1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنوبی امریکا کے جنگلوں میں ’نئے جانور‘ کی دریافت

ندیم گِل16 اگست 2013

سائنسدانوں نے کولمبیا اور ایکواڈور کے بادلوں سے ڈھکے جنگلوں میں ایک ’نیا جانور‘ اولِنگیوٹو دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت ایک دہائی پر محیط تحقیق کا نتیجہ ہے جس کا اعلان زُوکیز جرنل کی 15 اگست کی اشاعت میں کیا گیا ہے۔

Olinguito Equador
تصویر: picture-alliance/dpa

سائنسدانوں کا کہنا ہے اولِنگیوٹو دراصل چڑیا گھروں، عجائب گھروں اور کولمبیا اور ایکواڈور کے جنگلات میں عرصے سے پایا جاتا ہے، تاہم اسے اولِنگو سمجھا جاتا رہا ہے جو اسی نسل کا ذرا بڑا جانور ہے۔

اب اسے راکون، قِنکاج اور اولِنگو نسل کا سب سے چھوٹا جانور خیال کیا جا رہا ہے۔ اولِنگیوٹو اور ان جانوروں کے درمیان فرق کا پتہ لگانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق اس جانور کے کسی حد تک غیر معمولی ہونے کا سب سے بڑا اشارہ یہ ہے کہ اس نے کبھی اولِنگو کے ساتھ اپنی نسل کو آگے نہیں بڑھایا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس جانور کے سائز کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ انسانی گود میں سما سکتا ہے۔ دیکھنے میں یہ راکون اور بھالو کا امتزج لگتا ہے۔

اولِنگیوٹو کو راکون اور بھالو کا امتزاج قرار دیا جا رہا ہےتصویر: Getty Images

اس کی آنکھیں بڑی اور گول ہیں۔ اس کے پنجے چھوٹے ہیں جن کی مدد سے یہ درختوں کی شاخوں سے چِمٹ سکتا ہے۔ اس کا وزن دو پاؤنڈ تک ہوتا ہے۔ یہ درختوں پر رہنا پسند کرتا ہے اور ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ بھی لگا سکتا ہے۔ ویسے تو یہ پھلوں پر گزارا کرتا ہے لیکن کیڑے مکوڑے بھی کھاتا ہے۔

سائنسدان جب جنوبی امریکا کے جنگلوں میں اس جانور کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے وہاں گئے تو انہیں مایوسی نہیں ہوئی۔ انہوں نے سلسلہ کوہ انڈیز کے بادلوں سے ڈھکے جنگلوں میں بہت سے اولِنگیوٹو دیکھے۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ جانور رات کو سرگرم رہتا ہے۔

نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں ممالیہ کے ناظم کرسٹوفر ہیلگین کا کہنا ہے: ’’سلسلہ کوہ انڈیز کے بادلوں سے ڈھکے جنگل اپنے آپ میں ایک دُنیا ہیں، یہ مختلف انواع کے ایسے جانوروں سے بھرے پڑے ہیں جو کہیں اور نہیں ملتے اور ان میں سے متعدد کا وجود خطرے میں ہے۔‘‘

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اولِنگیوٹو اس خطے میں جانوروں کو درپیش اس مسئلے کی طرف دنیا کی توجہ دلانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

ہیلگین نے مزید کہا: ’’یہ ایک خوبصورت جانور ہے لیکن ہم اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ یہ کتنے ملکوں میں پایا جاتا ہے؟ اس کے رویے کے بارے میں اور کیا پتہ لگایا جا سکتا ہے؟ اس کے وجود کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟‘‘

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں