جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حالیہ عرصے میں کئی بڑے اسکینڈلز کی زد میں آئے ہوئے 75 سالہ زوما پر اپنی ہی پارٹی کی طرف سے دباؤ بڑھ گیا تھا کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔
تصویر: Reuters/S. Sibeko
اشتہار
بدھ کی رات انہوں نے اپنے تیس منٹ طویل ایک نشریاتی خطاب میں کہا کہ وہ حکمران پارٹی افریقی نیشنل کانگریس کی سربراہی سے بھی الگ ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی سے متفق نہیں ہیں لیکن ملک کی بہتری کی خاطر وہ صدراتی منصب چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے سن دو ہزار نو میں صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ زوما کی جگہ جنوبی افریقہ کا نیا صدر سابق بزنس مین سِیرِل رامافوسا کو بنایا گیا ہے۔
تصویر: Reuters/M. Hutchings
حکمران جماعت اے این سی نے دو روز قبل ہی زوما کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر استعفیٰ دینے کا کہا تھا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر زوما نے استعفیٰ نہ دیا تو جمعرات کو پارلیمان میں ان کے خلاف رائے شماری کرائی جائے گی۔ خیال رہے کہ جیکب زوما کو کرپشن الزامات کا سامنا ہے اور اس تناظر میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ان کے خلاف آ چکا ہے۔
تصویر: Reuters/R. Ward
اپنا استعفیٰ پیش کرنے سے پہلے جیکب زوما کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکمران پارٹی افریقی نیشنل کانگریس میں شمولیت 1959ء میں اختیار کی تھی لیکن پارٹی نے ان سے ’غیر منصفانہ‘ سلوک کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس جدو جہد کا بھی ذکر کیا، جو انہوں نے سفید فام اقلیت کے اقتدار کے خاتمے کے لیے کی تھی۔
زوما کا مزید کہنا تھا، ’’مجھے پارٹی کے طریقہ ء کار پر اعتراض ہے۔ اب فیصلے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ جب تک کچھ غلط کرنے کے شواہد ہی موجود نہیں ہیں تو میں کیسے پارٹی سے متفق ہو جاؤں۔‘‘ دوسری جانب حکمران پارٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جیکب زوما کے مستعفی ہونے کے بعد کسی طرح کی بھی کوئی پارٹی یا خوشی نہیں منائی جائے گی۔
جیکب زوما کے اقتدار کے دوران جنوبی افریقہ کی اقتصادی ترقی میں سست روی پیدا ہوئی جبکہ نسل پرستی اور عدم استحکام میں اضافے کے ساتھ ساتھ بے روزگاری میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہوا ، جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی بھی بڑھی ۔ جیکب زوما سن دو ہزار نو سے اپنے اس عہدے پر فائز تھے۔ آئندہ برس ان کی دوسری مدت صدارت مکمل ہونے والی تھی۔ سن انیس سو چورانوے کے بعد سے افریقی نیشنل کانگریس کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
جنوبی افریقہ: نسلی امتیاز کا عروج اور زوال
جنوبی افریقہ کی جدید تاریخ کی عکاسی جس طرح فوٹو گرافی سے ہوتی ہے، شاید ہی کسی دوسرے طریقے سے اس تکلیف دہ دور کو بیان کیا جا سکتا ہو۔ جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت سے آزادی کے تیس سال مکمل ہونے پر مڑ کر تاریخ کو دیکھتے ہیں۔
تصویر: Museum Africa
ٹھیک تیس برس قبل ستائیس اپریل سن 1994 میں جنوبی افریقہ میں پہلی مرتبہ سیاہ فام ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جس کی بدولت نیلسن منڈیلا اس افریقی ملک کے صدر منتخب کیے گئے۔ یوں اس ملک میں نسلی تعصب پر مبنی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
تصویر: Museum Africa
سیاہ فام فوٹو گرافر پیٹر مگابے کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ جرمن فوٹو گرافر ژورگن شادیبرگ نے مگابے کو فوٹو گرافی کے ہنر بتائے تھے۔ لیجندڑی میگزین DRUM میں ڈرائیوار کے طور پر اپنا کیریئر شروع کرنے والے مگابے نے بعدازاں اپنی فوٹو گرافی سے ’نسلی عصبیت کے خلاف بغاوت‘ کے کئی اہم واقعات کو فلمبند کیا، جو اب ان کی پہچان بن چکے ہیں۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کی بنیاد پر قائم حکومت نے سن 1950میں رہائشی علاقوں کو نسلی بنیادوں پر تقیسم کرنا شروع کیا۔ تب سیاہ فاموں کے اکثریتی علاقے صوفا ٹاون سے تمام مقامی شہریوں کو نکال دیا گیا اور اسے صرف سفید فاموں کے لیے مختص کر دیا گیا۔ اس کا نام ’ٹری آمپف‘ رکھ دیا گیا۔
تصویر: Museum Africa
مقامی سیاہ فاموں کو روانہ طویل سفر کر کے اپنے دفاتر پہچنا پڑتا تھا۔ مسافروں سے کچھا کھچ بھری ٹرینوں میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ فوٹو گرافر سانتو موفوکینگ نے اسی دوران کئی لمحات کو تصویروں میں قید بھی کیا۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
غداری کے ایک مقدمے میں 1956ء میں جن 156 سیاہ فاموں کو غداری کا مرتکب قرار دیا گیا، ان میں نیلسن منڈیلا بھی شامل تھے۔ ایک برس قبل ہی انہوں نے نسلی امتیاز پر مبنی قوانین کے خاتمے پر زور دیا تھا۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
جنوبی افریقہ میں 1976ء میں ایک مظاہرے کے دوران بارہ سالہ ہیکٹر پیٹریسن ہلاک ہو گیا تھا۔ فوٹو گرافر سام نزما کی یہ تصویر اس واقعے کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ یہ تصویر دنیا بھر میں انتہائی مقبول ہوئی ہے۔
تصویر: DW/Ulrike Sommer
ان تصاویر میں ایسے دور کو بیان کیا گیا ہے، جب لمحے لمحے میں تکالیف پنہاں تھیں۔ Craddock Four کی تدفین پر لی گئی ایک تصویر۔ 1985ء میں اپوزیشن کے چار ارکان کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں معلوم ہوا تھا کہ جنوبی افریقہ کی دفاعی افواج اس واقعے میں ملوث تھی۔
تصویر: Rashid Lombard
تین مئی 1994ء کو جنوبی افریقی عوام کے جذبات دیکھنے کے قابل تھے۔ اس وقت انکشاف ہوا تھا کہ نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بننے والے ہیں۔ منڈیلا کے صدر بنتے ہی وہاں کی مقامی سیاہ فام آبادی کے نصیب بھی بدل گئے اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
تصویر: George Hallett
جنوبی افریقہ میں کئی عشروں تک مقامی آبادی تعلیم، صحت اور اقتصادی ترقی سے محروم رہی۔ نسلی امتیاز پر مبنی قوانین کے خاتمے کے بعد اب جنوبی افریقہ ایک جمہوری ریاست بن چکی ہے۔ تاہم ماضی کے زخم اب بھی تازہ معلوم ہوتے ہیں۔