جی ایٹ سمٹ سوچی سے برسلز منتقل
25 مارچ 2014
پیر کے دن ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں منعقد ہوئی جی سیون کی ایک ہنگامی میٹنگ میں امریکی صدر باراک اوباما اور دیگر امیر ترین ممالک نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ یوکرائن کے تنازعے میں ماسکو حکومت کے کردار کی وجہ سے جی ایٹ سمٹ روس میں منعقد نہیں کی جائے گی۔ یہ سمٹ جولائی میں روسی شہر سوچی میں منعقد کی جانا تھی۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس فیصلے سے روس عالمی سطح پر مزید تنہا ہو گیا ہے۔
جی سیون کی ہنگامی میٹنگ کے دوران یہ دھمکی بھی دی گئی کہ یوکرائن کے خود مختار علاقے کریمیا کو روس کا حصہ بنانے پر ماسکو حکومت پر مزید سخت پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں منعقد کی گئی، جب کییف حکومت نے کریمیا سے اپنے فوجی واپس بلانے کا حکم جاری کیا۔
جی سیون کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا، ’’اس صورتحال میں ہم سوچی میں طے شدہ جی ایٹ سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے۔ ہم جی ایٹ سمٹ میں اس وقت تک شرکت نہیں کریں گے، جب تک روس اپنا طرز عمل نہیں بدلتا اور ماحول دوبارہ ایسا نہیں ہوجاتا جہاں جی ایٹ سمٹ میں بامعنی مذاکرات ممکن ہو سکیں۔‘‘ قبل ازیں امریکا نے یوکرائن کی سرحدوں کے قریب روسی فوجی مشقوں پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔
ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کے دن اپنے امریکی ہم منصب جان کیری اور یوکرائن کے عبوری وزیر خارجہ کے ساتھ ایک ملاقات میں اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مغربی ممالک جی ایٹ کا فارمیٹ بدلنے پر رضا مند ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لاوروف نے کریمیا کے عوام کی خود مختاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اس فارمیٹ کو برقرار رکھنے پر بضد نہیں ہیں اور ہم اس تبدیلی کو کوئی بہت بڑا سانحہ نہیں سمجھتے۔‘‘ یوکرائن کا تنازعہ شروع ہونے کے بعد روسی اور یوکرائن کے وزرائے خارجہ کے مابین یہ پہلا براہ راست رابطہ تھا۔
جی سیون میں امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، کینیڈا، جاپان اور اٹلی شامل ہیں۔ سات ممالک کا یہ گروپ عالمی سطح پر سفارتکاری اور اقتصادیات کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔