1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امارات میں پاکستانیوں کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے، پاکستان

جاوید اختر (اے پی پی کے ساتھ)
22 مئی 2026

شہباز شریف حکومت نے کہا کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ڈی پورٹیشن کی کچھ کارروائیاں یو اے ای حکام کے انتظامی اقدامات کا حصہ ہیں۔

پاکستانی وزیر نے بتایا کہ دو ملین سے زائد افراد پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی متحدہ عرب امارات کی دوسری بڑی غیر ملکی برادری ہے
پاکستانی وزیر نے بتایا کہ دو ملین سے زائد افراد پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی متحدہ عرب امارات کی دوسری بڑی غیر ملکی برادری ہےتصویر: Dreamstime/IMAGO

پاکستان کے وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو سینیٹ کو بتایا کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پاکستانیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ ہونے والے ڈی پورٹیشن کیسز یو اے ای حکام کی جانب سے کیے گئے انتظامی اقدامات کا حصہ ہیں۔

متعدد اپوزیشن لیڈروں نے ان خبروں پر شدید تشویش ظاہر کی تھی جن کے مطابق متحدہ عرب امارات سے بڑے پیمانے پر پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹیڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اپریل کے درمیان تقریباً 3,494 پاکستانیوں کو یو اے ای سے ڈی پورٹ کیا گیا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس تعداد میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو مختلف قانونی اور انتظامی مقدمات میں ملوث تھے، اس لیے اسے پاکستانیوں کے خلاف کسی امتیازی پالیسی سے براہِ راست نہیں جوڑا جا سکتا۔

پاکستانی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی مشنز نے یو اے ای حکام کے ساتھ رابطے کے بعد بے دخل کیے گئے شہریوں کے لیے ہنگامی سفری دستاویزات جاری کیے تاکہ حکومت ڈی پورٹ کیے گئے افراد کا ریکارڈ برقرار رکھ سکے۔

ان کے مطابق کئی افراد ایسے تھے جنہوں نے یا تو اپنی جیل کی سزائیں مکمل کر لی تھیں یا یو اے ای قوانین کے تحت انتظامی خلاف ورزیاں کی تھیں۔

متعدد اپوزیشن لیڈروں نے ان خبروں پر شدید تشویش ظاہر کی تھی جن کے مطابق متحدہ عرب امارات سے بڑے پیمانے پر پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیںتصویر: AP

معاملہ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر ایسی خبریں گشت کر رہی ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے بڑے پیمانے پر پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی شہریوں کی اس مبینہ بے دخلی کے معاملے پر جمعرات کو سینیٹ میں گرما گرم بحث ہوئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یو اے ای کے ساتھ فوری سفارتی رابطوں اور متاثرہ پاکستانی کارکنوں کے لیے قانونی معاونت کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کے دوران تقریباً 2,000 افراد کو یو اے ای سے بے دخل کیا گیا ہے، جبکہ ان کے بینک اکاؤنٹس اور مالی اثاثے بھی منجمد یا ناقابلِ رسائی ہو گئے ہیں۔

پاکستانی وزیر نے ان خبروں کی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای میں پاکستانیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے دعوے ''بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ایران-امریکہ تنازع کے باعث خطے میں کئی کاروبار اور کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

وزیر نے مزید کہا کہ یو اے ای ایک خودمختار ملک ہے جس کے اپنے قوانین اور ضوابط ہیں، اور پاکستان ان قوانین کا احترام کرتا ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کے ذریعے اپنے شہریوں کی سہولت کاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای میں پاکستانی مشن قونصلر رسائی، قانونی معاونت اور ضرورت پڑنے پر سفری دستاویزات کے اجرا کے ذریعے پاکستانی شہریوں کی فعال مدد کر رہا ہے۔

پاکستانی مہاجرین کی بے بسی

03:37

This browser does not support the video element.

پاکستان اور یو اے ای کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات

پاکستانی وزیر نے بتایا کہ دو ملین سے زائد افراد پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی متحدہ عرب امارات کی دوسری بڑی غیر ملکی برادری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات موجود ہیں۔

انہوں نے قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ دستیاب رپورٹس کے مطابق 3,494 افراد کو بے دخل کیا گیا، جبکہ درست ویزے رکھنے والے پاکستانی یو اے ای میں قانونی طور پر ملازمت کر رہے ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے تاہم کہا کہ وزارت خارجہ سے تفصیلی معلومات موصول ہونے کے بعد حکومت پارلیمنٹ میں جامع اور تصدیق شدہ اعداد و شمار پیش کرے گی۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں