جنوبی یمن سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی، اقوام متحدہ
22 جون 2011فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہیومینیٹیرئن افیئرز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جنوبی یمن میں جاری حکومتی فورسز اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ کے باعث کم ازکم پینتالیس ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں، اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ آبیان میں کشیدہ صورت حال کے حوالے سے بے حد فکر مند ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر جو پینتالیس ہزار افراد ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں ان میں آبیان اور عدن سے پندرہ پندرہ ہزار افراد کا تعلق ہے۔
اقوام متحدہ کے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جنوبی یمن کے شہر زنجبار میں القاعدہ کے جنگجو اور حکومتی افواج ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اس لڑائی میں کم از کم ایک سو حکومتی سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ڈھائی سو سے زائد زخمی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق القاعدہ کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
حکومتی اہلکاروں کے مطابق جنوبی یمن میں تین ہفتوں سے جاری اس لڑائی میں مجموعی طور پر دو سو تراسی کے قریب افراد ہلاک جبکہ تین ہزار چھ سو سترہ زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی بغاوت جاری ہے جس کو یمنی فورسز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب جنوبی یمن میں القاعدہ کے مسلح جنگجو حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یمنی جمہوریت پسندوں کے مطابق صدر صالح جنوبی یمن میں دانستہ القاعدہ کا ہوّا کھڑا کر کے مغربی ممالک کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا اقتدار میں رہنا کتنا ضروری ہے۔
جرمنی سمیت بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ یمنی حکومت کے طرز عمل پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے
ادارت: ندیم گِل