جنوبی چین میں سمندری طوفان سے تباہی
8 اکتوبر 2013
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز سمندری طوفان کے نیتیجے میں تودے گرنے کے واقعات میں 5 افراد ہلاک اور چار لاپتہ ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جس وقت سمندری طوفان چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا، اس وقت دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔
طوفان کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ سمندری لہریں بیس میٹر تک بلند ہوگئیں۔ سمندری طوفان کے باعث قریبی علاقوں کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
طوفان کے باعث صوبے زی جیانگ اور فیوجیان میں زبردست تباہی ہوئی ہے۔ تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ ساتھ وہاں 20 سینٹی میٹر بارش بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وہاں ذرائع مواصلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
حکام زی جیانگ صوبے سے سات لاکھ چھیاسی ہزار افراد کو بحفاظت نکال چکے ہیں۔ اسی طرح فیوجیان سے دولاکھ کے قریب افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ سمندر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود کشتیوں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔
چین کے سرکاری ریڈیو نے اس سمندری طوفان کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لاکھوں ملین یوآن میں لگایا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق صرف صفائی کی مد میں 2.28 بلین یوآن خرچ ہوں گے۔
بارشوں اور طوفان سے متاثرہ علاقوں میں ریل اور فضائی سروس معطل ہے۔
مقامی گاؤں کے ایک رہنما نے ’’بیجننگ ٹائم‘‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ طوفان کے باعث ان کے علاقے میں 490 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ان کے مطابق کم از کم 100 خاندانوں کی زندگی کا انحصار ان کھیتوں سے حاصل ہونے والی فصلوں پر تھا۔
چین میں طوفانوں کا موسم ختم ہو چکا ہے۔ ماہرین موسمیات اکتوبر کے مہینے میں آنے والے اس طوفان کو غیر متوقع قرار دے رہے ہیں۔
یہ طوفان اوساگی طوفان کے محض دو ہفتے بعد ان علاقوں سے ٹکرایا ہے۔ اوساگی کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔