حلب کی جنگ جاری
7 اگست 2012
شب کے دوران 1300 شامی شہری فرار ہو کر ترکی چلے گئے۔
بھاری ہتھياروں سے ليس سرکاری فوج خاص طور پر حلب کے علاقے صلاح الدين اور جنوب مغربی علاقے پر مسلسل بمباری کر رہی ہے۔ حلب ميں مقيم اپوزيشن کا کہنا ہے کہ حلب کے تاريخی مقامات پر آج بھی جنگ جاری رہی۔ اس نے بتايا کہ طل رفعات نامی قصبے پر سرکاری فوج کی شديد گولہ باری نے سينکڑوں افراد کو تحفظ کے ليے سرحد پار ترکی فرار ہونے پر مجبور کر ديا۔
نئے پناہ گزينوں کی آمد سے ترکی آنے والے شاميوں کی تعداد 48 ہزار کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ ترکی اسد حکومت کے خلاف لڑنے والے باغيوں کے ليے ايک گڑھ بنا ہوا ہے۔
ترکی ميں ايک شامی ابو احمد نے کہا: ’’ہميں حلب ميں قتل عام کا خطرہ ہے۔ حکومت مزيد فوج لا رہی ہے کيونکہ وہ يہ سمجھتی ہے کہ اگر حلب نکل گيا تو حکومت بھی ختم ہو جائے گی۔‘‘
ايسا معلوم ہوتا ہے کہ باغی بھی کمک لا رہے ہيں۔ سرکاری فوج کے شديد حملوں کے باوجود باغی اب زيادہ پراعتماد نظر آتے ہيں اور وہ حلب کے علاوہ دارالحکومت دمشق ميں بھی زيادہ جراءت مندانہ طريقے اختيار کر رہے ہيں۔
شام ميں اغوا کنے جانے والے ايرانی زائرين کی وجہ سے، جو باغيوں کی قيد ميں ہيں، ايران ميں تشویش پائی جاتی ہے۔ ايک سينيئر ايرانی ايلچی سعيد جليلی نے دمشق ميں بشار الاسد سے ملاقات کی۔ شام کے رياستی ٹيلی وژن نے آج جليلی کو صدارتی محل ميں اسد کے ساتھ بيٹھے ہوئے دکھايا۔
باغيوں نے کہا ہے کہ تين ايرانی قيدی دمشق اور اس کے مضافات ميں سرکاری فوج کی بمباری سے ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر بمباری نہ روکی گئی تو وہ بقيہ ايرانی قيديوں کو ہلاک کر ديں گے۔
ترکی آنے والے شامی مہاجرين حلب ميں کھانے پينے کی چيزوں اور ادويات کے ناپيد ہونے کی خبر دے رہے ہيں۔
sas/aa/AP