جنرل اسمبلی میں شام پر تنقید، اوباما قیادت کریں گے
25 ستمبر 2012
اقوام متحدہ سے خبر ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں مغربی ملکوں کی طرف سے شام پر شدید تنقید متوقع ہے اور عالمی ادارے سے ٹھوس اقدامات کے مطالبے بھی کیے جائیں گے۔ اے ایف پی کے مطابق اس عمل میں صدر اوباما مغربی دنیا کی قیادت کرتے ہوئے مطالبہ کریں گے کہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
امریکی صدر اوباما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے والے ابتدائی مقررین میں شامل ہوں گے۔ اس اجلاس میں دنیا بھر سے آنے والے رہنماؤں کی توجہ جن اہم موضوعات پر مرکوز رہے گی، ان میں شام کا اٹھارہ مہینے پرانا مسلح تنازعہ سرفہرست ہو گا۔ اس کے علاوہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حملے کا خدشہ اور مسلم دنیا میں مغربی ملکوں کے خلاف پر تشدد مظاہرے بھی بہت اہم موضوعات ہوں گے۔
اے ایف پی کے مطابق جنرل اسمبلی کے اجلاس کے پہلے روز افتتاحی نشست سے خطاب کرنے والوں میں باراک اوباما کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ اور قطر کے امیر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی بھی شامل ہوں گے۔ الثانی شامی اپوزیشن کی حمایت کرنے والے اہم ترین غیر ملکی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ امکان ہے کہ یہ تمام رہنما شامی صدر بشار الاسد کو شدید تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔
نیو یارک میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی صدر اور حکومت پر یہ سفارتی تنقید پورا ہفتہ جاری رہے گی۔ اس دوران عرب اور یورپی رہنما شامی تنازعے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ شام میں خونریز تنازعے کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی تشویش اب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کل پیر کے روز شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی مندوب لخضر براہیمی نے خبردار کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ شام کا تنازعہ شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ لخضر براہیمی نے کھل کر یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ فوری طور پر شام میں جنگ کے خاتمے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
شام کے لیے خصوصی مندوب لخضر براہیمی نے صدر بشار الاسد پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ وہ اپنے مخالفین کو جبر اور تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے قرونِ وسطیٰ کے دور کے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں عالمی رہنما جن دیگر اہم مسائل اور مسلح تنازعات پر بات کریں گے، ان میں بر اعظم افریقہ میں پائے جانے والے مسائل سرفہرست ہیں۔ مثلاً مالی کے شمالی حصے پر اسلام پسندوں کا قبضہ، ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو کے مشرقی حصے میں مسلح تنازعہ اور صومالیہ میں عشروں تک جاری جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کے بعد وہاں ایک پُر امن ریاست کے قیام کی کوششیں۔
(ij /aa ( AFP