1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنوبی ایشیا میں شدید بارشیں

عاصم سليم4 اگست 2013

پاکستان ميں تين اگست کے روز ہونے والی شديد بارشوں اور سيلابی ريلوں کے نتيجے ميں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چاليس سے تجاوز کر چکی ہے۔ دريں اثناء افغانستان ميں بھی بارشوں کی وجہ سے پچپن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔

تصویر: picture-alliance/dpa

پاکستان ميں قدرتی آفات سے نمٹنے والے سرکاری ادارے نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی نے آج بروز پير ملک کے مختلف حصوں ميں مزيد بارشوں کی پيشگوئی کی ہے اور متنبہ کيا ہے کہ ان بارشوں کے سبب چند مقامات پر سيلابی ريلے آنے کا بھی امکان ہے۔ نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کل اتوار کے روز يہ بيان جاری کيا گيا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان ميں ہفتہ تين اگست کے روز ہونے والی مون سون بارشوں کے سبب شمال مغربی صوبے خيبر پختونخوا ميں بيس، جنوب مغربی صوبے بلوچستان ميں چھ اور جنوب ميں واقع ساحلی شہر کراچی ميں اب تک انيس افراد کی ہلاکت کی تصديق کی جا چکی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق کراچی ميں ہونے والی زيادہ تر اموات بجلی کا جھٹکا لگنے کے باعث ہوئيں۔

پاکستان ميں پچھلے تين برسوں سے سيلاب آ رہے ہيںتصویر: AP

کراچی کاروباری لحاظ سے پاکستان کی شہ رگ مانا جاتا ہے ليکن حاليہ بارشوں نے اس شہر ميں نظام زندگی مفلوج کر کے رکھ ديا۔ اتوار کے روز فوج کے اہلکاروں نے شہر ميں بحالی اور امدادی کاموں ميں حصہ ليا اور سڑکوں وغيرہ کی صفائی اور ان کو دوبارہ فعال بنانے ميں مدد کرائی۔ شہری انتظاميہ کے مطابق بارشوں کی وجہ سے پھيلنے والی گندگی کو صاف کرنے اور سڑکوں پر کھڑے پانی کی نکاسی کے ليے کم از کم دو دن درکار ہوں گے۔

سيلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں اور نقصانات کا جائزہ لينے کے ليے وزير اعظم نواز شريف نے وفاقی کابينہ کے تين وزراء کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے ليے روانہ کر ديا ہے۔

افغانستان ميں ہلاک شدگان کی تعداد اٹھاون

دريں اثناء پاکستان کے شمال مغربی اور جنوبی حصے کو اپنی لپيٹ ميں لينے والی ان بارشوں نے پڑوسی ملک افغانستان کے مشرقی حصے ميں واقع پانچ صوبوں ميں بھی تباہی مچا ڈالی ہے۔ وہاں بھی ہفتے کے روز ہی شدید بارشيں ہوئيں، جن کے نتيجے ميں نيوز ايجنسی ايسوسی ايٹڈ پريس کے مطابق اب تک اٹھاون افراد ہلاک ہو چکے ہيں جبکہ تيس سے زائد ابھی تک لاپتہ ہيں۔ اسی دوران ان علاقوں ميں کئی سو مکانات اور ديگر اثاثوں کو بھی شديد نقصان پہنچا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں