1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنگی ویڈیو گیمز، غلط خبروں کا ایک ذریعہ

8 جنوری 2023

حالیہ کچھ عرصے میں جنگی مناظر اور حالات سے مزین ویڈیو گیمز نے غلط خبروں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بظاہر یہ گیمز حقیقی مناظر لگتے ہیں، تاہم ایسا ہے نہیں۔

Russisches Kampfflugzeug feuert Cruise Missile auf Testziel
تصویر: Russian Defense Ministry Press Service/AP/picture alliance

فوجی دستے جلتی سڑکوں پر چل رہے ہیں، میزائل لڑاکا طیارے گرا رہے ہیں، ڈرونز ٹینکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ تمام ڈرامائی مناظر بظاہر کسی جنگی میدان کا اصل منظر دکھائی دیتے ہیں، تاہم یہ ویڈیو گیمز کے وہ کلپس ہیں، جو جنگ سے جڑی غلط خبروں کے پھیلاؤ کا باعث ہیں۔

جنگی تھیم پر مبنی ویڈیو گیم آرما تھری عموماﹰ اصل کا تاثر دینے کے لیے اپنی اسکرین پر 'بریکنگ نیوز‘ یا 'لائیو‘ لکھا دکھاتا ہے اور اسی لیے اس گیم کے کلپس بعض اوقات سوشل میڈیا پر باقاعدہ جنگی خبروں کے ساتھ استعمال ہوتے ملتے ہیں۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد حالیہ چند ماہ میں متعدد مرتبہ ایسے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔

یہ گیمز اتنے حقیقی مناظر کے حامل ہوتے ہیں کہ چند ایک بار تو مختلف نشریاتی اداروں تک نے انہیں بطور خبر نشر کر دیا۔ محققین کے مطابق اس سے ان گیمز کے ذریعے غلط معلومات کے پھیلاؤ کے ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

براؤن یونیورسٹی کے انفارمیشن فیوچرز لیپ کی معاون ڈائریکٹر کلیری وارڈل کے مطابق، ''ایسی معاملات کا بار بار وقوع پزیر ہونا بتاتا ہے کہ لوگوں کو کتنی آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''ویڈیو گیمز کے مناظر جوں جوں حقیقیت کے زیادہ قریب جا رہے ہیں، ایک نظر دیکھنے پر وہ حقیقی لگنے لگیں ہیں۔ ایسے میں لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی کسی تصویر کے حقیقی ہونے کی تصدیق کہاں سے ممکن ہے، بشمول میٹاڈیٹا کے جائزے کے، تاکہ ایسی تصاویر کے پھیلاؤ کی غلطی نہ ہو، خصوصاﹰ نشریاتی اداروں کی جانب سے۔‘‘

آرما تھری کو چیک جمہوریہ کے ڈویلپرز نے تیار کیا ہے۔ اس گیم کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کھیلنے والوں کو جنگی میدان بنانے اور عسکری ساز و سامان کو بظاہر حقیقی دکھنے والے حالات میں استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اسے کھیلنے والے عموماﹰ یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گھنٹوں پر محیط اس گیم کی فوٹیج شیئر کرتے ہیں، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ایسی فوٹیج کی آسان دستیابی اس کے غلط استعمال کا راستہ کھولتی ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر آرما تھری ویڈیو کا ایک کلپ جس کے ساتھ لکھا تھا، ''یوکرین کا جوابی حملہ‘‘ شیئر کیا گیا۔ اس کلپ میں ٹینکوں کی ایک قطار کو ایک میزائل حملے کے ذریعے تباہ کرنے کے مناظر کو بطور حقیقی فوٹیج شیئر کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی لکھا تھا، ''نیٹو فورسز کو یوکرین سے تربیت لینی چاہیے کہ لڑتے کیسے ہیں۔‘‘

ع ت، ک م (اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں