جنگ کے باعث چینی پراپیگنڈا میں امریکہ کا تاثر جارح طاقت کا
1 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں چین کا سرکاری میڈیا پراپیگنڈے کے اپنے نپے تلے لیکن بظاہر غیر محسوس انداز میں امریکہ کو ایک ایسی ضدی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو مشرق وسطیٰ میں علاقائی عدم استحکام کی وجہ بن رہی ہے اور جارحیت کی مرتکب بھی ہو رہی ہے۔
اس کا کئی دستیاب ثبوتوں میں سے ایک ثبوت مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی وہ چینی ویڈیو بھی ہے، جو گزشتہ ہفتے وائرل ہو گئی تھی اور جس میں کئی ایرانی بلیوں کو ایک گنجے سر والے سفید عقاب کے ساتھ لڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ یہ تصویری طور پر بلاشبہ ایران جنگ کا حوالہ تھا۔
امریکہ دو سے تین ہفتوں میں جنگ ختم کر سکتا ہے، ٹرمپ
چین کے سرکاری میڈیا کی تیار کردہ ایرانی بلیوں اور گنجے عقاب والی اور اے آئی کی مدد سے بنائی گئی یہ واحد پراپیگنڈا ویڈیو نہیں تھی۔ ایسی متعدد ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے کئی کئی ملین ویوز حاصل کر گئیں اور سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کے نیچے صارین کے تبصرے بھی ہزاروﺍں میں تھے۔
ہدف چینی رائے عامہ پر اثر انداز ہونا
چین میں ریاستی انتظام میں کام کرنے والے میڈیا کی طرف سے ایسی اے آئی ویڈیوز کو دیکھ کر دو باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ چین ایران جنگ میں امریکی کردار کو کیسے دیکھتا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اس طرح کے پراپیگنڈا ذرائع استعمال کرتے ہوئے اندرون ملک رائے عامہ کو بھی ایک خاص سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔
ایران جنگ سے متعلق سفارت کاری میں پاکستان نے بھارت کو مات دے دی؟
چین کے ریاستی میڈیا کی ایسی ویڈیوز کا بنیادی طور پر مرکزی پیغام یہی ہوتا ہے کہ امریکہ ایک جارحیت کرنے والی طاقت ہے اور چین ایک ایسی پرامن طاقت جو ثابت قدمی سے مسلسل بلندی کی طرف اٹھتی جا رہی ہے۔
یہ پیغام بیجنگ حکومت کی طرف سے اس کی پالیسیوں میں دیے جانے والے عمومی بیانات کے عین مطابق ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بیجنگ حکومت یہ بیانیہ ملکی عوام تک پہنچانے اور انہیں اس کا قائل کرنے کی کوشش کرتی ہے، جس میں وہ زیادہ تر کامیاب بھی رہتی ہے۔
بلیوں اور عقابوں کی لڑائی کا معنوی تجزیہ
ایران جنگ سے متعلق چین کے سی سی ٹی وی کی جو ویڈیو ابھی حال ہی میں خاص طور پر وائرل ہوئی، اس میں دکھائی جانے والی 'ایرانی بلیاں‘ افسردہ تھیں اور وہ جبر کے خلاف بدلے کی تلاش میں دکھائی دیتی تھیں۔
ان بلیوں کی لڑائی اس 'سفید عقاب‘ سے دکھائی گئی تھی، جو ایک ایسے صحرائی علاقے پر چھایا ہوا تھا، جسے 'گولڈن فلو ویلی‘ یا 'سنہری بہاؤ والی وادی‘ کا نام دیا گیا تھا۔
ایران جنگ میں آئندہ چند روز فیصلہ کن ہوں گے، امریکی وزیر دفاع کی وارننگ
حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ اس ویڈیو میں 'ایرانی بلیوں‘ کی قیادت کرنے والی لیڈر بلی ماری جاتی ہے اور اس کے بعد بدلے کی ایک ایسی جنگ شروع ہو جاتی ہے، جس کے کوئی واضح یا طے شدہ خد و خال نہیں ہوتے۔
دیکھا جائے تو اپنی ان تمام تر استعاراتی علامات کے ساتھ یہ پوری ویڈیو ایران جنگ میں پیش آنے والے حالات وا قعات ہی کی علامتی نمائندگی کرتی ہے۔
بیجنگ حکومت کا سیاسی پیغام
ماہرین کے مطابق ایسی ویڈیوز میں چینی اسٹیٹ میڈیا نے بہت معمولی سے ظاہری پردے کے ساتھ جو حالات و واقعات دکھائے ہیں، وہ بیجنگ کے اسی مجموعی سیاسی پیغام ہی کی عکاسی کرتے ہیں، جو اسی وقت تشکیل پا گیا تھا، جب 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کا آغاز ہوا تھا۔
حتمی ایرانی شکست تک امریکہ جنگ جاری رکھے، خلیجی عرب ممالک
ماہرین کے مطابق چین اپنے ہاں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے امریکہ سے متعلق جس بیانیے کو تقویت دینا چاہتا ہے، اس کے لیے سرکاری میڈیا حکومتی آلہ کار کا کام کر رہا ہے۔
نیدرلینڈز کی گروننگن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے محقق اور تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈبلیو اے فیگیوروآ کہتے ہیں، ''چینی حکام شروع سے ہی اس بارے میں بہت واضح موقف کے حامل رہے ہیں کہ یہ جنگ غیر قانونی بھی ہے اور عالمی استحکام کے لیے بڑا خطرہ بھی۔‘‘
جنگ میں ’امریکی ہلاکتوں‘ کے لیے ایران کو معلومات روس نے دیں، یورپی یونین
پروفیسر فیگیوروآ کے مطابق، ''جو بنیادی تاثر دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ چین ثابت قدم، دوسروں کے ساتھ لے کر چلنے والا اور سفارت کاری پر یقین رکھنے والا ملک ہے اور یوں وہ امریکہ کے قطعی برعکس ہے، جو جارحیت بھی کرتا ہے اور جس کے بارے میں کسی قسم کی کوئی پیش گوئی کی ہی نہیں جا سکتی۔‘‘
ادارت: جاوید اختر