھوپیا کی جیل میں کئی سال گزارے ہیں۔ اُس کی رائے میں ایتھوپیا واپس جانا انوآک نسلی اقلیت کے لوگوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔
تصویر: DW/T. Marima
بالآخر تحفظ مل گیا
مہاجر خاتون اکواٹا اوموک بھی جنوبی سوڈان کے اس مہاجر کیمپ میں مقیم دو ہزار ایتھوپین مہاجرین میں سے ایک ہیں جو نسل کی بنیاد پر کیے جانے والے تشدد سے فرار ہو کر یہاں آئے ہیں۔
تصویر: DW/T. Marima
کیا گھر واپس جانا بھی ایک راستہ ہے؟
جنوبی سوڈان میں دارالحکومت جوبا سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گوروم مہاجر کیمپ کی رہائشی اکواٹا اوموک چودہ سال قبل ترک وطن سے پہلے کھیتی باڑی کا کام کرتی تھیں۔ انتہائی مشکل حالات میں رہنے کے باوجود اوموک ایتھوپیا واپس جانے کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ اگر ایتھوپیا اب آزاد ہے تو میں واپس جاؤں گی اور اگر ایسا نہیں تو پھر جانا ممکن نہیں۔‘‘
تصویر: DW/T. Marima
اہل خانہ ایک دوسرے سے جدا
گوروم مہاجر کیمپ کی رہائشی ایک خاتون جلانے کے لیے لکڑی کاٹ رہی ہے۔ ایتھوپیا سے نسلی تشدد کے سبب فرار ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ مرد حضرات کو اکثر بغاوت کا الزام عائد کر کے گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ ایسی صورت میں عموماﹰ عورتوں کو ہی گھر کے تمام کام سرانجام دینے پڑتے ہیں۔
تصویر: DW/T. Marima
گوروم مہاجر کیمپ کیا واقعی محفوظ ہے؟
انوآک اقلیت کے کچھ بچے کیمپ میں ایک ایسے بورڈ کے سامنے کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے کہ یہ کیمپ اسلحہ فری زون ہے۔ تاہم اس کیمپ پر بھی اس وقت حملہ ہو چکا ہے جب جنوبی سوڈانی مسلح گروپ ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھے۔
تصویر: DW/T. Marima
گھر سے دور
ایتھوپیا کے نو منتخب وزیر اعظم آبی احمد نے دیگر معاملات کے ساتھ مختلف نسلی گروہوں کو دیوار سے لگانے کے معاملے کو بھی حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ملک میں بدلتی سیاسی فضا کے باوجود تاہم نسلی بنیادوں پر ظلم اب بھی جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تازہ تنازعے کے سبب ایتھوپیا سے ایک ملین افراد فرار ہو چکے ہیں۔
تصویر: DW/T. Marima
مہاجرین کے نئے قافلے
اس تصویر میں گوروم مہاجر کیمپ کے استقبالیے پر انوآک مہاجرین کے ایک نئے گروپ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کا کہنا ہے کہ روزانہ کے حساب سے اوسطاﹰ پندرہ سے بیس مہاجرین یہاں پہنچ رہے ہیں۔
تصویر: DW/T. Marima
8 تصاویر1 | 8
آفندی لبنان میں ایک ریستوران میں کام کرتا ہے اور بیروت میں ایک رہائشی عمارت میں دیکھ بھال سے متعلقہ کام سے بھی پیسے کما کر اپنی زندگی گزار رہا ہے۔
آفندی کی کہانی تارکین وطن سے متعلق اس خصوصی ریڈیو پروگرام میں اب تک نشر ہونے والے متعدد دیگر مہاجرین کے سلسلے کا حصہ ہے۔ لبنان میں معروف انڈیپنڈنٹ ریڈیو تارکین وطن کو اپنے پروگرام میں مدعو کر کے ان کی ثقافت، کھانوں اور لبنان میں درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بات چیت لوگوں تک پہنچاتا ہے۔
اس پروگرام میں آفندی کے ساتھ دیگر دو سوڈانی تارکین وطن کو بھی مدعو کیا گیا، جب کہ لبنان میں تعینات سوڈانی سفیر کا ایک انٹرویو بھی چلایا گیا، جس میں سفیر سے انسانی حقوق کی صورت حال پر بات چیت کی گئی تھی۔