خیبر ایجنسی سے ہزارہا افراد کی مہاجرت
26 مارچ 2013
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ بدامنی کی وجہ سے دس ہزار سے زیادہ لوگ جلوزئی مہاجر کیمپ پہنچ گئے ہیں۔ مہاجرین اتنی بڑی تعداد میں جلوزئی کیمپ پہنچ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے UNHCR نے نئے آنے والوں کی رجسٹریشن سے انکار کر دیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے ترجمان عدنان خان کا کہنا ہے کہ ’نئے آنے والوں کے لیے راشن، خیمے، صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے آنے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے لیکن یو این ایچ سی آر کی جانب سے رجسٹریشن نہ کیے جانے پر عالمی ادارہ خوراک بھی تعاون نہیں کر رہا ہے‘۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے کیمپ میں پہلے سے موجود ساڑھے بارہ ہزار خاندانوں میں سے ساڑھے گیارہ ہزار خاندانوں کو راشن فراہم کیا تھا تاہم 21 مارچ کو راشن مرکز کی پارکنگ میں کار بم دھماکہ ہوا، جس میں 17افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تب سے عالمی اداروں نے راشن کی تقسیم مکمل سکیورٹی کی فراہمی کے ساتھ مشروط کر دی ہے۔
دوسری جانب خیبر ایجنسی کی سیاسی اور سماجی شخصیات نے علاقے میں فوجی آپریشن کو تیز تر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بصورت دیگر عسکریت پسند گروپ وہاں قبضہ کرنے کے بعد پشاور کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی لطیف آفریدی نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا، ’خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں بھی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ وہاں پر موجود فوج کو بر وقت اقدامات اٹھانے چاہییں۔ باڑہ سے مزید لوگ بھی نقل مکانی کریں گے۔ ان عسکری تنظیموں کے خلاف ہیں۔ انہیں بھی گھر بار چھوڑنا پڑے گا۔ وہ پشاور آئیں گے یا پھر پشاور سے بھی آگے جائیں گے، جنہیں سنبھالنا حکومت کے لیے مشکل ہو گا اور بدامنی کے اس سلسلے میں اضافہ ہو گا۔ بہتر یہی ہو گا کہ اسے روکنے کے لیے مؤثر اور بر وقت اقدامات اٹھائے جائیں‘۔
خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں گذشتہ چار سال سے کرفیو نافذ ہے، جہاں کے مختلف علاقوں سے پہلے بھی لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ کرایے کے گھر کے اخراجات برداشت نہ رکھنے والے لوگوں نے جلوزئی، توغ سرائے اور ہنگو میں صوبائی حکومت کی جانب سے بنائے گئے کیمپوں میں پناہ لی ہے۔
جلوزئی مہاجر کیمپ میں چودہ ہزار سے زايد خاندان رہائش پذیر ہیں جبکہ حال ہی میں خیبر ایجنسی کے علاقہ تیراہ سے چار ہزار مزید خاندان پناہ لینے پہنچ گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے ڈھائی ہزار افراد کی عارضی رجسٹریشن کروا کے انہیں سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
دہشت گردی کی نئی لہر کی وجہ سے خیبر ایجنسی کے علاقہ میدان سے 10ہزار سے زیادہ خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے، جنہیں انتظامیہ نے چند روز قبل علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ان میں زیادہ تر پشاور اور نواحی علاقوں میں کرایے کے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔
جلوزئی مہاجر کیمپ پہنچنے والے قبائلی پناہ گزینوں میں شامل زیادہ تر بچے اور خواتین مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔ اسی کیمپ کے ہسپتال میں موجود خاتون ڈاکٹر جمیلہ کا کہنا تھا کہ ”یہاں آنے والی 80 فیصد خواتین ڈپریشن کا شکار ہیں۔ جن حالات سے یہ گذر کر آئی ہیں، ان میں کسی کا بھائی تو کسی کا والد یا شوہر اس بدامنی کا شکار ہوا ہے۔ ان خواتین میں خون کی کمی ہے۔ ان کا مزیدکہنا ہے کہ بچے بھی خوراک کی کمی کی وجہ سے متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں‘۔
خیبر ایجنسی میں چار مختلف گروپوں میں لڑائی جاری ہے، جس میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ وہاں سے ہزاروں خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں۔ لشکر اسلام، انصار الاسلام اور طالبان کے علاوہ بعض مقامی لوگ بھی لڑائی میں شریک ہیں۔ جہاں مقامی شدت پسند تنظیمں آپس میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں، وہاں ان علاقوں میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں کے ذریعے بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے روز کی گئی بمباری کے دوران بھی سات افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ قبائلی علاقوں کا انتظام وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم قبائلی عوام وفاقی اداروں اور فاٹا سیکرٹیریٹ کے اقدامات سے نالاں ہیں۔
رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور
ادارت: امجد علی