جنوبی افریقہ میں لوگ نئی پارلیمنٹ اور نو صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے لیے آج ووٹ ڈال رہے ہیں۔ حکمراں جماعت افریقن نیشنل کانگریس سے عوام کی ناراضگی کی وجہ سے پارٹی کے تیس سالہ سیاسی تسلط کو خطرہ لاحق ہے۔
ان انتخابات کو اس لیے بھی زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ آزادی پسند رہنما اور اس وقت کے صدر نیلسن منڈیلا نے سن 1994 میں ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈالا تھا تصویر: Esa Alexander/REUTERS
اشتہار
جنوبی افریقہ میں پارلیمانی انتخابات کے لیے بدھ کی صبح ملک بھر میں پولنگ شروع ہوئی اور کئی پولنگ مراکز پر رائے دہندگان کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ تمام طرح کے سیاسی جائزوں کے مطابق حکمران جماعت افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کو سن 1994 کے بعد پہلی بار اپنی اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔
76 سالہ ایگنیس نگوبینی ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑی تھیں، جنہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''میں یہاں آ کر بہت پرجوش ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اتنی جلدی بیدار ہوئی۔ مجھے اس پارٹی کو ووٹ دینا ہے جس سے میں پیار کرتی ہوں، جس نے مجھے وہ بنا دیا جو میں آج ہوں۔''
یہ پوچھے جانے پر کہ وہ کس کی حمایت کر رہی ہیں، تو ان کا جواب تھا، ظاہر ہے اے این سی کو ووٹ دوں گی: ''یہ ایک بہت پرانی پارٹی ہے جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہی ہے۔ مجھے نئے لوگ پسند نہیں ہیں۔''
اس کے برعکس 41 سالہ ڈینویریز مباسا، ایک بے روزگار ووٹر،نے کہا کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''یہاں آنے کے لیے بہت طویل سفر طے کیا تاکہ کم از کم میں خود ووٹ ڈال سکتا ہوں اور اس کا انتظار کرتے رہیں۔ ہمارے پاس کوئی نوکری نہیں، پانی نہیں، کچھ بھی کام نہیں کر رہا۔''
حکمران اے این سی پارٹی سے ناراضگی
افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) سن 1994 میں ہونے والے ملک کے پہلے جمہوری انتخابات کے بعد سے ہی مسلسل جنوبی افریقہ پر حکومت کرتی رہی ہے، تاہم اس بار اسے اپنی اکثریت کھونے کے خطرہ ہے۔
اشتہار
عوام حکمران جماعت سے غیر مطمئن ہیں کیونکہ ملک کی معیشت کمزور ہونے کے ساتھ ہی بے روزگاری کی شرح 32.9 فیصد تک پہنچ گئی ہےتصویر: Nardus Engelbrecht/AP Photo/picture alliance
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق،اے این سی کو 50 فیصد سے کم ووٹ مل سکتے ہیں، جو اسے حکومت سازی کے لیے ایک اتحاد بنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
عوام حکمران جماعت سے غیر مطمئن ہیں کیونکہ ملک کی معیشت کمزور ہونے کے ساتھ ہی بے روزگاری کی شرح 32.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ملک غربت، بیمار سرکاری کمپنیوں کی حالت، بجلی کی مسلسل کٹوتیوں اور پانی کی فراہمی میں ناکامی کے ساتھ ہی جدوجہد کر رہا ہے۔
صحت کی دیکھ بھال کا نظام بھی خستہ حال ہے اور جرائم کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔
ان انتخابات کو اس لیے بھی زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ آزادی پسند رہنما اور اس وقت کے صدر نیلسن منڈیلا نے سن 1994 میں ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈالا تھا اور این سی کا قیام کیا تھا۔
چار سو پارلیمانی نشستوں کے لیے 52 جماعتوں کے امیدوار مدمقابل ہیں۔ ان انتخابات کے تحت نئی صوبائی حکومتیں بھی منتخب کی جائیں گی۔ تقریباً 40 ملین اہل ووٹرز میں سے 27.4 ملین، یا تقریباً 68 فیصد نے ووٹ ڈالنے کے لیے اندراج کرایا ہے۔
پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے رات کے نو بجے تک کھلی رہے گی۔ اس کے بعد نو منتخب پارلیمنٹ کو نئی حکومت بنانا ہو گی اور پھر اس کے بعد ملک کے صدر کا انتخاب کرنا ہو گا۔ انتخابات کے نتائج اتوار تک آنے کی توقع ہے۔
ص ز/ ج ا (اے پی، ڈی پی اے)
جنوبی افریقہ: نسلی امتیاز کا عروج اور زوال
جنوبی افریقہ کی جدید تاریخ کی عکاسی جس طرح فوٹو گرافی سے ہوتی ہے، شاید ہی کسی دوسرے طریقے سے اس تکلیف دہ دور کو بیان کیا جا سکتا ہو۔ جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت سے آزادی کے تیس سال مکمل ہونے پر مڑ کر تاریخ کو دیکھتے ہیں۔
تصویر: Museum Africa
ٹھیک تیس برس قبل ستائیس اپریل سن 1994 میں جنوبی افریقہ میں پہلی مرتبہ سیاہ فام ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جس کی بدولت نیلسن منڈیلا اس افریقی ملک کے صدر منتخب کیے گئے۔ یوں اس ملک میں نسلی تعصب پر مبنی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
تصویر: Museum Africa
سیاہ فام فوٹو گرافر پیٹر مگابے کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ جرمن فوٹو گرافر ژورگن شادیبرگ نے مگابے کو فوٹو گرافی کے ہنر بتائے تھے۔ لیجندڑی میگزین DRUM میں ڈرائیوار کے طور پر اپنا کیریئر شروع کرنے والے مگابے نے بعدازاں اپنی فوٹو گرافی سے ’نسلی عصبیت کے خلاف بغاوت‘ کے کئی اہم واقعات کو فلمبند کیا، جو اب ان کی پہچان بن چکے ہیں۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کی بنیاد پر قائم حکومت نے سن 1950میں رہائشی علاقوں کو نسلی بنیادوں پر تقیسم کرنا شروع کیا۔ تب سیاہ فاموں کے اکثریتی علاقے صوفا ٹاون سے تمام مقامی شہریوں کو نکال دیا گیا اور اسے صرف سفید فاموں کے لیے مختص کر دیا گیا۔ اس کا نام ’ٹری آمپف‘ رکھ دیا گیا۔
تصویر: Museum Africa
مقامی سیاہ فاموں کو روانہ طویل سفر کر کے اپنے دفاتر پہچنا پڑتا تھا۔ مسافروں سے کچھا کھچ بھری ٹرینوں میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ فوٹو گرافر سانتو موفوکینگ نے اسی دوران کئی لمحات کو تصویروں میں قید بھی کیا۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
غداری کے ایک مقدمے میں 1956ء میں جن 156 سیاہ فاموں کو غداری کا مرتکب قرار دیا گیا، ان میں نیلسن منڈیلا بھی شامل تھے۔ ایک برس قبل ہی انہوں نے نسلی امتیاز پر مبنی قوانین کے خاتمے پر زور دیا تھا۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
جنوبی افریقہ میں 1976ء میں ایک مظاہرے کے دوران بارہ سالہ ہیکٹر پیٹریسن ہلاک ہو گیا تھا۔ فوٹو گرافر سام نزما کی یہ تصویر اس واقعے کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ یہ تصویر دنیا بھر میں انتہائی مقبول ہوئی ہے۔
تصویر: DW/Ulrike Sommer
ان تصاویر میں ایسے دور کو بیان کیا گیا ہے، جب لمحے لمحے میں تکالیف پنہاں تھیں۔ Craddock Four کی تدفین پر لی گئی ایک تصویر۔ 1985ء میں اپوزیشن کے چار ارکان کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں معلوم ہوا تھا کہ جنوبی افریقہ کی دفاعی افواج اس واقعے میں ملوث تھی۔
تصویر: Rashid Lombard
تین مئی 1994ء کو جنوبی افریقی عوام کے جذبات دیکھنے کے قابل تھے۔ اس وقت انکشاف ہوا تھا کہ نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بننے والے ہیں۔ منڈیلا کے صدر بنتے ہی وہاں کی مقامی سیاہ فام آبادی کے نصیب بھی بدل گئے اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
تصویر: George Hallett
جنوبی افریقہ میں کئی عشروں تک مقامی آبادی تعلیم، صحت اور اقتصادی ترقی سے محروم رہی۔ نسلی امتیاز پر مبنی قوانین کے خاتمے کے بعد اب جنوبی افریقہ ایک جمہوری ریاست بن چکی ہے۔ تاہم ماضی کے زخم اب بھی تازہ معلوم ہوتے ہیں۔