1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہبنگلہ دیش

خالدہ ضیا کو ڈھاکہ میں سپرد خاک کر دیا گیا

صلاح الدین زین نیوز ایجنسیوں کے ساتھ
31 دسمبر 2025

ڈھاکہ میں نمازِ ظہر کے بعد خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ہوئی اور پھر ان کے شوہر کی قبر کے پاس ہی انہیں دفن کر دیا گیا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اور بھارتی وزیر خارجہ بھی ان کی آخری رسومات میں شامل ہوئے۔

خالدہ ضیاء
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کا طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں منگل کے روز انتقال ہو گیا تھا، جن کے جنازے میں سوگواروں کا ایک بڑا ہجوم شامل ہواتصویر: Andrew Biraj/REUTERS

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ڈھاکہ کے مانک میا ایونیو میں لاکھوں لوگ جمع ہوئے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

ان کی نماز جنازہ ظہر کے بعد ادا کی گئی، جس میں شرکت کے لیے صبح سات بجے سے ہی لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ بی این پی کے رہنما اور کارکنان ڈھاکہ کے مختلف حصوں اور ملک کے دیگر اضلاع سے ان کی تعزیت کے لیے پہنچے۔

خالدہ ضیا کا طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں منگل کے روز انتقال ہو گیا تھا، جن کے جنازے میں سوگواروں کا ایک بڑا ہجوم شامل ہوا اور اس کی وجہ سے پورا ڈھاکہ شہر ایک طرح سے جام ہو کر رہ گیا۔

نماز جنازہ سے عین قبل بی این پی کے قائم مقام چیئرمین اور خالدہ کے بڑے بیٹے طارق رحمان نے ڈھاکہ کے پارلیمنٹ کمپلیکس کے احاطے میں اپنی ماں کی تدفین کے دوران جمع ہونے والے پارٹی کے کارکنان سے مختصر سا خطاب بھی کیا۔

مقامی ٹیلیویژن پر نشر ہونے والے فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک خاموش ہجوم توجہ سے انہیں سن رہا ہے۔

سکیورٹی کا سخت انتظام

بدھ کی صبح کو خالدہ ضیا کے جسد خاکی ان کے بڑے بیٹے طارق رحمان کے گھر گلشن کو منتقل کیا گیا، اور پھر دوپہر میں جنازے کے لیے ان کے جسد خاکی کو پارلیمان کے پاس واقع مانک میا ایونیو میں لایا گیا، جس کے اطراف میں سکیورٹی کو پہلے سے ہی کافی سخت کر دیا گیا تھا۔

نماز جنازہ کے بعد ان کے جسد خاکی کو ڈھاکہ کے چندریما ادوان لے جایا گیا اور اسی قبرستان میں انہیں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیا الرحمان کے پہلو میں دفن کر دیا گیاتصویر: Fatima Tuj Johora/REUTERS

اس موقع پر طارق رحمان، ان کی جماعت بی این کے سرکردہ کارکنان سمیت ڈھاکہ کی انتظامیہ کے عبوری سربراہ محمد یونس بھی وہاں موجود تھے، جنہوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

قبل ازیں قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب میں چیف ایڈوائزر محمد یونس نے تین روزہ سرکاری سوگ اور ایک دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا، "سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کی وفات پر، میں ان کی نماز جنازہ کے دن تین دن کے سرکاری سوگ اور کل ایک دن کی عام تعطیل کا اعلان کرتا ہوں۔"

نماز جنازہ کے بعد ان کے جسد خاکی کو ڈھاکہ کے چندریما ادوان لے جایا گیا اور اسی قبرستان میں انہیں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیا الرحمان کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

پڑوسی ممالک کے مندوبین کی شرکت

پاکستان، نیپال، بھارت اور بھوٹان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک نے تعزیت کے اپنے کئی نمائندوں کو ڈھاکہ بھیجا ہے، جنہوں نے جنازے میں شرکت کی اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ڈھاکہ پہنچے اور طارق رحمان سے ملاقات کی تصویر: X account of India's External Affairs Minister of India @DrSJaishankar/HANDOUT/AFP

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ بدھ کی دوپہر تقریبا ڈیڑھ بجے کے قریب بی این پی کے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر  ایک پوسٹ میں اس ملاقات کی تصدیق کی گئی۔

ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کے حوالے سے بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان کے، "نائب وزیر اعظم یہاں (ڈھاکہ) آئیں گے اور جنازے میں شامل ہوں گے۔"

ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے مراسم اچھے نہیں ہیں، تاہم بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ڈھاکہ پہنچے۔ انہوں نے بھی طارق رحمان سے ملاقات کی اور بھارت کا تعزیتی پیغام پہنچایا۔

ادارت: رابعہ بگٹی

خالدہ ضیا کون تھیں؟

01:12

This browser does not support the video element.

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں