جی ایٹ: پہلے اختلاف اور بالآخر اتفاق
19 جون 2013
جی ایٹ سربراہ کانفرنس کا اختتام جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے کیے گئے ایک مختصر لیکن ہنگامہ خیز اعلان سے ہوا۔ انہوں نے کہا:’’شام کے حوالے سے اہم نکات پر ایک اتفاق رائے سامنے آیا ہے اور میں اسے ایک اچھا پیغام سمجھتی ہوں۔‘‘
سربراہ کانفرنس سے پہلے اسلحے کی فراہمی کے اعلانات اور مختلف ممالک کی جانب سے سخت موقف کے عکاس بیانات کے بعد مبصرین آٹھ سربراہان مملکت و حکومت کی جانب سے کسی مشترکہ اعلامیے کے اجراء کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے تھے۔ ایسے میں خاص طور پر غیر معمولی بات یہ ہے کہ ان ممالک کے درمیان کسی چھوٹے سے رسمی سمجھوتے پر نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات پر اتفاق رائے ہوا ہے، مثلاً شام کے تنازعے پر ایک امن کانفرنس کے انعقاد پر، جسے روس اب تک مسترد کرتا چلا آ رہا تھا۔
چانسلر میرکل نے کہا:’’ہمارے درمیان اس امر پر اتفاق ہوا ہے کہ جلد ہی ایک دوسری جنیوا کانفرنس منعقد ہو گی، جس کا نصب العین یہ ہو گا کہ مل جُل کر شام میں ایک عبوری حکومت پر تبادلہ خیال کیا جائے اور ایسی حکومت کو انتظامی اختیارات سے بھی لیس کیا جائے۔‘‘
ایک طویل عرصے سے مغربی دنیا کا موقف یہ چلا آ رہا ہے کہ شامی تنازعے کے سیاسی حل کا تصور محض مطلق العنان حکمران بشار الاسد کے بغیر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اب بالآخر روسی صدر ولادی میر پوٹن نے اپنا موقف بدلا ہے اور اسد سے فاصلے پر چلے گئے ہیں، گو اُنہوں نے ابھی بھی اسد کو مکمل طور پر تنہا نہیں چھوڑا ہے۔ تاہم شام سے متعلق جی ایٹ کے اعلامیے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اسد کے اب تک کے قریبی حلیف نے پہلی مرتبہ اسد حکومت کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس سے شامی حکمران پر بالآخر سمجھوتے کی راہ اختیار کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اس پر مستزاد یہ کہ روسی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کی ایک تجویز بھی تسلیم کر لی۔ جی ایٹ ممالک چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اس امر کی تحقیقات کرے کہ شام میں کیمیاوی ہتھیار باغی استعمال کر رہے ہیں یا حکومت۔
اور آخر میں اس سربراہ کانفرنس میں اس امر پر بھی اتفاق ہو گیا کہ شامی خانہ جنگی کے مہاجرین کے لیے امداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر دیا جائے۔ میرکل نے اس سلسلے میں اعلان کرتے ہوئے کہا:’’اب یہ امداد ایک ارب ڈالر سے زیادہ کر دی گئی ہے۔ جرمنی دو سو ملین یورو فراہم کرےگا، جو کہ انسانی بھلائی کے کسی مشن کے لیے جرمنی کی طرف سے اب تک فراہم کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے، جو یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ہم ترکی، اردن اور لبنان میں پناہ لینے والے مہاجرین کی صورتحال کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘‘
جی ایٹ سمٹ کی کامیابی میں میزبان برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا بھی ہاتھ ہے۔ انہی کی کوششوں سے ٹیکس چوری کے خلاف اب تک کے مقابلے میں بالآخر زیادہ ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ بچتی اقدامات اور ٹیکس چوری کے اسکینڈلز کے دور میں حکومتوں پر اس سلسلے میں اقدامات کرنے کے لیے رائے عامہ کا بہت دباؤ ہے۔ آئندہ ان ممالک نے ٹیکس چوری کا سراغ لگانے کے لیے آپس میں ڈیٹا کا تبادلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جی ایٹ ممالک ایک ایکشن پلان کے ذریعے منی لانڈرنگ پر قابو پانا چاہتے ہیں اور نئے معیارات کا تعین کرتے ہوئے گوگل جیسے بین الاقوامی اداروں کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، جو اپنے منافع کو کم ٹیکسوں والے ممالک میں منتقل کر دیتے ہیں۔
ٹیکس چوری کو روکنے کے سلسلے میں مزید ٹھوس اقدامات جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں ہوں گے، جو اس سال ستمبر میں روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں منعقد ہو گا۔
J.Spengler/aa/zb