1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

حزب اللہ کے سستے ڈرونز اسرائیلی آئرن ڈوم کے لیے بڑا چیلنج؟

شکور رحیم ژان فیلپ شولس
24 مئی 2026

حال ہی میں اربوں یورو مالیت کا اسرائیلی دفاعی نظام بظاہر چند سو یورو کے ایک چھوٹے سے ڈرون کے سامنے بے بس نظر آیا۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈرونز ریڈیو سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول کیے جا رہے ہیں۔

حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کو کم قیمت ڈرونز سے نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے
حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کو کم قیمت ڈرونز سے نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہےتصویر: Jalaa Marey/AFP

مشرق وسطیٰ میں کم قیمت فائبر آپٹک ڈرونز جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جنہوں نے جنگی توازن پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک حالیہ ویڈیو میں مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد والے ایک ڈرون کو اسرائیلی 'آئرن ڈوم‘ کی ایک بیٹری کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا، جسے ماہرین نے ایک بڑا علامتی واقعہ قرار دیا ہے۔ اسرائیل کا اربوں یورو مالیت کا یہ دفاعی نظام بظاہر ایک ایسے چھوٹے اور سستے ڈرون کے سامنے بے بس نظر آیا، جس کی قیمت چند سو یورو بتائی جاتی ہے۔

اگرچہ اس ویڈیو کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق اس کے حقیقی ہونے کا کافی امکان موجود ہے۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر لبنان میں سرگرم ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی، جسے جرمنی، امریکا اور کئی عرب ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

فائبر آپٹیکل ڈرون یوکرینی جنگ کو بھی بڑے پیمانے پر تبدیل کر چکے ہیںتصویر: DW

رپورٹوں کے مطابق اس سال مارچ سے حزب اللہ  نے اسرائیل پر حملوں کے لیے ایف پی وی (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے، جن کے ذریعے پائلٹس کو براہ راست ہدف کی ویڈیو فیڈ ملتی ہے۔ ان حملوں میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ڈرونز ریڈیو سگنلز کے بجائے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول کیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی نشاندہی کرنا اور انہیں جام کر دینا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

یہی ٹیکنالوجی روس اور یوکرین کی جنگ میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے، جہاں دونوں فریقوں نے اس کے خلاف عارضی اقدامات جیسے جال لگانا، کیبل کاٹنے یا شاٹ گن سے نشانہ بنانے جیسے طریقے اپنائے ہیں تاہم ان ڈرونز کے حملوں سے بچنے کے لیے کوئی مکمل اور مؤثر حل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی دفاعی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ ملک کی فوج اس نئے خطرے کے مقابلے کے لیے شاید اتنی تیار نہیں تھی، جتنی ہونا چاہیے تھی۔ ایک اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ بڑی افواج اکثر نئے خطرات کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں، جس سے مہنگے جنگی نظام سستے ڈرونز کے سامنے کمزور پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل کے جنگی نظاموں میں کم قیمت، مؤثر اور تیز رفتار اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی ناگزیر ہو چکی ہےتصویر: Axon Vision

یوکرین کے اسرائیل میں سفیر نے بھی اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل یوکرین کے تجربات سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا رہا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ فوج دنیا بھر کے جنگی محاذوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور ڈرونز کی وجہ سے خطرات سے نمٹنے کے لیے نئے ٹولز تیار کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو  نے بھی کہا ہے کہ ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی منصوبہ شروع کیا گیا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس میں وقت لگے گا۔

ماہرین کے مطابق مستقبل کے جنگی نظاموں میں کم قیمت، مؤثر اور تیز رفتار اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ روایتی مہنگے دفاعی نظام ہر قسم کے نئے خطرات کا مؤثر جواب دینے کے قابل نہیں رہے۔

ادارت: مقبول ملک

ہائبرڈ ڈرون، ٹیکنالوجی کو ایک نئی شکل دیتا ہوا!

03:11

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں