1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

برطانوی وزیر خارجہ مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے پر سعودی عرب میں

مقبول ملک اے ایف پی کے ساتھ
12 مارچ 2026

برطانیہ کی خاتون وزیر خارجہ ایویٹ کوپر مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے وزارتی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ ان کا خطے کا اولین دورہ بھی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: Yuki Iwamura/AP Photo/picture alliance

لندن سے جمعرات 12 مارچ کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق توقع ہے کہ برٹش فارن سیکرٹری کوپر اپنے اس دورے کے دوران خطے میں برطانیہ کے پارٹنر ممالک کے ساتھ اپنی بات چیت میں دوطرفہ تعاون سے متعلق مشاورت کریں گی، تاکہ ''آبنائے ہرمز کے سمندری علاقے میں بحری جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کے باوجود عالمی منڈیوں کو خام تیل کی ترسیل کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

نئے ایرانی سپریم لیڈر کا پہلا بیان، بدلے کے عزم کا اظہار

لندن میں برطانوی دفتر خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اپنے اس دورے سے قبل ایویٹ کوپر نے خلیج کی علاقائی طاقت اور قدامت پسند بادشاہت سعودی عرب کو ''خلیج فارس کے علاقے میں برطانیہ کا لازمی پارٹنر ملک‘‘ قرار دیا، جو خطے میں موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ''ایرانی حکومت کے اندھا دھند حملوں کا ہدف‘‘ بن رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں دو فریقوں کے طور پر ایران اور امریکہ اور اسرائیل کے مابین موجودہ تنازعے سے متعلق برطانیہ کا ابتدائی ردعمل ایسا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قبرص کی حکومت نے باقاعدہ تنقید کی تھی۔

ایران کا خطے میں اقتصادی مراکز اور بینکوں کو ہدف بنانے کا اعلان

مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کے تناظر میں برطانیہ اپنا ایک جنگی بحری جہاز مشرقی بحیرہ روم کی طرف روانہ کر چکا ہےتصویر: Georgian Interior Ministry/AP Photo/picture alliance

'آپ تو ایسے نا تھے!‘، ٹرمپ کا اسٹارمر سے شکوہ

تب 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے ایک دن بعد یکم مارچ کو ایک ایرانی ساختہ ڈرون سے جنوبی قبرص میں ایک برطانوی فضائی اڈے کے رن وے پر حملہ کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ لندن اس تنازعے میں کوئی بھی کردارا دا نہیں کرنا چاہتا۔

تاہم اس کے بعد سے برطانوی حکومت امریکہ کو یہ اجازت دے چکی ہے کہ وہ دو برطانوی فضائی اڈوں کو ''ایران کے خلاف مخصوص دفاعی عسکری آپریشنز‘‘ کے لیے اس مقصد کے تحت استعمال کر سکتا ہے کہ ایرانی ''میزائل پروگرام کو اس کی بنیادوں پر حملہ کر کے تباہ‘‘ کر دیا جائے۔

ٹرمپ برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر اسٹارمر سے 'بہت مایوس‘

گزشتہ منگل کے روز ایک برطانوی جنگی بحری جہاز بھی اس لیے جنوبی انگلستان سے مشرقی بحیرہ روم کی طرف روانہ ہو گیا تھا کہ خطے میں ''برطانوی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ‘‘ کیا جا سکے۔

ادارت: جاوید اختر

کون کون سے امریکی فوجی اڈے، ایران کے لیے آسان ہدف

02:41

This browser does not support the video element.

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں