1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

داعش کے ہزاروں قیدی شام سے عراق منتقل کر دیے، امریکی فوج

شکور رحیم روئٹرز
13 فروری 2026

عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے سکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں اور بغداد کو مالی مدد درکار ہو گی۔ امریکی فوج نے 21 جنوری کو کہا تھا کہ وہ مجموعی طور پر سات ہزار داعش قیدیوں کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

20 جنوری 2026 کو شامی صوبے الحسکہ کے قصبے الشدادہ میں جیل کے اندر قیدیوں کے پہننے والے نارنجی جمپ سوٹ بکھرے پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کپڑے اس وقت اتار کر پھینک دیے گئے جب مقامی کرد فورسز کی جانب سے رہا کیے گئے داعش کے ارکان فرار ہو گئے
20 جنوری 2026 کو شامی صوبے الحسکہ کے قصبے الشدادہ میں جیل کے اندر قیدیوں کے پہننے والے نارنجی جمپ سوٹ بکھرے پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کپڑے اس وقت اتار کر پھینک دیے گئے جب مقامی کرد فورسز کی جانب سے رہا کیے گئے داعش کے ارکان فرار ہو گئےتصویر: Bakr Al Kasem/Anadolu/picture alliance

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) نے اعلان کیا ہے کہ شام میں داعش کے قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کا مشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے سکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں اور بغداد کو مالی مدد بھی درکار ہو گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 23 روزہ منتقلی کا مشن 21 جنوری کو شروع ہوا تھا، جس کے دوران 5 ہزار 700 سے زائد بالغ مرد داعش جنگجوؤں کو شام کی حراستی تنصیبات سے عراق منتقل کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس منظم اور محفوظ کارروائی سے شام میں داعش کی دوبارہ سرگرمیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ منتقلی شمال مشرقی شام میں شامی سرکاری افواج کی جانب سے کرد قیادت میں قائم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف تیز رفتار کارروائی کے بعد شروع کی گئی۔ ایس ڈی ایف امریکہ کی اتحادی رہی ہے اور برسوں سے داعش قیدیوں اور جیلوں کی نگرانی کر رہی تھی۔

شام کے صوبے حسکہ میں قائم الحول کیمپ میں خواتین قیدیوں کا ایک گروہ گیٹ کے پیچھے سے جھانک رہا ہے، جہاں وہ اس وقت جمع ہوئیں جب شامی حکومت نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے انخلا کے بعد کیمپ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ یہ منظر 21 جنوری 2026 کو عکس بند کیا گیاتصویر: Khalil Ashawi/REUTERS

29 جنوری کو امریکا نے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کرایا، جس کے تحت کرد جنگجوؤں کو مرحلہ وار مرکزی ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کا خاکہ پیش کیا گیا۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر روئٹرز سے گفتگو میں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ اب تک تقریباً 3 ہزار قیدیوں کو عراقی جیلوں میں منتقل کیا جا چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بغداد بعض عرب اور مسلم ممالک سے رابطے میں ہے تاکہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لینے پر آمادہ ہوں۔ فواد حسین کے مطابق اگر ہزاروں شدت پسند طویل عرصے تک عراق میں رہتے ہیں تو یہ سکیورٹی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے عراق کو مختلف ممالک سے مالی معاونت کی ضرورت ہے۔

داعش نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم امریکی قیادت میں اتحاد نے پانچ برس بعد اسے بڑی حد تک شکست دی۔ اس کے باوجود تنظیم کے باقی ماندہ عناصر اب بھی سرگرم ہیں۔ امریکی فوج نے 21 جنوری کو کہا تھا کہ وہ مجموعی طور پر سات ہزار داعش قیدیوں کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ شام میں حالیہ جھڑپوں کے بعد داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عراقی سرحد کے قریب ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق شام میں بہت سے لوگ اب بھی اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔

بیس جنوری کو شامی سیکورٹی فورسز کے الرقہ شہر میں داخل ہونے پر شہری خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، یہ شہر 2017 تک داعش کا غیر اعلانیہ دارالخلافہ رہا اور پھر اس گروہ کی شکست کے بعد مقامی کرد فورسز کے پاس رہا تام جنوری میں شامی حکومت نے اس شہر پر اپنی عملداری قائم کر لی تصویر: Charles Cuau/SIPA/picture alliance

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکہ عراق کی مدد کر رہا ہے لیکن دونوں ممالک کے تعلقات میں بعض معاملات پر تناؤ موجود ہیں۔ جنوری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نواز سابق وزیر اعظم نوری المالکی کو دوبارہ منتخب کیا گیا تو واشنگٹن تعاون ختم کر سکتا ہے۔

فواد حسین نے کہا کہ عراق ان اشاروں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، تاہم یہ ایک داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی فوجیوں کا عراق سے انخلا 2026 کے اختتام تک متوقع ہے۔

ادارت: عدنان اسحاق

داعش اب بھی بھرتیاں کرنے کے قابل کیسے ہے؟

03:25

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں