لائیو

حملہ آور نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے تھے، آسٹریلوی پولیس

13.08.2019

Australien Messerattacke in Sydney

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں چاقو سے مسلح ایک شخص کو نصف درجن لوگوں کے ایک گروپ نے قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس حملہ آور نے ایک اکتالیس سالہ خاتون کو چاقو سے وار کر کے زخمی بھی کر دیا تھا۔

آسٹریلوی شہر سڈنی کی پولیس کے مطابق مبینہ حملہ آور سڑک پر چاقو لہراتے ہوئے 'اللہ اکبر‘ کے نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ مجھ کو گولی مار دی جائے۔ تاہم ابھی اس شخص کی ذہنی حالت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے بعد ہی تعین کیا جائے گا کہ حملہ آور کی سیاسی اور مذہبی سوچ کیا تھی۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق جس مبینہ شخص کو پولیس کی تحویل میں دیا گیا ہے، وہ سڈنی کے ایک پرہجوم علاقے میں ایک بڑا چاقو لے کر لوگوں کو زخمی کرنے کی کوشش میں تھا۔ ملکی میڈیا پر ایسی فوٹیج بھی دکھائی گئی، جس میں حملہ آور کو 'اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے ہوئے  دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس کی بھاری نفری سڈنی شہر کے کاروباری علاقے میں تفتیشی عمل میں مصروف رہی

مبینہ حملہ آور اور دماغی خلل

سڈنی پولیس نے حملہ آور کی عمر اکیس برس بتائی ہے اور ممکنہ طور پر اس کے دماغ میں خلل ہے۔ پولیس کو اس مناسبت سے طبی ریکارڈ بھی مل گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس شخص نے اس سے پہلے ایک خاتون کو ہلاک بھی کر دیا تھا اور اُس کے بعد ہی وہ چاقو سے حملے کرنے کی کوشش میں تھا۔ پولیس نے اس کے ہاتھوں زخمی ہونے والی دوسری خاتون کی حالت کو مستحکم قرار دیا ہے۔

آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ ابھی تک اس مبینہ ملزم کے کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ پولیس کمشنر کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص کے ذہن پر امریکا میں نسل پرستانہ حملے کے علاوہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر کیے گئے حملوں کے اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

حملہ آور جس علاقے میں سرگرم تھا، وہاں سے ایک جوان لڑکی کی نعش بھی ملی ہے

عام شہریوں کی مثالی بہادری

اس چاقو بردار شخص کو نصف درجن کے قریب عام شہریوں نے مزید افراد پر حملے کرنے سے روکنے کی کامیاب کوشش کی۔ انہی افراد نے اس شخص کو گرا کر اپنی گرفت میں بھی لے لیا تھا۔ اس کو گرانے کے لیے ایک کرسی اور پلاسٹک کا ایک کریٹ استعمال کیے گئے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے سڈنی کے ان شہریوں کو ملکی ہیرو قرار دیا ہے، جنہوں نے اس چاقو بردار ملزم کو قابو کر کے پولیس کے حوالے کیا۔ موریسن نے بھی مبینہ ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ انہوں نے اس حملے سے خوف زدہ ہونے والے افراد اور زخمی ہونے والی خاتون کے ساتھ بھی ہمدردی کا اظہار کیا۔

حملہ آور کی کارروائی کے بعد سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا

سڈنی کی ایک فرم کے چار ملازمین

 سڈنی شہر کی ایک کنسلٹینسی فرم کے چار ملازمین نے اپنے دفتر میں سے اس مسلح شخص کو دیکھا اور پھر وہ بھاگتے ہوئے دفتر سے باہر نکل کر اس گروپ میں شامل ہو گئے جنہوں نے حملہ آور کو اپنے گھیرے میں لیا۔ ان میں ایک سے کولمبین نژاد الیکس رابرٹس، دو برطانوی شہری لی کوٹہبرٹ اور بھائی پال کے علاوہ لُوک نامی شخص خاص طور پر آگے آگے تھے۔

پال کوٹہبرٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ الیکس رابرٹس کے مطابق اُن کے ساتھیوں نے فوری طور پر دفتر سے نکل کر حملہ آور کا تعاقب کیا حالانکہ ہر طرف خوف پھیلا ہوا تھا۔

ع ح، م م ⁄ اے ایف پی، ڈی پی اے

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک

آسٹريلوی پوليس نے منگل 16 دسمبر کو علی الصبح کارروائی کرتے ہوئے سڈنی کے ايک کيفے ميں متعدد افراد کو يرغمالی بنانے والے حملہ آور کو ہلاک کر ديا اور يرغماليوں کو رہا کرا ليا ہے۔

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
24 گھنٹے سے جاری یرغمالی ڈرامے کا ڈراپ سین

حملہ آور نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے ’مارٹن پليس‘ ميں واقع لنڈٹ نامی کمپنی کے ايک کيفے میں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ منگل کو علی الصبح سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں حملہ آور اور دو ديگر افراد ہلاک ہوئے۔

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
ہلاک شدگان میں کیفے کا مالک بھی شامل

ہلاک ہونے والوں ميں 34 سالہ کيفے کا مالک اور ايک 38 سالہ عورت شامل ہيں۔ ايک پوليس اہلکار سميت چار افراد زخمی بھی ہوئے، جو اِس وقت زير علاج ہيں۔

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
آپریشن سے قبل چھ افراد کیفے سے نکلنے میں کامیاب

منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے چھ افراد کیفے سے بچ نکلنے میں کامياب ہو گئے۔ اِس کے فوری بعد کئی پوليس اہلکار کيفے ميں داخل ہوگئے۔

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
حملہ آور ایرانی نژاد شخص

پوليس ذرائع کے مطابق حملہ آور ايک ايرانی نژاد شخص تھا، جس کا نام ہارون مونس تھا۔ ماضی ميں اُس پر نہ صرف جنسی حملے کی فرد جرم عائد کی جا چکی ہے بلکہ وہ آسٹریلوی فوج کے کنبوں کو نفرت آمیز خطوط بھی ارسال کر چکا ہے۔

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
حملہ آور انتہا پسند سوچ کا حامل

آسٹريلوی وزير اعظم ٹونی ايبٹ کے مطابق حکام اِس حملہ آور سے واقف تھے اور وہ انتہا پسند سوچ کا حامل اور ذہنی عدم استحکام کا شکار تھا۔

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
کُل 17 یرغمالی

اب تک مجموعی طور پر 17 يرغماليوں کے بارے ميں حتمی معلومات سامنے آ چکی ہيں، جن ميں پانچ وہ افراد بھی شامل ہيں، جو پير کے روز ہی فرار ہونے ميں کامياب ہو گئے تھے۔

سڈنی کے کیفے میں کارروائی، یرغمالی رہا، حملہ آور ہلاک
انسانی جانوں کے زیاں کے خدشے کے باعث کارروائی

آسٹريلوی رياست ’نيو ساؤتھ ويلز‘ کے پوليس کمشنر اينڈرو اسکيپوئن نے پريس کانفرنس میں بتايا کہ کارروائی کرنے کا فيصلہ اِس ليے کيا گیا کیونکہ اُنہيں خدشہ تھا کہ اگر اُس مخصوص وقت کارروائی شروع نہ کی گئی، تو انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

1
| 8