1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’جنیوا ٹو‘ کی کامیابی کے امکانات کم

Marx, Bettina / امجد علی22 جنوری 2014

مغربی دنیا ایک عرصے سے شام کے لیے ایک امن کانفرنس کے انعقاد پر زور دے رہی ہے۔ 2012ء میں جنیوا میں منعقدہ پہلی کانفرنس ٹھوس نتائج کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔ جرمن سیاستدان ’جنیوا ٹو‘ سے بھی زیادہ توقعات وابستہ نہیں کر رہے۔

12 جنوری 2014ء کو پیرس میں منعقدہ ’فرینڈز آف سیریا‘ کے اجلاس میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شاٹي مائر بھی نظر آ رہے ہیں
12 جنوری 2014ء کو پیرس میں منعقدہ ’فرینڈز آف سیریا‘ کے اجلاس میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شاٹي مائر بھی نظر آ رہے ہیںتصویر: picture-alliance/AA

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے ابھی جنوری کے اوائل میں پیرس میں ’فرینڈ آف سیریا‘ کے ایک اجلاس میں نئے سال کے حوالے سے مثبت توقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’2014ء پورے خطّے کے لیے ایک فیصلہ کن سال ثابت ہو سکتا ہے تاہم بعد ازاں جرمن پارلیمان میں جرمن وزیر خارجہ زیادہ پُر امید نظر نہیں آئے۔ وہاں اُنہوں نے اپنے خطاب میں کہا:’’ہم شام میں امن کی منزل سے اور خونریزی کے خاتمے کی منزل سے ابھی کوسوں دور ہیں۔‘‘

تاہم فرانک والٹر شٹائن مائر کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کو کیمیائی ہتھیاروں سے دستبرداری پر مجبور کرنے میں حاصل ہونے والی کامیابی بھی کچھ کم نہیں ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں شامی تنازعے کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکا جا سکا ہے۔

یونین جماعتوں کے خارجہ امور سے متعلق ترجمان فلیپ مِس فیلڈرتصویر: dapd

وزیر خارجہ شٹائن مائر کے مطابق جرمنی شامی اپوزیشن کے تمام دھڑوں کی جنیوا ٹو کانفرنس میں شرکت کی امید کر رہا ہے کیونکہ اعتدال پسند دھڑوں کی شرکت کے بغیر شامی تنازعے کا کوئی سیاسی حل برآمد نہیں ہو سکے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ سیاسی حل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور ایسے کسی حل کے لیے جرمن حکومت اپنی بھرپور کوششیں کرے گی۔

شامی تنازعے میں مختلف ممالک کے جہادی عناصر کے ساتھ ساتھ خطّے کی اہم طاقتیں بھی ملوث ہیں، اسی لیے تمام جرمن سیاسی جماعتوں نے اس کانفرنس میں سعودی عرب اور ایران کو بھی مدعو کرنے کی حمایت کی ہے۔ بائیں بازو کی جماعت ’دی لِنکے‘ کے رکن پارلیمان ژان فان آکن کے مطابق ’’شام کے تنازعے کا کوئی حل تبھی ممکن ہے، جب تمام متعلقہ فریق اس کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔‘‘

فان آکن نے، جو حال ہی میں شام کے شمالی علاقوں کے ایک دورے سے واپس آئے ہیں، کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ شام کے مختلف مذہبی اور نسلی گروہوں مثلاً کردوں کے نمائندوں کو بھی تنازعے کے سیاسی حل کی بات چیت میں شامل کیا جانا چاہیے۔ فان آکن کے مطابق اُن کے خیال میں وہاں کے کُرد کوئی الگ ریاست قائم کرنے کی بجائے آئندہ بھی شام ہی کا حصہ رہنا چاہتے ہیں۔

بائیں بازو کی جماعت ’دی لِنکے‘ کے رکن پارلیمان ژان فان آکنتصویر: www.jan-van-aken.de/

فان آکن بھی کل سے شروع ہونے والی جنیوا ٹو کانفرنس کے حوالے سے زیادہ پُر امید نہیں ہیں۔ اُن کے خیال میں اس کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ ایک فائر بندی سمجھوتہ عمل میں آ سکتا ہے لیکن یہ کہ اگر اتنا بھی ہو جائے تو یہ ایک بڑی پیشرفت ہو گی۔

جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی حزب کے نائب چیئرمین رولف میوٹسنش نے شام کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’ہمیں وہاں فائر بندی کی ضرورت ہے، چاہے یہ چند گھنٹوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو تاکہ انسانی امداد فراہم کی جا سکے۔‘‘

جہاں 2012ء کی جنیوا کانفرنس میں ’فرینڈز آف سیریا‘ نے زور دے کر کہا تھا کہ شام میں مستقبل میں صدر بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، وہاں اب کم از کم برلن میں سیاستدان اس حوالے سے خاصے محتاط ہیں۔

یونین جماعتوں کے خارجہ امور سے متعلق ترجمان فلیپ مِس فیلڈر کے مطابق ’مغربی دنیا نے اسد کی فوجی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں بہت بڑی غلطی کی ہے‘۔ اُنہوں نے کہا کہ اسد شام میں قیام امن کے ضامن یقیناً نہیں ہیں لیکن اسد کے بغیر حالات اُس سے کہیں زیادہ خطرناک اور مشکل ہو سکتے ہیں، جتنے کہ جنگ کے آغاز کے وقت تھے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں