1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خواتین: بنا محرم باہر نکلنے پر پابندی

امجد علی20 جولائی 2013

افغان صدر حامد کرزئی کے ایک سرکردہ مشیر برائے مذہبی امور نے اُس فتوے کو منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں شمالی افغان صوبے بغلان کے علماء نے محرم کے بغیر خواتین کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

Frau mit Burka
تصویر: BEHROUZ MEHRI/AFP/Getty Images

افغانستان کے چوٹی کے علماء کے پینل کے ایک رکن نے کہا ہے کہ وہ بغلان صوبے کے 80 ہزار نفوس پر مشتمل شہر دہ صالح کے علماء کی جانب سے جاری کیے گئے اس فتوے میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک جائزے کے مطابق یہ 2014ء میں نیٹو دستوں کے انخلاء کے بعد ملک میں قدامت پسندی کی واپسی کی ایک اور علامت ہے۔ واضح رہے کہ ابھی چند روز پہلے امریکا کی جانب سے معاشرے میں افغان خواتین کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 200 ملین ڈالر کی مدد سے ایک نیا پروگرام جاری کیا گیا ہے۔

دہ صالح کے مقامی باشندوں اور پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین روز مرہ گھریلو ضروریات کے لیے بازاروں میں نکلتی تھیں اور کسی قسم کا مسئلہ نہیں تھاتصویر: picture-alliance/dpa

2001ء میں امریکی سرکردگی میں اقتدار سے طالبان کی معزولی سے پہلے پنج شیر کے قریب واقع دہ صالح طالبان مخالف جذبات کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ تاہم جون کے اواخر میں یہاں کے علماء نے آٹھ شقوں پر مشتمل ایک فتویٰ جاری کیا، جس میں یہ بھی کہا گیا کہ خواتین اپنے کسی مرد رشتے دار کے بغیر گھروں سے باہر نہیں جائیں گی۔ ساتھ ہی کاسمیٹکس کی تمام دکانوں کو یہ کہہ کر بند کر دیا گیا کہ وہ جسم فروشی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں تاہم پولیس اور مقامی آبادی ان الزامات کو رَد کرتی ہے۔

جمعہ 19 جولائی کو صدر کرزئی کے مذہبی مشیروں میں سے ایک اور علماء کونسل کے ایک رکن عنایت اللہ بالغ نے کہا، ’ان دکانوں کے کھلا رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ دکانیں کاروبار کے لیے ہوتی ہیں، بدکاری کے لیے نہیں‘۔ اگرچہ فتویٰ صادر کرنے کا اختیار صرف کابل میں موجود سرکردہ علماء کے پاس ہی ہے تاہم دہ صالح کے رہائشی اپنے علماء کے جاری کردہ اس فرمان کو فتویٰ ہی قرار دے رہے ہیں۔

ایک دکان کے نو عمر مالک نے اس فتوے پر زبردستی عمل کروانے کی کوشش کرنے والے ایک میئر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس فتوے میں خواتین کے محرم کے بغیر کلینک میں جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے اور انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر حکام نے ان مطالبات پر کوئی مخالفانہ ردعمل ظاہر کیا تو اُن کے خلاف جہاد شروع کر دیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ سے ہلاک ہونے والا میئر بھی اسی جہاد کے خوف سے اس فتوے پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے مطابق کرزئی دور میں خواتین کے حقوق کے لیے حاصل کی جانے والی کامیابیاں اب رفتہ رفتہ ختم ہوتی نظر آ رہی ہیںتصویر: AP

خبر رساں ادارے روئٹرز سے باتیں کرتے ہوئے ایک مقامی ڈاکٹر شاہ آغا اندرابی اور ایک پولیس کمانڈر کرنل عبدالاحد نبی زادہ نے کاسمیٹکس کی دکانوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ خواتین بغیر کسی رکاوٹ کے گھریلو ضروریات کی چیزیں خریدنے بازاروں میں آ رہی تھیں تاہم قدامت پسند حلقے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ افغانستان کے حقوقِ انسانی کے علمبردار حلقے خواتین کے تحفظ کی ناکافی کوششوں کے لیے کرزئی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسی دوران خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ہفتہ 20 جولائی کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جمعے کو صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں قبائلی رہنماؤں اور علماء نے بھی کسی محرم کے بغیر خواتین کے بازاروں میں نکلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے عالم اور قبائلی رہنما مولانا مرزاقیم نے ٹیلیفون پر بتایا:’’(اکیلے باہر نکلنے والی) خواتین فحاشی پھیلاتی ہیں اور رمضان کے مہینے میں مردوں کے روزے خراب کرتی ہیں، اس لیے یہ پابندی لگائی گئی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں