1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنوبی چین میں سمندری طوفان سے تباہی

زبیر بشیر8 اکتوبر 2013

سمندری طوفان فیٹو نے چین کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے املاک کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہوا ہے۔ وہاں تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے نظام زندگی معطل کر کے رکھ دیا ہے۔

Bildergalerie Taifun Fitow China
تصویر: AFP/Getty Images

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز سمندری طوفان کے نیتیجے میں تودے گرنے کے واقعات میں 5 افراد ہلاک اور چار لاپتہ ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جس وقت سمندری طوفان چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا، اس وقت دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔

طوفان کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ سمندری لہریں بیس میٹر تک بلند ہوگئیں۔ سمندری طوفان کے باعث قریبی علاقوں کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

طوفان کے باعث سمندر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود کشتیوں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہےتصویر: AFP/Getty Images

طوفان کے باعث صوبے زی جیانگ اور فیوجیان میں زبردست تباہی ہوئی ہے۔ تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ ساتھ وہاں 20 سینٹی میٹر بارش بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

وہاں ذرائع مواصلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

حکام زی جیانگ صوبے سے سات لاکھ چھیاسی ہزار افراد کو بحفاظت نکال چکے ہیں۔ اسی طرح فیوجیان سے دولاکھ کے قریب افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ سمندر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود کشتیوں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔

چین کے سرکاری ریڈیو نے اس سمندری طوفان کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لاکھوں ملین یوآن میں لگایا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق صرف صفائی کی مد میں 2.28 بلین یوآن خرچ ہوں گے۔

بارشوں اور طوفان سے متاثرہ علاقوں میں ریل اور فضائی سروس معطل ہے۔

اس سمندری طوفان کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لاکھوں ملین یوآن میں لگایا گیا ہےتصویر: Reuters

مقامی گاؤں کے ایک رہنما نے ’’بیجننگ ٹائم‘‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ طوفان کے باعث ان کے علاقے میں 490 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ان کے مطابق کم از کم 100 خاندانوں کی زندگی کا انحصار ان کھیتوں سے حاصل ہونے والی فصلوں پر تھا۔

چین میں طوفانوں کا موسم ختم ہو چکا ہے۔ ماہرین موسمیات اکتوبر کے مہینے میں آنے والے اس طوفان کو غیر متوقع قرار دے رہے ہیں۔

یہ طوفان اوساگی طوفان کے محض دو ہفتے بعد ان علاقوں سے ٹکرایا ہے۔ اوساگی کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں