1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جی ایٹ سے رُخصت: اگلا قدم کیا ہوگا

برنڈ ریگرٹ/ کشور مصطفیٰ25 مارچ 2014

مغربی صنعتی ممالک نے روس کو جی ایٹ سے اخراج کا دروازہ دکھا دیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما کے لیے یہ سفارتی نقطہ ایک طرح کی فتح ہے۔ یہ سب تو ٹھیک ہے اب اس کے بعد کیا ہوگا، ڈوئچے ویلے کے برنڈ ریگرٹ کا اس بارے میں تبصرہ۔

G7 Gipfel in Den Haag 24.03.2014
تصویر: Lex Van Lieshout/AFP/Getty Images

روسی وزیر خارجہ نے کبھی ٹھیک ہی کہا تھا۔ جی ایٹ گروپ نے گزشتہ برسوں میں بہت کم ہی ٹھوس فیصلے کیے ہیں۔ یہ حقیقت ہے۔ تبصرہ کاروں نے اکثر جی ایٹ فورم کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجائی ہے، کیونکہ تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ممالک کا فورم جی 20، اب جی ایٹ سے کہیں زیادہ اہم ہو چُکا ہے، جس میں چین، برازیل اور انڈیا جیسی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ تاہم اگر سیرگئی لاوروف یہ تاثر دینے کی کوشش کریں کہ مستقبل میں جی ایٹ گروپ میں روس کی عدم شمولیت کوئی معنی نہیں رکھتی، تو یہ خیال بھی بے وزن معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت میں کریملن میں لاوروف پر وہ لمحات کڑے گزریں گے جب جی ایٹ کے اجلاس میں دنیا کی سات بڑی طاقتوں کے ساتھ انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے نہیں دیا جائے گا۔ اہم امر یہ نہیں ہے کہ جی ایٹ اجلاس میں کیا فیصلے ہوتے ہیں، اہمیت اس موقع پر روس کی موجودگی کی ہے کیونکہ یہ چنیدہ ممبران کا بڑا خاص گروپ ہے۔

گورباچوف، بورس یلسن، ولادیمیر پوٹن سب ہی جی ایٹ میں شامل رہنا چاہتے تھے اور انہوں نے طویل عرصے تک اس کھیت کی آبیاری کی تھی۔ ان سب کی کوشش رہی ہے کہ امیر ممالک کے اس فورم میں روس کو بھی برابری کا مقام حاصل ہو اور روس بھی دیگر اراکین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ وہ دن گئے اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے لیے یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے۔ سفارتی اعتبار سے روس ایک بار پھر 1991ء والے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اُس وقت سابق سویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی ’’کے پی ڈی ایس یو‘‘ کے جنرل سیکرٹری میخائل گورباچوف لندن میں ہونے والی7 G سمٹ میں شریک ہوئے تھے اور وہ ان کا پہلا دورہ تھا۔

پوٹن غیر معمولی دباؤ کا شکار ہیںتصویر: Reuters

گورباچوف کو اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرنے پر بڑا فخر تھا۔ یہی فخر ولادیمیر پوٹن کو اس سال موسم گرما میں سوچی میں ہونے والے جی ایٹ کے مجوزہ سربراہی اجلاس میں بھی حاصل ہوسکتا تھا تاہم اب اس کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ اب یہ پوٹن کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ پوٹن اس وجہ سے توسیع کے اپنے منصوبے کو یکسر تو نہیں تبدیل کریں گے تاہم ممکن ہے کہ وہ اپنے جارحانہ اقدامات میں کچھ وقفہ لائیں۔ کریمیا کے الحاق کے رد عمل میں دنیا کی سات اقتصادی قوتوں نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ یعنی جی سیون کی طرف سے روس پر مزید پابندیوں کی دھمکی اور کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کو رد کرنے کے متفقہ فیصلے سے روس اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بغیر کسی تردد کے یوکرائن، نیٹو اور یورپی طاقتوں کی ہمنوائی کی اور گروپ کے باقی چھ اراکین نے اوباما کے اس اقدام کو سراہا۔

جارج بُش سینیئر اورمیخائل گورباچوفتصویر: AFP/Getty Images

پوٹن کا رد عمل کیسا ہوگا؟

ابتدائی طور پر سخت برہمی کا اظہار اور مشرقی یوکرائن کی طرف ہاتھ کو پھیلانا یا ان کی کوشش ہوگی ایک مخالف سربراہی اجلاس کا انعقاد کروائیں؟ وہ اجلاس میں شرکت کے متمنی ممالک کو شامل کرنے کی کوشش کریں گے تاہم فی الوقت پوٹن کا کوئی بھی ساتھی نظر نہیں آتا۔ کیا روسی صدر ولادیمیر پوٹن بین الاقوامی سیاسی اسٹیج پر الگ تھلگ اور تنہا رہ جانے کا بوجھ دیر تک اُٹھانے کے متحمل ہوں گے۔ پوٹن کریمیا میں اپنے اقدامات کے سبب دی ہیگ کی طرف سے کیے جانے والے فیصلوں کو تو واپس نہیں پھیر سکتے لیکن جی 7 کی طرف سے دیا جانے والا سگنل شاید یورپ کی تقسیم اور یہاں سفارتی جنگ کے پھیلاؤ کے امکانات کم کرنے کا سبب بنے۔ اب گیند پوٹن کے کورٹ میں ہے اگر ان کی فوج نے یوکرائن کے مزید علاقوں کی طرف رُخ کیا تو تنازعے میں مزید شدت پیدا ہوگی اور روس کو جی 20 گروپ سے بھی خارج کیا جا سکتا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں